Preloader
Demand for university at jacobabad

اہم نکات (خلاصہ)

  • جامعہ کا مطالبہ: جیکب آباد اسٹوڈنٹس موومنٹ نے ضلع میں اعلیٰ تعلیم کے لیے چارٹرڈ یونیورسٹی کے فوری قیام کا مطالبہ کر دیا۔
  • احتجاج کی کال: طلبہ رہنماؤں نے تعلیمی حقوق کے حصول کے لیے 5 اکتوبر کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو (SMBB) لائبریری جیکب آباد کے مقام پر پرامن احتجاجی مظاہرے ਦਾ اعلان کیا ہے۔
  • غیر سیاسی جدوجہد: تنظیم کے مطابق یہ تحرک کسی سیاسی اتحاد یا مفاد کے بجائے محض طلبہ و طالبات کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے ہے۔
  • مالی و جغرافیائی مشکلات: اعلیٰ تعلیم کے مراکز نہ ہونے کی وجہ سے ضلع کے ہزاروں طلبہ خصوصاً طالبات کو کراچی، حیدرآباد اور سکھر جیسے دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جو غریب خاندانوں کے لیے ناگزیر مالی بوجھ بن چکا ہے۔

جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ) ضلع جیکب آباد میں اعلیٰ تعلیم کے سنگین بحران، تعلیمی اداروں کی کمی اور نوجوانوں کو درپیش دشواریوں کے خلاف طلبہ کی تنظیم ‘جیکب آباد اسٹوڈنٹس موومنٹ’ نے آواز بلند کر دی ہے۔ سندھ پریس کلب جیکب آباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے بانی مشرف جکرانی، محمد کامران ڈومکی، قادر بخش بنگلانی اور تنویر پلال نے ضلع میں پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے قیام کا زوردار مطالبہ کیا ہے اور اس سلسلے میں 5 اکتوبر کو بھرپور احتجاج کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔

طلبہ رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ جیکب آباد ایک تاریخی اور گنجان آباد ضلع ہونے کے باوجود دہائیوں سے ایک مکمل اور خودمختار یونیورسٹی سے محروم ہے۔ اس محرومی نے علاقے کے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

اعلیٰ تعلیم کی عدم دستیابی: جیکب آباد کے طلبہ کو درپیش چیلنجز

جیکب آباد اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں سکول اور کالج کی سطح تک کی تعلیم کے بعد طلبہ کو ایک بہت بڑے تعلیمی خلا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے بانی مشرف جکرانی اور دیگر رہنماؤں نے تعلیمی مسائل کی تفصیلا نشاندہی کرتے ہوئے درج ذیل اہم پوائنٹس پیش کیے:

  • مالی مشکلات اور مہنگائی: ڈگری کالجز کی محدود تعداد اور یونیورسٹی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو بی ایس، ماسٹرز یا پیشہورانہ تعلیم کے لیے حیدرآباد، کراچی، جامشورو یا سکھر جانا پڑتا ہے۔ موجودہ معاشی بحران اور مہنگائی کے دور میں غریب و متوسط طبقے کے لیے دوسرے شہروں میں رہائش، ہاسٹل کے اخراجات اور تعلیمی فیسیں برداشت کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔
  • طالبات کی تعلیم میں رکاوٹ: سماجی و ثقافتی پابندیوں اور مالی وسائل کی عدم دستیابی کے باعث اکثر والدین اپنی بیٹیوں کو دوسرے شہروں میں بھیجنے سے قاصر ہیں۔ نتیجے کے طور پر، بے شمار باصلاحیت طالبات انٹرمیڈیٹ کے بعد اپنی تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
  • روزگار اور ہنر کے مواقع کی کمی: معیاری اعلیٰ تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے علاقے کے نوجوان جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر اور ڈگری حاصل نہیں کر پا رہے، جس سے علاقے میں بے روزگاری کے تناسب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

“یہ جدوجہد سیاسی نہیں، تعلیمی حق کی جنگ ہے”

پریس کانفرنس کے دوران محمد کامران ڈومکی اور قادر بخش بنگلانی نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اس تحریک کو کسی سیاسی یا ذاتی مفاد سے نہ جوڑا جائے۔ ان کا کہنا تھا:

