اہم نکات (خلاصہ) ڈیڈ لائن کا تعین: وزیراعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری کی ہدایات پر ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے سیہون کے جاری ترقیاتی منصوبوں کو 30 دسمبر تک مکمل کرنے کا حتمی حکم دے دیا۔ عرس مبارک کی تیاریاں: حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے سالانہ عرس مبارک سے قبل درگاہ کی مرمت، روڈ نیٹ ورک اور زائرین کی سہولیات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ بنیادی ڈھانچے کی بہتری: ڈوئل کیریج وے، نرسنگ کالج، ایمرجنسی بلاک، ڈگری کالج، سوئی گیس، فائبر آپٹک اور حیسکو کی لٹکتی تاروں کو محفوظ بنانے پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ زیرو ٹالرنس پالیسی: کام کی رفتار اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے اور غیر ضروری تاخیر پر سخت کارروائی کی تنبیہ۔ جامشورو (رپورٹ: محمد نصیر ساگر) صوبہ سندھ کے تاریخی و مذہبی شہر سیہون شریف کو زائرین اور مقامی شہریوں کے لیے مزید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے وسیع پیمانے پر انتظامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری سندھ کی بالخصوص دی گئی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے سیہون شریف کا ایک اہم اور تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہر میں جاری بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور شہری سہولیات کے تمام بڑے ترقیاتی منصوبوں کا خود جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر جامشورو نے واضح کیا ہے کہ شہر میں جاری تمام منصوبوں کو ہر صورت 30 دسمبر تک مکمل کیا جائے تاکہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے سالانہ عرس مبارک کے موقع پر ملک بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین اور مقامی رہائشیوں کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔ سیہون کی مذہبی و تاریخی اہمیت اور ترقیاتی منصوبوں کا پس منظر سیہون شریف نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان اور دنیا بھر میں صوفیائے کرام کے عقیدت مندوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے سالانہ عرس مبارک کے موقع پر لاکھوں کی تعداد میں زائرین اس تاریخی شہر کا رخ کرتے ہیں۔ اتنے بڑے اجتماع کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ، بالخصوص سڑکیں، صحت عامہ کے مراکزی اور بجلی و گیس کے نظام پر شدید دباؤ آتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے شہر کے اندر سڑکوں کی تعطل کا شکار تعمیر اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں درپیش مسائل کے باعث مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ سفر کرنے والے زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ اسی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ حکومت نے تمام اہم منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کا سنگ بنیاد رکھا ہے تاکہ ان مسائل کو دائمی طور پر حل کیا جا سکے۔ جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے اپنے دورے کے دوران شہر کے مختلف شعبہ جات میں جاری تعمیراتی کاموں کا گہرائی سے معائنہ کیا اور موقع پر موجود حکام کو ہدایات جاری کیں۔ +-------------------------------------------------------------------------------+ | سیہون شریف: اہم ترقیاتی اہداف | +------------------------------------+------------------------------------------+ | منصوبہ / شعبہ | حتمی ہدایت / ہدف | +------------------------------------+------------------------------------------+ | جہاز چوک تا درگاہ بودلہ بہار روڈ | ڈوئل کیریج وے (دو رویہ) کی بروقت تکمیل | | درگاہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ | عرس سے قبل مرمت و بحالی کا کام مکمل کرنا | | سید عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ | نرسنگ کالج اور ایمرجنسی بلاک کی تعمیر | | تعلیم (بھان سید آباد) | گورنمنٹ ڈگری کالج بھان کی تعمیراتی رفتار | | سوئی سدرن گیسکمپنی (SSGC) | گیس کی نئی پائپ لائن کی فوری تنصیب | | پی ٹی سی ایل (PTCL) | فائبر آپٹک کے ذریعے انٹرنیٹ کی بحالی | | حیسکو (HESCO) | لٹکتی ہوئی خطرناک تاروں کی فوری درستگی | +------------------------------------+------------------------------------------+ 1. سڑکوں کی کشادگی اور ٹریفک کی روانی شہر میں داخلے اور درگاہ تک پہنچنے کے اہم راستے “جہاز چوک سے کالج اور درگاہ بودلہ بہار” تک سڑک کو دو رویہ (ڈوئل کیریج وے) بنانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس سڑک کی ڈبلنگ سے نہ صرف اندرونِ شہر کی ٹریفک کا ازدحام ختم ہوگا بلکہ عرس کے ایام میں زائرین کی گاڑیوں کی روانی بھی بلا تعطل برقرار رہے گی۔ 