اہم نکات:خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں واقع مسجد میں نمازِ جمعہ کے وقت شدید دھماکہ ہوا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی شدت سے مسجد کا ایک حصہ زمین بوس ہو گیا اور ملبے تلے دب کر متعدد افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ریسکیو 1122 اور سلامتی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔سیکیورٹی فورسز نے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ساتھ مل کر شواہد اکٹھے کرنے اور دھماکے کی نوعیت معلوم کرنے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کی مسجد کے اندر جمعہ کے روز نمازیوں پر ایک سنگین اور افسوسناک حادثہ پیش آیا جب نمازِ جمعہ کا خطبہ و باجماعت ادائیگی جاری تھی اور اچانک ایک شدید دھماکہ ہو گیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے نتیجے میں مسجد کا بیشتر حصہ اور چھت کا کچھ حصہ زمیں بوس ہو گیا۔ ابتدائی رپورٹوں اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد شدید افرا تفری پھیل گئی اور دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ابتدائی نقصان اور جانی و مالی تفصیلاتدھماکے کے فوراً بعد مقامی ذرائع اور ریسکیو 1122 نے تصدیق کی کہ واقعے میں کم از کم 15 افراد کی شہادت اور 50 سے زائد افراد کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ متاثرین کی بڑی تعداد جن میں پولیس اہلکار اور عام شہری دونوں شامل ہیں، ملبے تلے دب گئی۔جانی نقصان: 15 افراد کی شہادت اور 50 سے زائد کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق۔عمارت کا نقصان: مسجد کا بنیادی ہال اور ملحقہ دیواریں منہدم ہو گئیں، جس کے نتیجے میں بڑا ملبہ جمع ہو گیا۔طبی ایمرجنسی: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہاٹ اور کے ڈی اے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر کے تمام طبی عملے کو طلب کر لیا گیا ہے۔امداد اور ریسکیو آپریشنزواقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس فورس، ریسکیو 1122 اور پاک فوج کے دستے موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ریسکیو ٹیموں نے ملبے میں دبے افراد کو باہر نکالنے کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال کیا اور زخمیوں کو فوراً قریبی ہسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کیا۔ کئی شدید زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کوہاٹ ہنگو روڈ سمیت علاقے کی تمام داخلی و خارجی راہوں کو سیل کر دیا ہے اور عام شہریوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی ہے تاکہ امدادی کاموں میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔واقعے کی تحقیقات اور نوعیتبم ڈسپوزل اسکواڈ (BDS) اور کرائم سین انویسٹی گیشن کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس بات کی تصدیق کی جا رہی ہے کہ یہ دھماکہ خودکش حملہ تھا یا مسجد کے اندر پہلے سے نصب شدہ دھماکہ خیز مواد سے کیا گیا۔ پولیس لائنز جیسے حساس اور سیکیورٹی سے لیس زون میں دھماکے سے سیکیورٹی انتظام اور حفاظتی تدابیر پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں۔منظر نامہ اور خطے کے حالات کا پس منظرخیبر پختونخوا اور خاص طور پر سیکیورٹی اداروں کے دفاتر و پولیس لائنز میں مساجد کو ہدف بنانا ماضی میں بھی ایک تشویشناک رجحان رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے مراکز عام طور پر دہشت گردی کے نشانے پر رہے ہیں جن کا مقصد سیکیورٹی اداروں کے مورال کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔صوبائی حکومت اور سیکیورٹی قیادت نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کی ہدایت جاری کی ہے اور عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس قسم کی مذموم کارروائیوں میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔ فی الوقت علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور پولیس و سلامتی کے اداروں نے پورے ضلع میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپٹرولیم بحران: حکومت کا ملک گیر سمارٹ لاک ڈاؤن اور سخت بچت اقدامات کا اعلان، اہم کاروباری اوقات اور سرکاری مراعات پر پابندیاں عائد