“جیکب آباد اسٹوڈنٹس موومنٹ کی یہ جدوجہد مکمل طور پر غیر سیاسی، خالصتاً تعلیمی اور حقوق پر مبنی ہے۔ ہمارا مقصد کسی سیاسی جماعت کی مخالفت یا حمایت نہیں، بلکہ جیکب آباد کے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کا بنیادی تعلیمی حق حاصل کرنا ہے۔”

تنظیم کے دیگر اراکین کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکمرانوں اور منتخب نمائندوں نے سندھ کے اس سرحدی ضلعے کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے تعلیمی میدان میں خطہ کافی پیچھے رہ گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتِ سندھ اور محکمہ تعلیم اس اہم ضرورت کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔

5 اکتوبر کا احتجاج: تیاریوں اور حکمت عملی کی تفصیلات

تعلیمی حقوق کی اس بیداری مہم کو عملی شکل دینے کے لیے تنظیم کی جانب سے 5 اکتوبر کو ایک پرامن احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے۔

  • تاریخ: 5 اکتوبر
  • مقام: ایس ایم بی بی (SMBB) لائبریری، جیکب آباد
  • مقصد: حکومت، اربابِ اختیار اور اعلٰی حکام کی توجہ جیکب آباد میں یونیورسٹی کے قیام کی جانب مبذول کرانا۔

تنظیم نے جیکب آباد، ٹھل، گڑھی خیرو اور گرد و نواح کے تمام طلبہ، اساتذہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں، صحافیوں اور وکلاء سمیت تمام مکاتب فکر کے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ 5 اکتوبر کو ایس ایم بی بی لائبریری میں جمع ہو کر اس پرامن جدوجہد کا حصہ بنیں اور اپنے بچوں کے مستقبل کی حفاظت کے لیے آواز بلند کریں۔

پس منظر اور جائزہ: جیکب آباد کا تعلیمی بحران اور درپیش صورتحال

جیکب آباد سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ایک اہم تجارتی و جغرافیائی ضلع ہے، لیکن بنیادی سہولیات کی فراہمی کے معاملے میں یہ ہمیشہ سے زبوں حالی کا شکار رہا ہے۔ اگر خطے کی تعلیمی صورتحال کا تاریخی پس منظر دیکھا جائے تو چند تلخ حقائق سامنے آتے ہیں:

معیارموجودہ صورتحالاثرات
اعلیٰ تعلیمی ادارےضلع میں ایک بھی مکمل چارٹرڈ یونیورسٹی موجود نہیںطلبہ دوسرے اضلاع پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں
طالبات کی شرح خواندگیانٹر کے بعد ڈراپ آؤٹ کی شرح انتہائی بلنداعلیٰ تعلیم کے مواقع نہ ہونے سے خواتین کی ترقی رک جاتی ہے
معاشی بوجھدیگر شہروں میں تعلیمی اخراجاتخطے میں غربت کے باعث ہزاروں طلبہ کا تعلیمی سلسلہ منقطع

سندھ کے دیگر اضلاع جیسے کہ خیرپور، نوابشاہ، جامشورو اور سکھر میں متعدد یونیورسٹیاں اور کیمپسز قائم کیے گئے ہیں، تاہم جیکب آباد کو ہمیشہ ان سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ مقامي آبادی طویل عرصے سے مطالبہ کر رہی ہے کہ یا تو جیکب آباد میں ایک نئی خودمختار یونیورسٹی قائم کی جائے یا پھر شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور یا سکھر آئی بی اے کا ایک مکمل کیمپس یہاں قائم کیا جائے۔

حکومت اور انتظامیہ کے لیے ایڈیٹوریل نوٹ

صحافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو طلبہ کا یہ مطالبہ آئینی اور بنیادی انسانی حقوق کے عین مطابق ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ نوجوانوں کو تعلیم کی مساوی اور بہترین سہولیات فراہم کرے۔

جیکب آباد جیسے گرم اور پسماندہ علاقے میں اعلیٰ تعلیمی ادارے کا قیام نہ صرف تعلیمی انقلاب لائے گا بلکہ اس سے ارد گرد کے اضلاع مثلاً کشمور-کندھ کوٹ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے طلبہ بھی مستفید ہو سکیں گے۔ حکومتِ سندھ اور محکمہ تعلیم کو چاہیے کہ وہ 5 اکتوبر کے احتجاج کا انتظار کرنے کے بجائے طلبہ کے ان جائز مطالبات پر فوری توجہ دیں، اور جیکب آباد میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے عملی و انتظامی اقدامات کا آغاز کریں۔