اہم نکاتسعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف بھیجے گئے ایک دھماکہ خیز ڈرون کو فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔سعودی اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکان المالکی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و امان کے لیے شدید خطرہ قرار دیا ہے۔اس حملے کو یمن تنازعے میں ایک نیا اور تشویشناک موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی پھیلنے کا خدشہ ہے۔بین الاقوامی برادری اور مسلم ممالک نے مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی اس ناپاک کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔سعودی عرب کی عرب اتحادی افواج نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مقدس شہر مکہ مکرمہ کی طرف چھوڑے گئے ایک ڈرون کو کامیابی کے ساتھ فضا ہی میں تباہ کر دیا ہے۔ سعودی دفاعی حکام کے مطابق اس اقدام نے ایک بڑے تباہ کن حادثے اور مذہبی حیثیت رکھنے والے مقدس ترین مقام کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے بچا لیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔واقعے کی تفصیلات اور دفاعی فورسز کی کارروائیسعودی اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ شاہی سعودی ایئر ڈیفنس فورسز نے منگل کی شام ایک غیر ملکی اور خصمانہ ڈرون کو فضائی حدود میں شناسائی کے بعد فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ان کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے بھیجا گیا ڈرون ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کا ہدف مکہ مکرمہ کی حدود کے قریب کا علاقہ تھا۔ تاہم سعودی عرب کے جدید ترین رڈار اور فضائی دفاعی نظام نے بر وقت اقدام کرتے ہوئے اس خطرے کو نشانہ بنایا اور اسے زمین پر گرنے سے پہلے ہی فضا میں ناپید کر دیا۔یمن تنازع کا پس منظر اور ڈرون حملوں میں اضافہیمن میں 2014 کے بعد سے جاری داخلی جنگ میں حوثی باغیوں نے ملک کے بڑے حصے بشمول دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر رکھا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں بین الاقوامی اتحادی فوج نے مارچ 2015 میں یمن کی آئینی حکومت کی بحالی کے لیے عسکری مداخلیت کا آغاز کیا تھا۔گزشتہ چند سالوں کے دوران حوثی باغیوں کی تکنیکی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پہلے جو حملے روایتی راکٹوں اور آرٹلری تک محدود تھے، اب ان کی جگہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں نے لے لی ہے۔حملوں کے اہم اہداف: ان حملوں میں زیادہ تر سعودی عرب کے سرحدی شہر، ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات اور شہری آبادی شامل رہے ہیں۔ڈرون ٹیکنالوجی: حوثی باغیوں کے استعمال میں آنے والے ڈرونز میں سے اکثر خودکش یا دھماکہ خیز مواد سے لیس ہوتے ہیں جو کم اونچائی پر پرواز کرتے ہوئے رڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مقدس مقامات پر حملے کا اثر اور عالمی برادری کا ردعملمکہ مکرمہ مسلمان امت کے لیے دنیا کا سب سے مقدس ترین مقام ہے اور دنیا بھر سے کروڑوں مسلمان یہاں حج و عمرہ کی ادائگی کے لیے آتے ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے اس حساس علاقے کی طرف ڈرون داغنے کے عمل نے مسلم دنیا میں شدید تشویش اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔مختلف مسلم ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس اقدام کو بزدلانہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور رابطہ عالم اسلامی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ مقدس مقامات کو نشانہ بنانا تمام عالمِ اسلام کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے اور ایسے اقدامات کسی صورت قابلِ برداشت نہیں ہو سکتے۔علاقائی امن پر اثرات اور مستقبل کا منظرنامہاس تازہ ترین واقعے نے جہاں یمن جنگ کے خاتمے کی بین الاقوامی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے، وہاں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات اور خطے کے مجموعی امن و امان پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔عسکری ماہرین کے مطابق مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون بھیجنے کا بنیادی مقصد سعودی دفاعی صلاحیتوں کو پرکھنا اور نفسیاتی دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔ تاہم سعودی دفاعی افواج کی اس بروقت کارروائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی فضائی سرحدیں اور تمام حساس مقامات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔حکومتِ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں، مقیم افراد اور تمام مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی اور ایسے تمام خطرات کا جواب پوری طاقت اور حتمی عزم کے ساتھ دیا جائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپاکستان اور انڈونیشیا کا دفاعی تعاقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق، انڈونیشین نیول چیف کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔اہم نکات: