Preloader
Trash and stray dogs

خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • بحران کی صورتحال: جامشورو کے صنعتی اور گنجان آباد شہر کوٹری میں میونسپل کمیٹی کی مبینہ ناکامی کے باعث گندگی، کچرے کے ڈھیر اور سیوریج کا گندا پانی گلی محلوں میں جمع ہے۔
  • صحت کا سنگین بحران: صفائی نہ ہونے سے مچھروں کی افزائش میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
  • خوفناک اعداد و شمار: ستمبر 2026 کے دوران کوٹری اور گردونواح میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے 255 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو انتظامیہ کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
  • عوامی مطالبہ: شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جامشورو، ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی سے فوری طور پر اینٹی ریبیز ویکسین کی دستیابی، مچھر مار اسپرے اور آوارہ کتوں کی تلفی کا مطالبہ کیا ہے۔

جامشورو سے نامہ نگار محمد نصیر ساگر کی بالخصوص رپورٹ

کوٹری / جامشورو: صنعتی ترقی اور سیاسی اہمیت کے حامل ضلع جامشورو کا اہم ترین شہر کوٹری اس وقت شدید بلدیاتی و سینیٹیشن بحران کا شکار ہے۔ میونسپل انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث شہر کے بیشتر رہائشی علاقے گندگی کے ڈھیروں، امڈتے ہوئے سیوریج کے پانی اور مچھروں کی آماجگاہ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس ناگفتہ بہ صورتحال نے نہ صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے بلکہ ملیریا، ڈینگی اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلنے کے خطرات میں تشویشناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔

علاوہ ازیں، شہر کی گلیوں اور اہم شاہراہوں پر آوارہ کتوں کے غول کے غول آزادانہ گھوم رہے ہیں، جس کے نتیجے میں معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کا گھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے۔ مقامی ہسپتالوں کے ذرائع اور ذرائع ابلاغ کی جمع کردہ معلومات کے مطابق ستمبر 2026 میں سگ گزیدگی (کتے کے کاٹنے) کے سینکڑوں واقعات سامنے آئے ہیں، جس نے کوٹری کے رہائشیوں کو شدہد خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔

کوٹری میں بلدیاتی ابتری اور صحت عامہ کے اعداد و شمار

کوٹری میونسپل کمیٹی کی حد میں آنے والی مختلف کالونیوں، بشمول سائٹ ایریا، غریب آباد، سکندر آباد اور پرانا کوٹری میں صفائی کے ناقص انتظامات کے اثرات اعداد و شمار کی روشنی میں درج ذیل ہیں:

  • کتے کے کاٹنے کے کیسز: صرف ستمبر 2026 کے ایک ماہ کے دوران سگ گزیدگی کے 255 کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں اکثریت کمسن بچوں اور محنت کشوں کی ہے۔
  • مچھر مار اسپرے کا فقدان: گزشتہ کئی ماہ سے متعلقہ ادارے کی جانب سے فومیگیشن (مچھر مار اسپرے) یا لاری سائیڈل آپریشن نہ ہونے سے ملیریا بخار کا پھیلاؤ عروج پر ہے۔
  • سیوریج اور ڈرینج نالیاں: نالیوں کی باقاعدہ صفائی نہ ہونے کے سبب گندا پانی سڑکوں پر کھڑا ہے، جس سے پینے کے پانی کی پائپ لائنوں میں گندا پانی شامل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
  • ویکسین کی شارٹیج کا خدشہ: بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر مقامی بنیادی صحت کے مراکز اور ڈسٹرکٹ ہسپتال میں اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) کی فراہمی پر شدید دباؤ ہے۔

مسئلے کا گہرا پس منظر: ناکافی انفراسٹرکچر اور انتظامی غفلت

کوٹری صرف ایک عام بلدیاتی شہر نہیں ہے بلکہ یہ سندو ندی کے کنارے واقع جامشورو کا صنعتی مرکز ہے جہاں ہزاروں محنت کش روزگار کی تلاش میں مقیم ہیں۔ تاہم، گزشتہ چند سالوں سے بلدیاتی اداروں کی نااہلی اور منصوبہ بندی کے فقدان نے اس شہر کو ایک بڑے کچرا کنڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔

مقامی تجزیہ کاروں اور سماجی فعالین کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی کوٹری کے پاس درکار عملہ اور بجٹ موجود ہونے کے باوجود باقاعدہ مانیٹرنگ سسٹم موجود نہیں ہے۔ کچرا اٹھانے والی گاڑیاں اکثر و بیشتر صرف مرکزی سڑکوں تک محدود رہتی ہیں جبکہ گنجان آباد اندرونی محلوں میں کچرے کے ڈھیر ہفتوں تک پڑے سڑتے رہتے ہیں۔

نمی، بارش کے کھڑے پانی اور سڑے ہوئے کچرے کے امتزاج نے مچھروں اور مکھیوں کی پیدائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کیا ہے۔ دوسری جانب، سندھ بھر کی طرح کوٹری میں بھی آوارہ کتوں کی آبادی کو سائنسی بنیادوں پر کنٹرول کرنے (جیسے نیوٹرنگ يا اینٹی ریبیز ویکسینیشن ڈرائیو) کا کوئی مستقل طریقہ کار نافذ نہیں کیا جا سکا، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں کے خدشات اور ابتر صورتحال پر ردِعمل

صورتحال کی سنگینی پر کوٹری کے مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں، تاجروں اور سماجی رہنماؤں نے شدید تشویش اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

شہر کے رہائشیوں کا کہنا ہے:

“ہم اپنے بچوں کو سکول یا گلی میں کھیلنے کے لیے بھیجتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ہر موڑ پر 8 سے 10 آوارہ کتے بیٹھے ہوتے ہیں۔ شام ہوتے ہی مچھروں کا اس قدر حملہ ہوتا ہے کہ گھروں میں بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلدیاتی ادارے مکمل طور پر بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔”

طبی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر صفائی ستھرائی کی حالت بہتر نہ کی گئی اور جراثیم کش اسپرے نہ کروایا گیا تو ملیریا اور ڈینگی کی وبا قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، کتے کے کاٹنے کے بعد بروقت اور درست ویکسین نہ ملنے کی صورت میں ‘ریبیز’ جیسی جان لیوا بیماری کے پھیلنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

عوامی مطالبات اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل

کوٹری کے عوام نے ڈپٹی کمشنر جامشورو، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ اور میونسپل کمیٹی کوٹری کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کی ابتر حالت کا فوری نوٹس لیا جائے اور درج ذیل اضطراری اقدامات کیے جائیں:

  1. میونسپل کمیٹی کی کارکردگی کا آڈٹ: کوٹری میں صفائی کا عمل یقینی بنانے کے لیے فیلڈ عملے کی حاضری اور صفائی کی مہم کا ہنگامی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے۔
  2. فومیگیشن اور اسپرے: تمام وارڈز، کالونیوں اور گنجان آباد علاقوں میں فوری طور پر اینٹی مچھر اسپرے کروایا جائے۔
  3. آوارہ کتوں کے خلاف مہم: انسانی حقوق اور سائنسی اصولوں کے مطابق آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے اور کتوں سے تحفظ کی موثر مہم چلائی جائے۔
  4. ہسپتالوں میں ویکسین کی فراہمی: کوٹری کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) اور ملیریا کی ادویات وافر مقدار میں فراہم کی جائیں۔

اگر انتظامیہ نے بروقت اقدامات نہ کیے تو شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق اور صحت کے تحفظ کے لیے احتجاجی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