2. درگاہ عالیہ کی بحالی اور مرمت حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی درگاہ کے اندر اور اطراف میں جاری مرمتی اور بحالی کے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق مذہبی اماکن کی تقدیس اور زائرین کے لیے سایہ دار جگہوں، وضو خانوں اور نوزائیدہ بنیادی سہولیات کی بہتری پر کام جاری ہے۔ 3. صحت کے شعبے میں انقلاب: سید عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ سید عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں زیر تعمیر نرسنگ کالج اور ایمرجنسی بلڈنگ کے شاہکار منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ یہ منصوبے نہ صرف سیہون بلکہ گردونواح کے اضلاع کے لیے طبی سہولیات کا بڑا ذریعہ بنیں گے۔ 4. تعلیم کی بہتری: گورنمنٹ ڈگری کالج بھان تعلیمی میدان میں نوجوانوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج بھان کی زیر تعمیر عمارت پر کام کی رفتار بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ نیا تعلیمی سال شروع ہونے سے قبل طلبہ و طالبات کے لیے یہ ادارہ مکمل طور پر فعال ہو سکے۔ شہریوں کی بنیادی سہولیات اور سروس پرووائیڈرز کو ہدایات سیہون شریف کے عام شہریوں کو درپیش روزمرہ کے مسائل کے حل کے لیے ڈی سی جامشورو نے متعلقہ افادیت بخش اداروں (Utility Services) کو سخت ترین احکامات جاری کیے ہیں: سوئی سدرن گیس (SSGC): گیس کی نئی پائپ لائن بچھانے کے کام میں حائل رکاوٹیں دور کر کے اسے جلد مکمل کیا جائے تاکہ رہائشی علاقوں میں گیس کا پریشر بحال ہو سکے۔ پی ٹی سی ایل (PTCL): شہری حدود اور کاروباری مراکز میں فائبر آپٹک کیبل بچھانے کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ جدید انٹرنیٹ سہولیات عوام کو جلد میسر آ سکیں۔ حیسکو (HESCO): شہر کی گلیوں اور مرکزی شاہراہوں پر لٹکتی ہوئی بجلی کی خطرناک تاروں کو فوری محفوظ بنایا جائے۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے یا کرنٹ لگنے کے واقعے کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حیسکو حکام پر عائد ہوگی۔ ڈی سی کیمپ آفس میں اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس فیلڈ دورے سے قبل، ڈی سی کیمپ آفس سیہون میں ترقیاتی منصوبوں کی موجودہ پیش رفت کا حتمی جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں تمام تکنیکی محکموں کے سربراہان اور انتظامی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء: ایگزیکٹو انجینئر پراونشل ہائی ویز: امیر علی لاشاری ڈائریکٹر سید عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز: ڈاکٹر معین الدین صدیقی مختیارکار سیہون: سید عابد شاہ نمائندگان: شہباز ایریگیشن، پراونشل پبلک ہیلتھ، ایجوکیشن ورکس، میونسپل کمیٹی سیہون، اوقاف، SSGC، PTCL اور HESCO۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے غضنفر علی قادری نے واضح الفاظ میں کہا: “سیہون شریف کی ترقی اور شہریوں کی فلاح حکومتِ سندھ کی اولین ترجیح ہے۔ تمام محکمے باہمی ربط و ضبط قائم رکھیں۔ ترقیاتی کاموں میں کسی قسم کی غفلت، غیر معیاری میٹریل کا استعمال، یا 30 دسمبر کی ڈیڈ لائن سے تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔” شہریوں اور زائرین پر ممکنہ مثبت اثرات ان تمام بنیادی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے بعد سیہون شریف کے شہری و معاشی منظر نامے میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں: معاشی سرگرمیوں میں اضافہ: بہتر بنیادی ڈھانچہ اور سڑکوں کی کشادگی سے مقامی تاجروں اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ ملے گا۔ زائرین کے لیے آسانی: قلندر پاک کے عرس کے موقع پر انخلاء، ٹریفک کی روانی اور ہنگامی طبی امداد کا فرسودہ نظام جدید شکل اختیار کر لے گا۔ شہری زندگی کے معیار میں بہتری: گیس، تیز ترین انٹرنیٹ اور بجلی کے محفوظ نظام سے عوام کو درپیش طویل عرصے کی پریشانیاں ختم ہوں گی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان منصوبوں کی مسلسل مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ امسال سیہون شریف ایک نئی اور جدید صورت میں زائرین اور شہریوں کا خیرمقدم کرے گا۔ Post navigation شاہراہِ قراقرم پر نایاب برفانی چیتے کی آمد: گلگت بلتستان کے فطری حسن اور جنگلی حیات کے تحفظ کا روشن باب یمن کے مظلوم مسلمانوں پر بمباری نا قابلِ قبول، پاکستان غیر جانبدار رہتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کرے: جیکب آباد میں شدید احتجاجی مظاہرہ