اہم نکات (خلاصہ) ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کا آغاز: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) نے مستحق خواتین کے لیے نئے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم سے متعلق ملک گیر آگاہی اور تربیتی مہم شروع کر دی ہے۔ رقم کے حصول میں آسانی: نیا نظام نافذ ہونے کے بعد مستحق خواتین تصدیقی ایس ایم ایس (SMS) موصول ہونے کے بعد ملک بھر میں پارٹنر بینکس کے کسی بھی مجاز ریٹیلر سے اپنی رقم حاصل کر سکیں گی۔ عملے کی صلاحیت میں اضافہ: بی آئی ایس پی کی ایڈیشنل سیکیٹری ڈاکٹر عصمت نواز نے افتتاحی تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کی کامیابی کے لیے عملے کی باقاعدہ تربیت اور مستحقین کی مکمل آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ شفافیت اور سہولت کا قیام: نئے نظام کا مقصد کٹوتیوں اور لائنوں میں لگنے کی پریشانی کو ختم کر کے رقم کی ادائیگیوں میں مکمل شفافیت اور خواتین کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔ تعارف: سماجی تحفظ کا نیا اور جدید دور پاکستان کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے ادارے ‘بینظیر انکم سپورٹ پروگرام’ (BISP) نے ملک بھر کی لاکھوں مستحق خواتین کو معاشی طور پر زیادہ خودمختار اور سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک بڑا انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ ادارے نے اپنے نئے ‘ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم’ کے کامیاب نفاذ اور استعمال کے حوالے سے ملک گیر سطح پر ایک جامع آگاہی اور تربیتی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بی آئی ایس پی سے فنڈز حاصل کرنے والی تمام مستحق خواتین نئے ڈیجیٹل طریقہ کار، اپنے حقوق اور رقم نکالنے کے مرحلہ وار طریقہ کار سے اچھی طرح واقف ہو سکیں، تاکہ انہیں ماضی میں درپیش مشکلات، ایجنٹوں کے استحصال اور لمبی قطاروں سے نجات مل سکے۔ نئے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کی اہم خصوصیات اور اعداد و شمار نیا ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مالیاتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس نئے نظام کی اہم خصوصیات اور طریقہ کار کا تفصیلی خلاصہ ذیل کے نکات میں پیش کیا جا رہا ہے: موبائل ایس ایم ایس کا طریقہ کار: مستحق خواتین کو ان کی قسط کی ادائیگی کے وقت ادارے کی طرف سے ایک تصدیقی ایس ایم ایس موصول ہوگا۔ پارٹنر بینکس کا وسیع نیٹ ورک: ایس ایم ایس موصول ہونے کے بعد مستحقین پاکستان بھر میں بی آئی ایس پی کے تمام پارٹنر بینکس کے کسی بھی منظور شدہ اور مجاز ریٹیلر (Authorized Retailer) یا ایجنٹ کے پاس جا کر رقم نکال سکیں گی۔ ملک گیر رسائی: اس نظام کے تحت شہروں اور دیہاتوں کے فرق کو ختم کر دیا گیا ہے، جس سے خواتین اپنے گھر کے قریب ترین مجاز دکان سے شفاف طریقے سے رقم حاصل کر سکیں گی۔ بائیو میٹرک تصدیق: رقم کی ادائیگی کے وقت بائیو میٹرک انگوٹھے کی تصدیق لازمی ہوگی تاکہ یہ رقم صرف اصل مستحق عورت تک ہی پہنچے۔ تربیتی سیشن سے ایڈیشنل سیکیٹری ڈاکٹر عصمت نواز کا خطاب ملک گیر تربیتی مہم کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بی آئی ایس پی کی ایڈیشنل سیکیٹری ڈاکٹر عصمت نواز نے ڈیجیٹل نظام کی افادیت اور عملے کی ذمہ داریوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئے نظام کی کامیابی کا تمام تر انحصار فیلڈ میں موجود عملے کی قابلیت، بہتر اندازِ گفتگو اور مستحق خواتین کی موثر رہنمائی پر ہے۔ انہوں نے کہا: “عملے کی موثر تربیت، صلاحیتوں میں اضافہ (Capacity Building) اور مستحق خواتین میں آگاہی پیدا کرنا اس نئے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کی کامیابی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ہمارا عملہ مستحقین کو ان کے حقوق اور نئے نظام کے استعمال کے بارے میں صحیح طریقے سے سمجھائے گا تو رقم کا حصول انتہائی آسان اور شفیف ہو جائے گا۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ ادارہ فیلڈ ستاف کو مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی روابط کی تربیت فراہم کر رہا ہے تاکہ کسی بھی مستحق خاتون کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پس منظر: ماضی کے چیلنجز اور نئے نظام کی ضرورت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا قیام 2008ء میں عمل میں آیا تھا جس کا مقصد پاکستان میں انتہائی غربت کا شکار خاندانوں بالخصوص خواتین کو مالی امداد فراہم کر کے ان کی زندگی میں بہتری لانا تھا۔ تاہم، ماضی میں نقد رقم کی تقسیم کے روایتی طریقہ کار کی وجہ سے کئی قسم کی شکایتیں عام تھیں: غیر قانونی کٹوتیاں: بعض نااہل یا بدعنوان ایجنٹ اور ریٹیلرز بے بس اور کم پڑھی لکھی خواتین کی رقم میں سے زبردستی سو، دو سو یا اس سے زائد کی کٹوتی کر لیتے تھے۔ غیر انسانی قطاریں اور بدنظمی: ادائیگی کے مراکز (Payment Centers) پر ہزاروں خواتین کو گرمی اور سردی میں گھنٹوں لائنوں میں کھڑا رہنا پڑتا تھا، جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہوتا تھا۔ محدود مراکز: خواتین کو اپنے گاؤں یا قصبے سے دور شہروں میں موجود چند مخصوص مراکز کا سفر کرنا پڑتا تھا، جس پر ان کا خاصا کرایہ اور وقت ضائع ہوتا تھا۔ ان تمام مسائل اور شکایات کا مستقل حل نکالنے کے لیے بی آئی ایس پی کی اعلیٰ انتظامیہ نے عالمی معیار کے ڈیجیٹل ادائیگی کے ماڈل کو اپنانے کا فیصلہ کیا، جس سے اب خواتین کو اپنے ہی علاقے کے پارٹنر بینکس کے کسی بھی تصدیق شدہ ایجنٹ سے آسانی سے رقم مل سکے گی۔ ملک گیر آگاہی مہم کا دائرہ کار اور اثرات اس مہم کے تحت بی آئی ایس پی کے صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی دفاتر کے ذریعے مختلف سطحوں پر سیمینارز، ورکشاپس اور واکس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر مساجد میں اعلانات، بینرز، پمفلٹس اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام فہم اردو اور علاقائی زبانوں میں معلوماتی مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ اس مہم کے متوقع اثرات کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل پیش رفت حاصل ہوگی: مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion): پاکستان کے دہی اور ششیدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی کروڑوں خواتین میں ڈیجیٹل مالیات اور بینکنگ کے عمل کی بنیادی سمجھ پیدا ہوگی۔ عزتِ نفس کا تحفظ: اب مستحقین کو لائنوں میں لگنے کے بجائے ایک باعزت اور محفوظ ماحول میں اپنی رقم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ بدعنوانی پر قابو: تصدیقی ایس ایم ایس اور بائیو میٹرک کے ذریعے کسی بھی تیسرے شخص یا بدعنوان ایجنٹ کی مداخلت ختم ہو جائے گی اور پوری رقم براہِ راست خاتون کے ہاتھ میں پہنچے گی۔ تجزیہ اور ایڈیٹوریل نوٹ بطور ایک سینئر صحافی، بی آئی ایس پی کے اس اقدام کو پاکستان میں سوشل سیفٹی نیٹ ورک (Social Safety Network) اور ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے لیے ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ کمزور طبقات بالخصوص بے سہارا خواتین کو مالی اور تکنیکی طور پر بااختیار بنانا قومی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے بھی اہم ہے۔ تاہم، اس ڈیجیٹل نظام کو واقعی مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے چند باتوں پر مسلسل نظر رکھنا لازمی ہوگا: ٹیکنیکل نقائص کی فوری اصلاح: دور دراز علاقوں میں بائیو میٹرک ڈیوائسز اور موبائل نیٹ ورکس کے مسائل کا بروقت ازالہ کیا جائے۔ سخت نگرانی: جو ریٹیلرز یا ایجنٹس خواتین کو گمراہ کرنے یا غیر قانونی کٹوتی کرنے کی کوشش کریں، ان کے لائسنس فوراً منسوخ کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ شکایات کا فوری ازالہ: 1054 کی ہیلپ لائن اور مقامی دفاتر کو فعال رکھا جائے تاکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں خاتون کو فوری مدد مل سکے۔ اگر ان پہلوؤں پر سختی سے عمل پیرا رہا جائے تو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نیا ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم نہ صرف عوامی اعتماد کو بحال کرے گا بلکہ دیگر سرکاری اداروں کے لیے بھی شفافیت کی ایک بہترین مثال بنے گا۔ Post navigation روس سے ڈیزل خریدنے کا امریکی فیصلہ: ٹرمپ اور زلنسکی کے درمیان شدید تناؤ، نیٹو اتحادیوں میں تشویش کی لہر جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی کا نئی دہلی میں کشمیری نوجوان پر مبینہ تشدد پر شدید ردعمل، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