اہم نکات: اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے واضح کیا ہے کہ قانون سازوں کی گرفتاری سے قبل سپیکر کو مطلع کرنا اور اجازت لینا کوئی نیا قانون یا روایت نہیں ہے۔ اقدام کا مقصد قانون ساز ادارے اور اس کے منتخب نمائندوں کی خود مختاری اور وقار کا تحفظ کرنا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے اسپیکر اسمبلی نے انہیں اپنے موقف پر نظرِ ثانی کی ہدایت کی ہے۔ اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور آئینی حدود و قیود کا احترام تمام آئینی و انتظامی اداروں پر لازم ہے۔ پشاور (خاص رپورٹ) — خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی صوبائی رکنِ اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر سے اجازت یا پیشگی اطلاع کا طریقہ کار کوئی نیا عمل یا ڈھونڈ کر نکالا گیا راستہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایوان کے قواعد اور تاریخی روایات کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اس طریقہ کار کا بنیادی مقصد ایوان کی بالا دستی اور قانون سازوں کی خود مختاری کو یقینی بنانا ہے تا کہ سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی انتظامی مداخلت کو روکا جا سکے۔ معاملے کا پس منظر اور حالیہ تنازع حالیہ کچھ عرصے کے دوران صوبائی اور وفاقی اداروں کے درمیان سیاسی تناؤ میں اضافے کے باعث ارکانِ اسمبلی کے خلاف انتظامی اقدامات اور گرفتاریوں کا معاملہ زیرِ بحث رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے اپنے کچھ تحفظات اور نقطہ نظر کا اظہار کیا تھا جس پر صوبائی قانون ساز ایوان کی جانب سے سخت ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیرِ داخلہ کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ جمہوری اور آئینی نظام میں ایوان کے تقدس کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی قانون ساز ادارے کے رکن کی اچانک یا بغیر اطلاع گرفتاری سے نصرتِ ایوان کی کارروائی متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ عوام کے منتخب نمائندوں کے حقوق پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ قانونی اور آئینی حیثیت: طریقہ کار کی تفصیلا ت خیبر پختونخوا اسمبلی کے قواعد و ضوابط (Rules of Procedure) اور پارلیمانی روایات کے مطابق، جب بھی کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کو کسی رکنِ اسمبلی کو نامزد کر کے گرفتار کرنا مقصود ہو، تو درج ذیل طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے: پیشگی اطلاع: متعلقہ پولیس یا سیکیورٹی ادارے کو اسپیکر اسمبلی کو تحریری طور پر گرفتاری کی وجوہات اور مقدمے کی تفصیلا ت پیش کرنا ہوتی ہیں۔ اسپیکر کی اجازت: ایوان کے احاطے (Assembly Premises) یا ایوان کی کارروائی کے دوران کسی بھی رکن کو اسپیکر کی باقاعدہ اجازت کے بغیر حراست میں نہیں لیا جا سکتا۔ پروڈکشن آرڈر: اگر کوئی رکن پہلے سے حراست میں ہو تو اسپیکر کے پاس یہ آئینی اور قانونی اختیار موجود ہے کہ وہ ایوان کے اجلاس میں شرکت کے لیے اس رکن کا ‘پروڈکشن آرڈر’ جاری کرے۔ اسپیکر کے مطابق یہ تمام اصول پاکستان کی دیگر تمام صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں بھی نافذ العمل ہیں اور انہیں صرف خیبر پختونخوا کے لیے الگ سے تخلیق نہیں کیا گیا۔ ایوان کی خود مختاری کا تحفظ اسپیکر بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ “ہماری کوشش کسی مجرم کو تحفظ فراہم کرنا یا قانون کے راستے میں رکاوٹ بننا ہرگز نہیں ہے، بلکہ ایوان کی آئینی خودمختاری اور ارکان کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ قانون کا اطلاق تمام شہریوں پر یکساں ہوتا ہے لیکن قانون ساز اداروں کے طریقہ کار کا ایک خاص وقار ہے جس کی پاسداری کی جانی چاہیے۔ اگر اداروں کے درمیان باہمی احترام کا نظام ختم ہو جائے تو اس سے نہ صرف جمہوری عمل کمزور ہوتا ہے بلکہ سیاسی خلفشار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کو مشورہ اسپیکر نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے بیانات اور موقف پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنے خیالات پر دوبارہ غور کرنے اور پارلیمانی اصولوں کو بہتر طور پر سمجھنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے والے عہدے داروں کو آئینی اداروں کی حدود اور روایات کے احترام کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ حکومت اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی قائم رہے۔ انتظامی اور آئینی اثرات اس معاملے سے سیاسی اور انتظامی سطح پر چند اہم نکات سامنے آتے ہیں: وفاق اور صوبے کے تعلقات: اس قسم کے بیانات اور تحفظات سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے، خصوصاً جب دونوں جگہوں پر مختلف سیاسی جماعتی سیٹ اپ موجود ہوں۔ قانون کی حکمرانی اور ایوان کا تقدس: اداروں کو یہ توازن قائم رکھنا ہوگا کہ آئینی تحفظات قانون سے فرار کا راستہ نہ بنیں اور انتظامی کارروائیاں انتقامی کاوشیں نہ لگیں۔ مستقبل کی پارلیمانی روایات: اس تنازع کا حل آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہ کر تلاش کرنا ہی پارلیمانی جمہوری نظام کی بقا کے لیے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تجزیہ اور آئندہ کا لائحہ عمل تجزیہ کاروں کے مطابق، صوبائی اسمبلی اور وفاقی وزارتِ داخلہ کے درمیان اس قسم کے تضادات جمہوری اداروں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہیں، تاہم اس کا حل صرف گفتگو، باہمی احترام اور آئین کی پاسداری میں ہی مضمر ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے اس موقف پر سختی سے قائم رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی ایوان اپنی انتظامی حدود اور ارکان کے اختیارات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا وفاقی وزارتِ داخلہ اس طریقہ کار کو قبول کرتے ہوئے اپنے روابط کے انداز کو تبدیل کرتی ہے یا دونوں اطراف سے یہ تناؤ مزید بڑھتا ہے۔ Post navigation “بھارت نے جھوٹے پروپیگنڈے کو سفارت کاری کا نام دے دیا”: اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ کا نیو دہلی کی ریاستی پالیسی اور ماورائے عدالت قتل کے منصوبوں پر شدید اظہارِ تشویش یوکرائن جنگ کے بعد پہلی اہم پیش رفت: نیویارک میں روس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات