Preloader
Pigs in hayatabad residential areas

اہم نکات:

  • رہائشیوں کی مشکلات: پشاور کے پوش علاقے حیات آباد کے فیز 6 اور 7 میں رات کی تاریکی میں جنگلی سوروں کی آزادانہ نقل و حرکت نے شہریوں کا جینا محال کر دیا۔
  • املاک اور سیکیورٹی کو خطرہ: جنگلی جانوروں کے گروہ نہ صرف گھریلو باغیچوں، گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ بچوں اور خواتین کی حفاظت کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔
  • عوامی مطالبات: مقامی مکینوں نے ضلعی انتظامیہ، حیات آباد برائے ترقیاتی اتھارٹی (PDA) اور محکمہ وائلڈ لائف سے ان جانوروں کو پکڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا ہنگامی مطالبہ کیا ہے۔
  • ماحولیاتی پس منظر: حیات آباد کا نزدیکی نالہ اور خیبر ایجنسی سے ملحقہ جنگلاتی سرحدی پٹی ان جانوروں کے رہائشی علاقوں کا رخ کرنے کی بنیادی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔

پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں جنگلی سوروں کی یلغار

پشاور (خاص رپورٹ): صوبائی دارالحکومت پشاور کے سب سے جدید اور پوش سمجھے جانے والے علاقے حیات آباد کے فیز 6 اور فیز 7 کے مکین ان دنوں ایک غیر معمولی اور شدید سیکیورٹی خدشے سے دوچار ہیں۔ سورج غروب ہوتے ہی حیات آباد کی مرکزی اور ذیلی سڑکوں، گرین بیلٹس اور گلیوں میں جنگلی سوروں (Wild Boars) کی ٹولیاں آزادانہ گھومتی دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث مقامی شہریوں، بالخصوص رات کو سفر کرنے والوں اور بچوں کے لیے شدید خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ جانور صرف ویران علاقوں یا نالوں تک محدود تھے، لیکن حالیہ دنوں میں ان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور اب وہ بلا جھجھک گنجان آباد رہائشی حصوں کا رخ کر رہے ہیں۔

شہریوں کو درپیش مشکلات اور املاک کا نقصان

حیات آباد کے فیز 6 اور 7 کے مکینوں کے مطابق، رات 10 بجے کے بعد گلیوں میں نکلنا انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔ یہ جنگلی سور صرف سڑکوں پر خوف پیدا نہیں کر رہے بلکہ مختلف طریقوں سے شہریوں کی ذاتی اور عمومی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں:

  1. گھریلو باغیچوں کی تباہی: خوراک کی تلاش میں یہ جانور گھروں کے باہر اور پارکوں میں لگے قیمتی پودے، گھاس اور پھولوں کی کیاریاں کھود کر تباہ کر دیتے ہیں۔
  2. گاڑیوں اور حادثات کا خطرہ: رات کے وقت سڑکوں پر یکایک سامنے آ جانے کے باعث موٹر سائیکل سواروں اور گاڑیوں کے حادثات کا خدشہ مسلسل برقرار رہتا ہے۔
  3. پیدل چلنے والوں پر حملے کا ڈر: حیات آباد کی مساجد سے نمازِ عشاء اور فجر کے بعد لوٹنے والے مصلیان، بالخصوص معمر افراد اور بچے ان جانوروں کے کسی بھی ممکنہ جارحانہ حملے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔
  4. کوڑے دانوں کی بے حرمتی: گلیوں کے کنارے رکھے کچرے دانوں کو الٹنا اور کچرا پھیلا کر علاقے میں گندگی اور تعفن کا باعث بننا اب معمول بن چکا ہے۔

جنگلی سوروں کی آبادی میں آمد کا ماحولیاتی پس منظر

حیات آباد کا جغرافیائی وقوع اس مسئلے کا بنیادی سبب ہے۔ حیات آباد کا فیز 6 اور 7 خیبر ضلع (سابقہ خیبر ایجنسی) کے پہاڑی سلسلوں اور ندی نالوں سے متصل ہے۔

ماہرینِ حیاتِ وحش (Wildlife Experts) کا ماننا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں حیات آباد کے گرد و نواح میں غیر منظم شہری آبادی کا پھیلاؤ، قدرتی راستوں کا مسدود ہونا اور ویسٹ مینجمنٹ (کچرے کو ٹھکانے لگانے) کا غیر موثر نظام ان جانوروں کو انسانوں کی آبادی کی طرف کھینچ رہا ہے۔

حالیہ عرصے میں قریبی پہاڑی علاقوں میں خوراک اور پانی کی کمی کے باعث یہ جانور ہریالی اور بچے کچھے کھانے کی تلاش میں ڈرینج نالوں (Drainage Channels) کے راستے حیات آباد کے اندرونی حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

اعداد و شمار: پاکستان میں جنگلی سوروں کے مسکن اور اثرات

پاکستان کے شمالی اور میدانی علاقوں میں جنگلی سوروں کی آبادی اور ان کے اثرات پر ایک نظر:

  • تعداد میں اضافے کی شرح: جنگلی سوروں کی نسلی افزائش کی صلاحیت انتہائی تیز ہوتی ہے۔ ایک مادہ سور سال میں 2 بار بچہ دیتی ہے اور ایک وقت میں 4 سے 8 بچوں کی افزائش کر سکتی ہے۔
  • نقصان کا تناسب: زرعی اور شہری علاقوں میں حیاتِ وحش کی مداخلت کے باعث پاکستان کے مختلف اضلاع میں سالانہ لاکھوں روپے کے بنیادی انفراسٹرکچر اور باغات کا نقصان ہوتا ہے۔
  • فعال ہونے کا وقت: یہ جانور بنیادی طور پر ‘نوکٹرنل’ (Nocturnal) یعنی شب بیدار ہوتے ہیں، اور رات 9 بجے سے صبح 5 بجے کے درمیان ان کی سرگرمیاں 90 فیصد تک بڑھ جاتی ہیں۔

محکمہ وائلڈ لائف اور ضلعی انتظامیہ کا موقف اور آپریشن کے درپیش چیلنجز

اس صورِحال پر شہریوں کے بڑھتے ہوئے احتجاج کے بعد محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا اور حیات آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (PDA) کے لیے بھی ایک انتظامی چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔

وائلڈ لائف حکام کے مطابق شہری آبادی کے اندر جنگلی جانوروں کو کنٹرول کرنا ایک حساس اور پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے۔ رہائشی علاقوں میں کھلے عام ہتھیاروں کا استعمال قانونی اور حفاظتی نقطہ نظر سے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ کسی عام شہری کو گولی لگنے کا اندیشہ رہتا ہے۔

اس کے علاوہ ان جانوروں کو پکڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر جال اور مخصوص بیہوشی کے انجیکشن کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے ٹیکنیکل ٹیموں کا متحرک ہونا لازمی ہے۔

عوامی مطالبات اور درپیش مسائل کے پائیدار حل کی تجاویز

حیات آباد کے مقامی مکینوں اور ویلفیئر سوسائٹیز کے نمائندوں نے حکومتِ خیبر پختونخوا، کمشنر پشاور اور محکمہ وائلڈ لائف سے مطالبہ کیا ہے کہ رسمی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔

مکینوں کے اہم مطالبات اور تجاویز:

  1. مخصوص ریسکیو آپریشن: محکمہ وائلڈ لائف خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر نائٹ ویژن آلات کی مدد سے ان جانوروں کو بے ہوش کر کے دور دراز کے محفوظ جنگلات میں منتقل کرے۔
  2. سرحدی باڑ اور نالوں کی ناکہ بندی: خیبر ضلع اور حیات آباد کے درمیان موجود قدرتی نالوں کے داخلی راستوں پر مضبوط لوہے کی جالی دار باڑ لگائی جائے تاکہ جانوروں کا داخلہ بند ہو سکے۔
  3. ویسٹ مینجمنٹ کی بہتری: پی ڈی اے کو چاہیے کہ فیز 6 اور 7 میں کچرے کو ڈھانپ کر رکھنے اور بروقت اٹھانے کا منظم نظام قائم کرے تاکہ خوراک کی کشش میں یہ جانور گلیوں کا رخ نہ کریں۔
  4. روشنی کا معقول بندوبست: فیز 6 اور 7 کی تمام ذیلی گلیوں اور نالوں کے اطراف سٹریٹ لائٹس کو فعال کیا جائے، کیونکہ روشن علاقوں میں یہ جانور نسبتاً کم آتے ہیں۔

ایڈیٹوریل تجزیہ: شہریوں کی حفاظت اور حیاتِ وحش کا توازن

پشاور کا حیات آباد اپنی خوبصورتی اور پُرسکون ماحول کے لیے جانا جاتا ہے، تاہم جنگلی جانوروں کی بلا خوف نقل و حرکت نے شہریوں کے آرام اور تحفظ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

صحافتی اور معروضی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مسئلہ انسان اور حیاتِ وحش کے تصادم (Human-Wildlife Conflict) کا واضح نمونہ ہے، جو غلط منصوبہ بندی اور حیاتِ وحش کے قدرتی مسکن کو نقصان پہنچانے سے جنم لیتا ہے۔

انتظامیہ کے لیے لازمی ہے کہ وہ سانحے کا انتظار کیے بغیر ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کرے۔ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کو مشترکہ لائحہ عمل بنا کر فوری طور پر حیات آباد کے فیز 6 اور 7 کو ان جنگلی جانوروں کی غارت گری سے پاک کرنا چاہیے۔