Preloader
India Moving Towards Indigenous Products, Design, Technology

خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • صارف سے خالق کا سفر: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ بھارت اب محض غیر ملکی ٹیکنالوجی کا استعمال کنندہ نہیں رہا بلکہ دنیا کا ابھرتا ہوا موجد اور خالق (Creator and Innovator) بن چکا ہے۔
  • مقامی ملکیت اور ڈیزائن: انڈیا موبائل کانگریس (IMC) کے دسویں ایڈیشن سے خطاب میں انہوں نے زور دیا کہ آنے والا دور وہ ہوگا جہاں پراڈکٹس، ڈیزائنز اور انٹرپرائز انٹلیکچوئل پراپرٹی (IP) کی ملکیت بھارت کے پاس ہوگی۔
  • ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری: بھارت عالمی سطح پر 5G، 6G کی تحقیق، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے میدان میں اہم پیش رفت کر رہا ہے۔
  • معاشی و تکنیکی اثرات: مقامی سطح پر ٹیکنالوجیکل مصنوعات تیار ہونے سے معیشت مضبوط ہوگی، ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بیرون ملک انحصار میں ڈرامائی کمی آئے گی۔

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ):

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا موبائل کانگریس (IMC) کے دسویں ایڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بھارت ٹیکنالوجی کے ایک عام صارف کی حیثیت سے آگے نکل کر اب عالمی سطح پر ایک اہم خالق اور جدید تر ایجادات کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک اب ایک ایسے مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن ہے جہاں ٹیکنالوجی پروڈکٹس اور ان کے ڈیزائنز نہ صرف مقامی سطح پر تیار کیے جائیں گے بلکہ ان کے پیچھے موجود تکنیکی بنیادی ڈھانچہ اور انٹلیکچوئل پراپرٹی (IP) کے جملہ حقوق بھی بھارت کی ملکیت ہوں گے۔

انڈیا موبائل کانگریس ایشیا کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی فورم شمار کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر سے ٹیلی کام کمپنیوں، پرزہ جات بنانے والے اداروں، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم کا خطاب بھارت کے معاشی، تکنیکی اور صنعتی وژن کا آئینہ دار تھا، جس نے ‘میک ان انڈیا’ اور ‘ڈیجیٹل انڈیا’ کے اگلے مرحلے پر روشنی ڈالی۔

صرف کنزیومر نہیں بلکہ انوویٹر: بھارتی وژن کی تبدیلی

اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم مودی نے بھارت کی ڈیجیٹل اور تکنیکی ترقی کے تاریخی سفر کا احاطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چند دہائیاں قبل تک بھارت غیر ملکی ٹیکنالوجیز اور درآمد شدہ ڈیوائسز کا محض ایک بڑا خریدار تھا، لیکن حالیہ سالوں میں کیے گئے اصلاحاتی اقدامات اور مقامی صنعت کی سرپرستی نے اس منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

“ہمیں ایک ایسا ماحولیاتی نظام (Eco-system) قائم کرنا ہے جہاں ملک میں استعمال ہونے والی مصنوعات کا ڈیزائن بھی بھارت میں تیار ہو، اس کے پارٹس اور سیمی کنڈکٹر چپس بھی مقامی بنیادوں پر بنیں، اور اس ٹیکنالوجی پر حقِ ملکیت (IP Rights) بھی بھارتی ماہرین کے پاس ہو۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تبدیلی محض تجارتی مقاصد کے لیے نہیں بلکہ قومی سلامتی، سائبر سیکیورٹی اور خود انحصاری کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

پس منظر: ڈیجیٹل انڈیا اور ‘میک ان انڈیا’ کی دہائی

بھارت کے ٹیکنالوجی کے شعبے میں موجودہ سفر کو سمجھنے کے لیے گزشتہ ایک دہائی میں شروع کیے گئے پالیسی اقدامات پر نظر ڈالنا ضروری ہے:

