Preloader
Al khidmat foundation organized walk on national disaster day

خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • بیدار پا واک کا انعقاد: قومی یومِ تحفظِ آفات (ڈیزاسٹر نیشنل ڈے) کے موقع پر الخدمت فاؤنڈیشن جیکب آباد نے ایک جامع بیداری واک کا اہتمام کیا۔
  • اداروں کا اشتراک: واک میں ریسکیو 1122 کے ضلعی ایمرجنسی آفیسر، ان کی ٹیم اور الخدمت کے درجنوں نمائندگان و رضاکاروں نے بھرپور شرکت کی۔
  • بنیادی پیغام: ناگہانی آفات سے جانی و مالی نقصان کو کم کرنے کے لیے عوامی شعور، پیشگی تدابیر اور تربیت یافتہ رضاکاروں کا وجود لازمی ہے۔
  • مستقبل کا عزم: الخدمت فاؤنڈیشن اور سرکاری ریسکیو اداروں نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ہنگامی صورتحال کے لیے ہر وقت تیار رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جیکب آباد میں بیداری واک: عوامی شعور کی بیداری کی جانب اہم قدم

جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ) قومی یومِ تحفظِ آفات (ڈیزاسٹر نیشنل ڈے) کی مناسبت سے الخدمت فاؤنڈیشن ضلع جیکب آباد کے زیرِ اہتمام ایک باوقار اور پراثر بیداری واک کا انعقاد کیا گیا۔ اس واک کا بنیادی مقصد قدرتی و ناگہانی آفات کے دوران عوامی تحفظ، پیشگی اقدامات اور مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔

واک میں نہ صرف الخدمت فاؤنڈیشن کی ضلعی قیادت اور رضاکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی بلکہ سرکاری ریسکیو ادارے “ریسکیو 1122” کے ضلعی ایمرجنسی آفیسر اور ان کی باصلاحیت ٹیم نے بھی خصوصی طور پر شمولیت اختیار کی۔ مختلف طبقہ ہائے فکر کے افراد، سماجی کارکنان اور شہریوں نے اس واک میں شریک ہو کر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے اتحاد اور بیداری کا ثبوت دیا۔

نمایاں شخصیات اور ذمہ داران کی شرکت

بیداری واک کی قیادت الخدمت فاؤنڈیشن ضلع جیکب آباد کے صدر اقبال عادل مہر اور جنرل سیکریٹری عزیز احمد پیرزادہ نے کی۔ اس کے علاوہ دیگر اہم ضلعی ذمہ داران بشمول:

  • عبدالصمد کٹبار (نائب صدر / انتظامی ذمہ دار)
  • عبدالغنی پیرزادہ (سماجی و فلاحی امور کے نگران)
  • محمد عثمان مہر (رضاکار کور کے کوآرڈینیٹر)
  • عنایت اللہ ٹالانی (شعبہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نمائندے)
  • مشتاق احمد لغاری (تعلقات عامہ کے ذمہ دار)

ان تمام قائدین کے ساتھ ساتھ الخدمت کے نوجوان رضاکاروں اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر قدرتی آفات سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے تحریری پیغامات درج تھے۔

مقررین کا خطاب: پیشگی تیاری اور رضاکارانہ خدمات کی اہمیت

واک کے اختتام پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن اور ریسکیو 1122 کے رہنماؤں نے قدرتی آفات کے اثرات اور ان سے نبرد آزما ہونے کی حکمتِ عملی پر مفصل روشنی ڈالی۔

صدر الخدمت فاؤنڈیشن جیکب آباد اقبال عادل مہر کا کہنا تھا:

“پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے سب سے زیادہ اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں محض حادثہ رونما ہونے کے بعد امدادی کارروائیاں کرنا کافی نہیں، بلکہ سب سے اہم پیشگی تیاری (Pre-disaster Preparedness) ہے۔ ہم جتنی زیادہ تیاری کریں گے، اتنا ہی نقصان کم سے کم ہوگا اور انسانی جانیں محفوظ رہیں گی۔”

جنرل سیکریٹری عزیز احمد پیرزادہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے ہمیشہ بغیر کسی مذہبی، لسانی یا سیاسی تفریق کے بلا معاوضہ انسانیت کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریسکیو 1122 جیسے سرکاری پیشہ ورانہ اداروں کے ساتھ شراکت داری اور تعاون سے ہم ناگہانی آفت کے دوران تیز ترین رسائی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ضلعی ایمرجنسی آفیسر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 جدید الات اور تربیت یافتہ عملے کے ساتھ تیار رہتی ہے، تاہم الخدمت جیسے منظم فلاحی اداروں کے مقامی رضاکار کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فرسٹ رسپانڈر (First Responders) کا کام کرتے ہیں اور ان کا جذبہ قابلِ ستائش ہے۔

پاکستان اور بالخصوص جیکب آباد کا جغرافیائی و موسمیاتی پس منظر

اس واک کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے پاکستان اور خاص طور پر سندھ کے بالائی اضلاع بالخصوص جیکب آباد کا موسمیاتی پس منظر پیشِ نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔

