Preloader
Crackdown on illegal call centers

اہم نکات (خلاصہ)

  • بڑی کارروائی: قومی سائبر جرم انسداد ادارے (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 273 افراد کو گرفتار کر لیا۔
  • حراست میں لیے گئے افراد: گرفتار شدگان میں بڑی تعداد میں خواتین، نوجوان اور کم سن بچے بھی شامل ہیں جنہیں سائبر فراڈ میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
  • خوفناک انکشاف: تحقیقات کے دوران شہرِ قائد میں تقریباً 350 غیر قانونی اور جعلی کال سینٹرز کی موجودگی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
  • جاری کریک ڈاؤن: ادارے کی جانب سے شہر بھر میں غیر قانونی نیٹ ورکس اور مالیاتی فراڈ میں ملوث دیگر گروہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے معاشی حب کراچی میں سائبر جرائم اور مالیاتی ہیرا پھیری کے خلاف ایک بڑی اور کامیابی کارروائی دیکھنے میں آئی ہے۔ قومی سائبر جرم انسداد ادارے (این سی سی آئی اے) نے شہر میں قائم ایک انتہائی منظم اور غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر خواتین اور کم سن بچوں سمیت مجموعی طور پر 273 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس پیشرفت کے ساتھ ہی شہرِ قائد میں غیر قانونی کال سینٹرز کے ایک بڑے جال کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جس نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سائبر سیکیورٹی اور معاشی فراڈ کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

چھاپے کی تفصیلات اور این سی سی آئی اے کا اقدام

این سی سی آئی اے کے حکام کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ شہر کے ایک پوش علاقے میں ایک بڑی عمارت کے اندر بغیر کسی قانونی اجازت نامے اور رجسٹریشن کے ایک وسیع کال سینٹر چلایا جا رہا ہے۔ اس پر کارروائی کرتے ہوئے ادارے کی خصوصی ٹیموں نے اعلیٰ افسران کی زیرِ نگرانی عمارت کو گھیرے میں لے کر چھاپہ مارا۔

  • گرفتاریوں کی تعداد: موقع سے 273 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
  • خواتین اور بچوں کی شمولیت: انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد خواتین اور کم سن بچوں کی بھی ہے، جنہیں مبینہ طور پر گاہکوں سے دھوکہ دہی کے لیے بطور آپریٹر استعمال کیا جا رہا تھا۔
  • سامان کی ضبطی: چھاپے کے دوران سو سے زائد جدید کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، ایندھن پر مبنی رابطہ آلات، غیر قانونی سم کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کو تحویل میں لے لیا گیا۔

ادارے کی شروعاتی رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ این سی سی آئی اے یا متعلقہ حکومتی اداروں کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھا اور یہاں سے غیر ملکی شہریوں اور مقامی لوگوں کو دھوکہ دہی پر مبنی کالز کی جاتی تھیں۔

350 غیر قانونی کال سینٹرز کا لرزہ خیز انکشاف

اس بڑی کارروائی اور ابتدائی تفتیش کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک اور خوفناک حقیقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ معلومات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ صرف کراچی شہر میں ہی تقریباً 350 کے قریب غیر قانونی کال سینٹرز فعال ہیں جو مختلف ناموں اور بھیس میں کام کر رہے ہیں۔

  1. غیر قانونی جال: یہ کال سینٹرز بیشتر اوقات جعلی سافٹ ویئر، مالیاتی سکیموں اور آن لائن خریداری کے نام پر لوگوں کو لوٹنے میں ملوث ہیں۔
  2. سائبر سیکیورٹی کے خطرات: اتنی بڑی تعداد میں غیر قانونی دفاتر کی موجودگی سے ملک کا سائبر سیکیورٹی کا نظام شدید خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
  3. بین الاقوامی بدنامی: ان میں سے کئی مراکز بیرونی ممالک کے شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، جس سے پاکستان کا نام عالمی سطح پر متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ تمام 350 مبینہ مراکز کے خلاف ثبوت اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور مرحلہ وار کریک ڈاؤن کے ذریعے اس پورے نیٹ ورک کو ختم کیا جائے گا۔

