انورزیب خان پشاور۔۔ گورنر راج ائینی اور قانونی راستہ ہے جس پر مشاورت جاری ہے۔ پورا صوبہ دہشت گردی کی اگ میں جل رہا ہے لیکن خیبر پختون خواہ کے حکمرانوں کو قیدی نمبر 804 کے چھڑانے کی پڑی ہوئی ہے۔ افغانستان اور طالبان سے مذاکرات کی بات کر کے پی ٹی ائی کی صوبائی حکومت نے سٹیٹ ود ان سٹیٹ بنانے کی کوشش کی ہے۔ماضی میں عمران خان پر جعلی حملے کیے گئے اور تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ان حملوں میں تمام ربڑ کی گولیاں استعمال کی گئیں۔لانگ مارچ کے نام پر منشیات سے بھری گاڑیاں پنجاب لے جائی جا رہی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن خیبر پختون خواہ کے صدر اور وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام کی پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس خیبر پختون خواہ میں گورنر راج کو فیصل کویم کنڈی ہی لیڈ کریں گے۔ پشاور ۔ پی ٹی ائی کی ناکام حکومت کی وجہ سے خیبر پختون خوا کے موجودہ حالات کے مطابق گورنر راج ائینی و قانونی راستہ ہے۔ سہیل افریدی لانگ مارچ کرنے کی بجائے جیل جانے کی تیاری کریں۔ لانگ مارچ اور کارکنوں کے نام پر ٹھیکے داروں سے اربوں روپے چندے کے نام پر اکٹھے کیے گئے۔ اور قربانیاں دینے والے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو غنڈوں کے نام پر یاد کیا گیا جو شرم کا مقام ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ نواز خیبر پختون خوا کے صوبائی صدر اور وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے پارٹی کی صوبائی قیادت کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ امیر مقام نے کہا کہ پارٹی کے نام پر لوٹ مار کرنے والے سہیل افریدی لانگ مارچ پر جانے کی بجائے جیل جانے کی تیاری کریں۔ گورنر راج ائینی اور قانونی راستہ ہے جس پر مشاورت جاری ہے۔ اور خیبر پختون خواہ میں گورنر راج کو فیصل کریم کنڈی ہی لیڈ کریں گے۔ امیر مقام نے کہا کہ لانگ مارچ کے نام پر ٹھیکے داروں سے اور عوام سے اربوں روپے کے چندے اکٹھے کیے گئے۔ جس کا کوئی ریکارڈ نہیں اور یہ رقم جیبوں میں ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ہر شخص دہشت گردی کا شکار بن رہا ہے لیکن پی ٹی ائی جو کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے کھلم کھلا پھر رہی ہے۔ امیر مقام نے کہا کہ پورا صوبہ دہشت گردی کی اگ میں جل رہا ہے لیکن خیبر پختون خواہ کے حکمرانوں کو قیدی نمبر 804 کے چھڑانے کی پڑی ہوئی ہے۔ 27 ستمبر کے لیے کوئی تیاریاں نہیں کی گئیں تھی چار اکتوبر کو بھی کوئی مارچ نہیں ہوگا۔ پی ٹی ائی کے پاس کوئی ایسی شخصیت نہیں جو وزیراعلی کی سیٹ پر بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیراعلی جاتا ہے اور دوسرا اتا ہے اور ایسی شخصیات کو منتخب کیا جاتا ہے جو کونسلر بننے کے بھی حقدار نہیں ہوتے۔ سہیل افریدی مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن مرکز قیدی نمبر 804 پر کوئی مذاکرات نہیں کریگی، قیدی نمبر 804 کی قسمت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور طالبان سے مذاکرات کی بات کر کے پی ٹی ائی کی صوبائی حکومت نے سٹیٹ ود ان سٹیٹ بنانے کی کوشش کی ہے۔ قوم کی خاطر قربانیاں دینے والے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو غنڈا گردی کے القاب سے پکارا جا رہا ہے جو بہت افسوس کا مقام ہے۔ اور دیکھنے میں ایا ہے کہ نہ تو وزیراعلی اب ہم دھماکوں میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں اور نہ عوام کے جنازوں میں وہ صرف قیدی نمبر 804 کو چھڑانے کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ماضی میں عمران خان پر جعلی حملے کیے گئے اور تحقیقات سے ثابت ہوا کہ وہ تمام ربڑ کی گولیاں استعمال کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ائی وہی جماعت ہے جو دہشت گردی میں ملوث طالبان کو پاکستان لے کے ائے اور پھر ان کے دفاتر کھولنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عوام کو مرعات دینے کی بجائے پاکستان تحریک انصاف خیبر پختون خوا کے وسائل اور ٹیکسوں کا پیسہ جلسے جلوسوں پر لگا رہی ہے۔ خیبر پختون خواہ کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ سہولیات کے لیے دیا تھا جبکہ اج خیبر پختونخوا کے عوام کا ووٹ ان کے گلے پڑا ہوا ہے اور وہ تکالیف اور قدمنی میں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی ائی کی صوبائی حکومت کا پولیس ایکٹ مکمل طور پر ڈرامہ ہے تاکہ اپنی مرضی سے تھانوں کے ایس ایچ او سے لے کے ڈی ایس پی تک کی ڈیوٹیاں لگا سکیں۔ امیر مقام نے کہا کہ بشر بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں بھی خیبر پختون خوا سے قیدی نمبر 804 کے لیے اسلام اباد میں مظاہرہ کیا گیا تھا جہاں وہ کارکنوں کو اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ اور بے یار و مددگار چھوڑے گئے پی ٹی ائی کے کارکنوں کو پولیس نے جب گرفتار کیا تو پھر ہم نے ہی خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کی ضمانتیں کی اور ان کو گھر پہنچایا۔ تو ان کی سچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ اور پارٹی کے کارکنوں کے نام پر اربوں روپے کی چند اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور جیبوں میں ڈالے جا رہے ہیں۔ امیر مقام نے کہا کہ سہیل افریدی نے چیف منسٹر ہاؤس چھوڑ کر خوب چکر کاٹے اور موبلائزیشن کی لیکن 27 ستمبر کے لئیے 400 بندے اکٹھے نہ کر سکے اور پھر 4اکتوبر کی تاریخ دے دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لانگ مارچ نہیں یہ ان کی دکانداری کا ایک ڈرامہ ہے اور ماضی میں بھی دیکھا جائے تو لانگ مارچ کے نام پر منشیات سے بھری گاڑیاں پنجاب لے جائی گئی۔ امیر مقام نے کہا کہ کوئی ائین چلے گا یا نہیں چلے گا سہیل افریدی نہیں چلے گا۔ اور سہیل افریدی کے ساتھ لوٹ مار کرنے والے ان کے حواریوں کو بھی جیل کی ہوا کھانی پڑے گی اور انہیں لوٹ مار کا پیسہ عوام کو واپس دینا ہوگا۔ Post navigation شدید مہنگائی کے دور میں انسانیت کی اعلیٰ مثال، کوٹری میں صرف 5 روپے میں پیٹ بھر کھانا مہیا کرنے والا سستا دسترخوان