  1. شدید ترین گرمی اور ہیٹ ویو (Heatwave): جیکب آباد دنیا کے گرم ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں شدید گرمیوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ موسمِ گرما میں شدید ترین ہیٹ ویو بھی ایک خاموش لیکن مہلک آفت کی صورت اختیار کر جاتی ہے جس کے لیے فوری طبعی امداد اور ہائیڈریشن کی بیداری کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
  2. سيلاب اور برسات کی تباہ کاریاں: سال 2010 اور حالیہ 2022 کے غیر معمولی مون سون سیلاب میں ضلع جیکب آباد اور اس کے مضافاتی دیہات شدید متاثر ہوئے تھے۔ ہزاروں گھر تباہ ہوئے، فصلیں بہہ گئیں اور انفراسٹرکچر مفلوج ہو کر رہ گیا۔ ایسے حالات نے یہ ثابت کیا کہ جیکب آباد جیسے اضلاع میں مسلسل ڈیزاسٹر مینجمنٹ بیداری اور مضبوط مقامی رضاکارانہ نیٹ ورک کتنا ناگزیر ہے۔
  3. زلزلے اور دیگر ناگہانی واقعات: زلزلے یا آگ لگنے جیسے حادثات میں عام شہریوں کو ایمرجنسی فرسٹ ایڈ اور انخلاء (Evacuation) کے بنیادی طریقوں سے آگاہ ہونا چاہیے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا تین مرحلہ وار فریم ورک

الخدمت فاؤنڈیشن اور ریسکیو اداروں کی جانب سے اس واک کے ذریعے شہریوں کو جن تین بنیادی مراحل سے متعلق آگاہ کیا گیا، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • مرحلہ 1: پیشگی تیاری اور بیداری (Preparedness & Awareness)
    • سیلاب یا طوفان سے قبل محفوظ مقامات کی نشان دہی۔
    • گھروں میں فرسٹ ایڈ بکس، ضروری ادویات اور پینے کے صاف پانی کا ذخیرہ رکھنا۔
    • ایمرجنسی رابطہ نمبروں (بشمول ریسکیو 1122 اور الخدمت ہیلپ لائن) کی ہر فرد تک رسائی۔
  • مرحلہ 2: فوری ریسکیو اور امداد (Immediate Rescue & Relief)
    • حادثے کے فوراً بعد پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ طریقے سے نکالنا۔
    • زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنا۔
    • عارضی قائم کردہ امدادی کیمپوں میں کھانے اور پینے کا اہتمام کرنا۔
  • مرحلہ 3: بحالی اور دوبارہ آباد کاری (Rehabilitation & Reconstruction)
    • سیلاب یا دیگر آفات کے بعد پھیپھڑوں اور جلدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے میڈیکل کیمپ لگانا۔
    • متاثرین کے لیے پائیدار مکانات کی تعمیر اور روزگار کی دوبارہ فراہم کے لیے اقدامات۔

تحفظِ آفات اور فلاحی اداروں کا کردار: ایک نظر میں

پہلوتفصیلی معلومات / کردار
ایونٹ کا نامڈیزاسٹر نیشنل ڈے کی بیداری واک
مقامضلع جیکب آباد، سندھ
مرکزی منتظمالخدمت فاؤنڈیشن ضلع جیکب آباد
کلیدی شراکت دارریسکیو 1122 (ضلعی ایمرجنسی ٹیم)
بنیادی ہدفقدرتی و ناگہانی آفات سے پہلے، دوران اور بعد کے اقدامات سے متعلق عوامی آگاہی
کلیدی توجہمقامی رضاکاروں (Volunteers) کی جدید سائنسی بنیادوں پر تربیت

مستقبل کی حکمتِ عملی اور اختتامی عزم

بیداری واک کے اختتام پر تمام شرکاء، ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں اور الخدمت فاؤنڈیشن کے ذمہ داران نے ایک مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس قسم کی آگاہی واک صرف ایک دن کے پروگرام تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے تعلیمی اداروں، یونین کونسل کی سطح اور دیہی علاقوں تک بڑھایا جائے گا۔

الخدمت فاؤنڈیشن نے اعلان کیا کہ وہ آنے والے دنوں میں سکولوں اور کالجوں کے طلباء و طالبات کے لیے ایمرجنسی رسپانس اور فرسٹ ایڈ کی تربیت (First Aid Training) کے خاص سیشنز کا آغاز کرے گی تاکہ ہر گھر میں کم از کم ایک ایسا فرد موجود ہو جو کسی بھی ناگہانی آفت میں اپنے خاندان اور پڑوسیوں کی حفاظت کر سکے۔

اس واک نے جیکب آباد کے شہریوں میں ایک نیا امید اور بیداری کا پیغام دیا ہے کہ اگر حکومت، ریسکیو ادارے اور الخدمت جیسے فلاحی ادارے مل کر کام کریں اور عوام کو تربیت فراہم کی جائے، تو بڑی سے بڑی قدرتی آفت کے جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