اہم نکات (خلاصہ) ملک گیر یومِ احتجاج: جیکب آباد میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) اور مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے زیرِ اہتمام یمن کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مرکزی امام بارگاہ سے ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ عسکری شمولیت کی مخالفت: رہنماؤں نے حکومت اور عسکری قیادت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کسی بھی صورت یمن کی خلاف ورزی یا جنگ میں فریق نہ بنے اور فوج کو بیرونِ ملک نہ بھیجے۔ پارلیمانی بحث کا مطالبہ: خطے کی پیدا شدہ صورتحال اور خارجہ پالیسی کے تناظر میں معاملے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں زیرِ بحث لانے پر زور دیا گیا۔ ثالثی کا تجاویز: پاکستان کو کسی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد، امن اور سفارتی مفاہمت کے لیے غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی۔ جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ) ملک گیر یومِ احتجاج کے سلسلے میں سندھ کے شہر جیکب آباد میں یمن کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بین الاقوامی مداخلت کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) کے زیرِ اہتمام مرکزی امام بارگاہ و جامع مسجد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے نکالے گئے اس جلوس میں شہریوں، طلبہ اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر یمن میں جاری انسانی بحران کے خاتمے اور مظلوموں کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ مظاہرے کے شرکاء نے مشرقِ وسطیٰ میں سامراجی قوتوں کی مداخلو ں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرے کی قیادت اور مرکزی رہنماؤں کا خطاب احتجاجی مظاہرے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین (MWM) سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی، آئی ایس او ضلع جیکب آباد کے صدر برادر اظہار الحسن، سینئر شیعہ رہنما سید لعل شاہ بخاری، نثار احمد ابڑو، نظیر حسین جعفری اور دیگر مقامی رہنما کر رہے تھے۔ +-----------------------------------------------------------------------------------------+ | جیکب آباد مظاہرہ: اہم مطالبات اور موقف | +------------------------------------+----------------------------------------------------+ | شعبہ / نقطہ نظر | موقف / مطالبہ | +------------------------------------+----------------------------------------------------+ | پاکستان کا کردار | جنگ کا حصہ بننے کے بجائے غیر جانبدار ثالث بنے | | پاک فوج کی ذمہ داری | دفاعِ وطن اولین ترجیح، بیرونِ ملک جنگی استعمال سے گریز | | پارلیمانی کارروائی | یمن پالیسی پر قومی اسمبلی و سینیٹ کو اعتماد میں لیا جائے| | مذہبی ہم آہنگی | ایسی پالیسیوں سے گریز جو ملک میں فرقہ واریت کا سبب بنیں | | انسانی بحران | یمن کے لیے فوری انسانی امداد اور سیز فائر کی حمایت | +------------------------------------+----------------------------------------------------+ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے یمن کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ: “یمن کے مسلمان طویل عرصے سے شدید جنگ، بمباری اور ہولناک انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ یمنی عوام نے ہر مشکل گھڑی میں فلسطین کے مظلوموں کی آواز میں آواز ملائی ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سامراجی قوتیں اور ان کے اتحادی ان کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ اور فوجی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پاکستان کو ان تمام تر سازشوں کا درک ہونا چاہیے۔” پاک فوج کا کردار اور پارلیمان کا استحقاق علامہ مقصود علی ڈومکی نے اپنے خطاب میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاک فوج تمام پاکستانیوں کی مشترکہ اور محترم فوج ہے جس کا بنیادی فریضہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کا مقدس نام استعمال کر کے علاقائی جنگوں کو جواز فراہم کرنے کی کوششیں مناسب نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ: غیر جانبداری کا قیام: پاکستان کو مسلم ممالک کی باہمی جنگوں اور کشمکش میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ داخلی ہم آہنگی: کسی بھی ایسے فیصلے سے بچا جائے جس سے ملک کے اندر مذہبی یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ پارلیمانی منظوری: یمن یا مشرقِ وسطیٰ سے متعلق کسی بھی اہم خارجہ پالیسی کی تدوین کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر پارلیمان کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جائے۔ یمن کا بحران: پس منظر اور موجودہ عالمی صورتحال یمن کا بحران گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے خطے کا سب سے بڑا انسانی و سیاسی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی امدادی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق یمن کی آبادی کا بڑا حصہ اس وقت خوراک کی قلت، ادویات کی عدم دستیابی اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کے باعث دنیا کے شدید ترین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں بحیرہ احمر (Red Sea) اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یمن ایک بار پھر عالمی خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر غزہ اور فلسطین کی صورتحال کے بعد یمنی عوام اور انصار اللہ کی جانب سے سامنے آنے والے ردِعمل نے بین الاقوامی سطح پر نیا تناظر قائم کر دیا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی 2015 کے دوران یمن کے معاملے پر غیر جانبدار رہنے کا تاریخی پارلیمانی فیصلہ کر چکا ہے، جس میں متفقہ طور پر طے پایا تھا کہ پاکستان دو مسلم ممالک کے درمیان جنگ کا حصہ بننے کے بجائے سفارتی سطح پر مصالحت کار کا کردار ادا کرے گا۔ نوجوان نسل کا موقف اور سفارتی مفاہمت کی ضرورت آئی ایس او ضلع جیکب آباد کے صدر برادر اظہار الحسن نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے مظلوموں کی حمایت کرنا نہ صرف ہمارا دینی فریضہ ہے بلکہ اخلاقی و انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا: “پاکستان کی نوجوان نسل مظلوم یمنی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ یمن کی جانب سے کسی مقدس مقام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، بلکہ امتِ مسلمہ کو اصل خطرہ صیہونی ریاست اور سامراجی پالیسیوں سے ہے۔ پاکستان کو اس مرحلے پر امن، سفارت کاری اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے پیش قدمی کرنی چاہیے۔” تجزیہ اور علاقائی اثرات تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی میں غیر جانبداری کا عنصر ہمیشہ سے ملکی سلامتی اور داخلی استحکام کے لیے اہم رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اگر پاکستان کسی ایک فریق کا ساتھ دیتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان کی معیشت، توانائی کی ضروریات اور داخلی امن و امان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ جیکب آباد کے مظاہرے کے شرکاء نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور عسکری حکام سے مشترکہ اپیل کی ہے کہ تمام تر فیصلے قومی مفاد، اسلامی اخوت اور علاقائی استحکام کو سامنے رکھ کر کیے جائیں تاکہ پاکستان عالمی سطح پر ایک پرامن اور متوازن ملک کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے۔ Post navigation سیہون شریف میں تمام ترقیاتی منصوبے 30 دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم: ڈپٹی کمشنر جامشورو کا تفصیلی معائنہ