  1. موبائل مینوفیکچرنگ میں انقلاب: سال 2014 میں بھارت میں محض دو موبائل فون بنانے والے یونٹس قائم تھے، جبکہ آج بھارت دنیا کا دوسرا بڑا موبائل فون بنانے والا ملک بن چکا ہے۔ عالمی برانڈز نے اپنے پیداواری مراکز بھارت منتقل کیے ہیں۔
  2. پروڈکشن لنکڈ انسنٹو (PLI) سکیم: حکومت کی جانب سے الیکٹرانکس، ٹیلی کام آلات اور سیمی کنڈکٹر چپس بنانے والی کمپنیوں کے لیے اربوں ڈالر کا مالیاتی ترغیبی پیکیج فراہم کیا گیا، جس سے عالمی اور مقامی کمپنیوں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔
  3. ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (DPI): یونائیٹڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI)، آدھار (Aadhaar) اور ڈیجیٹل لاکر جیسے سسٹمز نے بھارت کی نچلی سطح تک ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کو ممکن بنایا، جس نے دنیا بھر کے معاشی ماہرین کی توجہ حاصل کی۔

اہم تکنیکی اشاریے اور اعداد و شمار

انڈیا موبائل کانگریس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اور جاری پیش رفت کا خاکہ درج ذیل نکات میں دیکھا جا سکتا ہے:

شعبہ / اشاریہموجودہ صورتحال اور حاصل کردہ اہداف
موبائل فون مینوفیکچرنگبھارت میں پیدا ہونے والے اسمارٹ فونز میں مقامی طور پر تیار کردہ پرزہ جات کی شرح میں ڈرامائی اضافہ۔
5G نیٹ ورک کی توسیعدنیا میں سب سے تیز رفتار سے 5G رول آؤٹ کرنے والے ممالک میں شامل؛ کروڑوں صارفین فعال۔
سیمی کنڈکٹر مشنمتعدد سیمی کنڈکٹر فیبریکیشن (Fab) اور اسمبلی یونٹس کی تعمیر جاری، جس سے چپس کی مقامی پیداوار ممکن ہوگی۔
انٹلیکچوئل پراپرٹی (IP Patents)ٹیلی کام، AI اور 6G کے میدان میں بھارتی انجینئرز کی جانب سے پیٹنٹ کی درخواستوں میں زبردست اضافہ۔

عالمی سطح پر اثرات اور آٹومیٹک انٹلیکچوئل پراپرٹی کی اہمیت

دنیا بھر کی تکنیکی انڈسٹری میں انٹلیکچوئل پراپرٹی (IP) کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے۔ کسی ڈیوائس یا پرزے کی محض اسمبلی (Assembly) کرنے سے ملکی معیشت کو محدود منافع ملتا ہے، لیکن جب اس ڈیوائس کا ڈیزائن اور تکنیکی پیٹنٹ کسی ملک کے پاس ہوتا ہے تو وہ تمام تر مالیاتی فوائد اور عالمی قیادت کا حامل بن جاتا ہے۔

وزیر اعظم کے خطاب کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ بھارتی انوویٹرز کو اسمبلی سے آگے بڑھ کر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) پر توجہ دینی چاہیے۔ بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس (Startups) قائم ہو چکے ہیں جو نہ صرف مقامی مسائل کا تکنیکی حل پیش کر رہے ہیں بلکہ عالمی مارکیٹ کے لیے بھی اپلیکیشنز اور سافٹ ویئر ڈیزائن کر رہے ہیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل: 6G، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سیمی کنڈکٹر

آنے والے دور کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے بھارت کی توجہ اب درج ذیل ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر مرکوز ہے:

  • 6G ریسرچ: 5G کے کامیاب نفاذ کے بعد بھارت 6G ٹیکنالوجی کے معیار مقرر کرنے والے عالمی اداروں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے تاکہ مستقبل کا ترسیلی نظام ہندوستانی ریسرچ کی بنیاد پر ہو۔
  • آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI المشن): اے آئی کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں میں AI ماڈلز کی تیاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
  • ڈیٹا سیکیورٹی اور ہارڈویئر سیکیورٹی: جب ہارڈ ویئر اور اس کا ڈیزائن مقامی بنیادوں پر بنے گا تو ڈیٹا کی چوری اور بین الاقوامی سائبر حملوں کے خدشات کو کافی حد تک ختم کیا جا سکے گا۔

تکنیکی و معاشی حلقوں کا ماننا ہے کہ انڈیا موبائل کانگریس میں دیے گئے اس وژن پر اگر مسلسل اور پائیدار عملدرآمد جاری رہا تو بھارت محض ایک بڑی تکنیکی مارکیٹ نہیں رہے گا، بلکہ 21ویں صدی کا ایک اہم ٹیکنالوجی ہب بن کر ابھرے گا۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