نوکریوں کا جھانسہ اور کم سن بچوں کا استحصال

اس خبر کا سب سے زیادہ دردناک پہلو یہ ہے کہ گرفتار افراد میں کم سن بچے اور نوجوان لڑکے و لڑکیاں شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان جعلی کال سینٹرز کے مالک اور سہولت کار بے روزگار نوجوانوں کو اچھے معاوضے اور مراعات کا جھانسہ دے کر اس دلدل میں دھکیلتے ہیں۔

  • کم سن بچوں سے کام: کال سینٹر کے مالکان کم سن بچوں کی صوتی آواز اور معصومیت کا فائدہ اٹھا کر صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے انہیں استعمال کرتے تھے۔
  • معاشی مجبوری کا استحصال: ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تعلیم یافتہ لیکن مجبور نوجوانوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
  • تربیت کا نظام: ان افراد کو باقاعدہ تربیتی گائیڈز فراہم کی جاتی تھیں جن میں لوگوں سے کریڈٹ کارڈ کا ڈیٹا، پاس ورڈ اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔

مالیاتی فراڈ کا پس منظر اور عالمی اثرات

غیر قانونی کال سینٹرز کی یہ لہر صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی سائبر جرم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس طرح کے نیٹ ورکس میں عام طور پر جعلی بینک کالز، آن لائن لاٹری اور سرمایہ کاری کے سنہری موقعوں کا چکمہ دے کر عوام کو کروڑوں روپے کے مالیاتی نقصان سے دوچار کیا جاتا ہے۔

  1. بینکاری معلومات کی چوری: گاہکوں سے ان کے بینک کھاتوں کے پن کوڈز اور ذاتی معلومات حاصل کر کے رقم منتقل کر لی جاتی ہے۔
  2. غیر قانونی رقم کی ترسیل: ایسے مراکز سے کمائی گئی رقم کو غیر قانونی راستوں (حوالہ اور ہنڈی) کے ذریعے بیرونی ممالک بھیجا جاتا ہے، جس سے ملک کو معاشی نقصان ہوتا ہے۔
  3. ٹیکنالوجی کا غلط استعمال: جدید ٹیکنالوجی اور نیٹ ورکنگ کا منفی استعمال کر کے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انتظامی اقدامات، قانونی کارروائی اور مستقبل کا لائحہ عمل

این سی سی آئی اے نے واضح کیا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے اصل مالکان، سرمایہ کاروں اور سرغناؤوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

  • مقدمات کا درج ہونا: تمام گرفتار افراد اور کال سینٹر کے مالکان کے خلاف پیکا (سائبر جرم ایکٹ) اور تعزیراتِ پاکستان کی متعدد دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
  • جامع کریک ڈاؤن: ضلعی انتظامیہ، پولیس اور این سی سی آئی اے نے مشترکہ طور پر شہر کے تمام علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ باقی ماندہ کال سینٹرز کا بھی خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
  • عوامی آگاہی: حکام نے شہریوں اور بالخصوص والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ملازمتی پیشکش قبول کرنے سے قبل ادارہ کی قانونی حیثیت کی تصدیق کی ہدایت کریں تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ بننے سے بچ سکیں۔

حتمی صحافتی تجزیہ

کراچی میں 273 افراد کی گرفتاری اور 350 غیر قانونی کال سینٹرز کی موجودگی کا انکشاف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل سرگرمیوں پر کڑی اور مستقل نگہداشت کی شدید ضرورت ہے۔ سائبر جرائم اور مالیاتی فراڈ نہ صرف عام شہریوں کی محنت کی کمائی پر ڈاکا ڈالتے ہیں بلکہ اس سے ملک کا وقار اور معاشی استحکام بھی متاثر ہوتا ہے۔

قومی سائبر جرم انسداد ادارے کا یہ اقدام ایک خوش آئند اور مثبت قدم ہے، لیکن اس سلسلے کو محض ایک چھاپے تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مستقل اور شفاف نگرانی کے نظام میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کوئی بھی غیر قانونی گروہ معصوم شہریوں کا استحصال نہ کر سکے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