Preloader
Online game fraud

اہم نکات (خلاصہ)

  • آن لائن اسکیم: معروف آن لائن جوئے کی ایپلی کیشن ‘بی سی’ (BC) اور اس میں شامل ‘جہاز والی گیم’ (Crash Game) اچانک بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں صارفین کے ڈپازٹ شدہ فنڈز ڈوب گئے۔
  • گلگت بلتستان پر اثرات: گلگت بلتستان کے بے شمار نوجوان اس آن لائن فراڈ کا شکار ہوئے ہیں، جہاں ابتدائی اطلاعات کے مطابق متاثرین کو کروڑوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا ہے۔
  • تیز رفتار کمائی کا لالچ: راتوں رات امیر بننے کی خواہش، بے روزگاری اور نام نہاد فنٹیک پلیٹ فارمز کے پرکشش دعوؤں نے نچلے اور درمیانے طبقے کے نوجوانوں کو اس دلدل میں دھکیلا۔
  • قانونی و تکنیکی اقدامات کی ضرورت: ماہرین نے سائبر کرائم سے نمٹنے والے اداروں (ایف آئی اے) سے نوٹس لینے اور عوام میں آن لائن مالیاتی فراڈز کے خلاف فوری آوارہ آگاہی پیدا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

گلگت / اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) جدید ڈیجیٹل دور میں جہاں آن لائن سرگرمیاں اور فنٹیک ایپلی کیشنز روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، وہیں نام نہاد آن لائن گیمنگ اور جوئے کی پلیٹ فارمز کے ذریعے سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے کے واقعات میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں، انٹرنیٹ پر ‘جہاز والی گیم’ کے نام سے مشہور اور مقبول آن لائن بیٹنگ/جوئے کی ایپلی کیشن ‘بی سی’ (BC) یکایک بند ہو گئی ہے، جس کے باعث بالخصوص گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں نوجوانوں کے کروڑوں روپے ڈوب گئے ہیں۔

پلیٹ فارم کی ناگہانی بندش اور تمام اکاؤنٹس بلاک ہونے کے بعد متاثرہ نوجوانوں میں شدید تشویش، غم و غصے اور ذہنی تناؤ کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ کئی خاندان مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔

‘جہاز والی گیم’ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی تھی؟

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر مختلف ناموں اور لنکس کے ذریعے پھیلائی جانے والی یہ گیم بنیادی طور پر ایک ملٹیپلائر یا کریش گیم (Crash Game) پر مبنی آن لائن جوئے کا سیٹ اپ تھی۔

گیم کا طریقہ کار کچھ اس طرح ہوتا تھا:

  1. ڈپازٹ اور بیٹ کی شروعات: صارف پہلے اپنے ایزی پیسہ، جیز کیش یا کرپٹو والٹ سے ایپ کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرواتا تھا اور جہاز کے اڑنے سے پہلے داؤ (Bet) لگاتا تھا۔
  2. ضرب کا لالچ: جیسے ہی ورچوئل جہاز اوپر کی طرف اڑنا شروع کرتا، اس کا ملٹیپلائر (مثلاً 1.2x, 2x, 5x, 10x) بڑھتا جاتا اور رقم میں اضافہ دکھایا جاتا۔
  3. کریش اور رقم کا ضیاع: صارف کو جہاز کے کریش (حادثے کا شکار) ہونے سے پہلے اپنے پیسے نکالنے ہوتے تھے۔ اگر جہاز کریش ہونے سے پہلے پیسے نہ نکالے جاتے تو لگائی گئی پوری رقم منٹوں میں ضائع ہو جاتی۔

شروع میں صارفین کو لالچ دینے کے لیے چھوٹی رقم پر کچھ منافع واپس نکلوایا جاتا تھا تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو، لیکن جب وہ زیادہ رقم جمع کرواتے تو سسٹم کو الگورتھم کے ذریعے ایسا سیٹ کیا جاتا کہ وہ رقم ہار جاتے یا اب بالآخر پورا پلیٹ فارم ہی کروڑوں روپے سمیٹ کر غائب ہو گیا۔

گلگت بلتستان کے نوجوان کیسے متاثر ہوئے؟

گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع بالخصوص گلگت، اسکردو، ہنزلہ، اور دیامر سے اطلاعات ہیں کہ مقامی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس آن لائن فراڈ کی لپیٹ میں آئی ہے۔ علاقے میں معاشی مواقع کی کمی اور بے روزگاری کے باعث نوجوانوں کو کم وقت میں زیادہ پیسہ کمانے کے شارٹ کٹ دکھائی دیے، جس کے باعث انہوں نے اپنی زندگی کی تمام تر جمع پونجی اس ایپ میں جھونک دی۔

متاثرہ نوجوانوں کے مطابق:

  • کئی طلبہ نے اپنی تعلیمی فیسیں اور ہاسٹل کے اخراجات کے لیے رکھی گئی رقم اس ایپ میں لگا دی تھی۔
  • متعدد افراد نے دوست احباب سے قرض لے کر یا گھر کا سامان بیچ کر ‘بی سی’ گیم میں بڑی بیٹس (Bets) لگائیں۔
  • مقامی بروکرز اور ریفرل لنکس (Referral Links) کے ذریعے ایک دوسرے کو اس گیم میں شامل کیا گیا، جس سے یہ جال پورے علاقے میں پھیل گیا۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق صرف گلگت بلتستان کے خطے سے ڈوبنے والی رقم کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے، جس کے حتمی حجم کا اندازہ لگانا فی الحال مشکل ہے کیونکہ زیادہ تر مالیاتی معاملات غیر قانونی یا غیر رسمی آن لائن والٹس کے ذریعے کیے گئے تھے۔

آن لائن فراڈ کا طریقہ کار اور نفسیاتی پہلو

نفسیاتی اور مالیاتی ماہرین کے مطابق اس قسم کے پلیٹ فارمز صارفین کے نفسیاتی میلان کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس فراڈ کے اہم ترین عناصر درج ذیل ہیں:

  • راتوں رات امیر بننے کا لالچ: سوشل میڈیا پر بناوٹی کامیابیوں کے سکرین شاٹس دکھا کر نوجوانوں کو ورغلایا جاتا ہے۔
  • پونزی اسکیم کی ساخت: پرانے صارفین کو نئے صارفین لانے پر کمیشن کا لالچ دیا جاتا ہے، جس سے ایک پورا غیر قانونی نیٹ ورک بن جاتا ہے۔
  • غیر شفاف الگورتھم: گیم کا تمام کنٹرول اور الگورتھم پسِ پردہ بیٹھے دھوکے بازوں کے پاس ہوتا ہے، جو اپنی مرضی سے کسی کو جتاتے یا ہراتے ہیں۔
  • آن لائن سپورٹ کا غائب ہونا: جب صارفین کی بڑی رقم جمع ہو جاتی ہے تو ویب سائٹ یا ایپ اپنی سروسز بند کر کے مکمل غائب ہو جاتی ہے۔
آن لائن جوئے کے فراڈ کا چکر:
شارٹ کٹ کا لالچ ➔ ابتدائی چھوٹی جیت ➔ اعتماد اور بڑی سرمایہ کاری ➔ ایپ کی اچانک بندش ➔ مالی تباہی

پس منظر اور پاکستان میں آن لائن بیٹنگ کا پھیلاؤ

پاکستان میں پچھلے چند سالوں کے دوران آن لائن بیٹنگ، کرپٹو اسکیمز اور غیر قانونی فنانشل ایپس کے رجحان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ باقاعدہ فنانشل ریگولیٹری فریم ورک نہ ہونے اور آن لائن گیمنگ کی آڑ میں چلنے والے ان جوئے کے راستوں کی وجہ سے ملکی زرِ مبادلہ بھی غیر قانونی طریقوں سے ملک سے باہر چلا جاتا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) وقت فوقتاً غیر قانونی سائٹس اور غیر تصدیق شدہ مالیاتی ایپس پر پابندیاں عائد کرتے رہتے ہیں، تاہم دھوکے باز گمنام ڈومینز، وی پی این (VPN) اور نیویگیٹڈ لنکس کا سہارا لے کر روزانہ نئے ناموں کے ساتھ مارکیٹ میں واپس آ جاتے ہیں۔

سائبر کرائم اور قانونی اداروں کا کردار

اس واقعے کے بعد گلگت بلتستان کے عوامی و سماجی حلقوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے سائبر کرائم ونگ اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مالیاتی اسکینڈل کی فوری تحقیقات کریں۔

سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ:

  1. مقامی ایجنٹوں کے خلاف کارروائی: ان مقامی افراد اور ٹک ٹاکرز/انفلوینسرز کی نشاندہی کی جائے جو کمیشن کی خاطر ان غیر قانونی ایپس کی تشہیر کر رہے تھے۔
  2. غیر قانونی ادائیگیوں کا سدِ باب: ایزی پیسہ، جیز کیش اور بینکوں کو ایسے غیر معمولی اور مشکوک اکاؤنٹس پر کڑی نظر رکھنی چاہیے جو جوئے یا ان اسکیموں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
  3. عوامی آگاہی مہم: حکومت اور میڈیا کے توسط سے دیہی و شش جہت علاقوں میں آن لائن فراڈز کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ مزید نوجوان اس قسم کے جھانسے میں نہ آئیں۔

ایڈیٹوریل نوٹ اور مستقبل کی ترغیب

یہ افسوسناک واقعہ اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ آن لائن دنیا میں “راتوں رات بغیر محنت کے امیر بننے” کا کوئی جائز اور محفوظ راستہ نہیں ہے۔ آن لائن جوئے، کریش گیمز اور غیر تصدیق شدہ ایپلی کیشنز محض دھوکہ اور مالی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔

نوجوانوں اور ان کے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی محنت کی کمائی کو کسی بھی غیر رجسٹرڈ یا غیر قانونی آن لائن پلیٹ فارم پر لگانے سے پہلے مکمل تحقیق کریں اور شارٹ کٹ کے بجائے پائیدار اور قانونی ہنر و روزگار کے مواقع پر توجہ دیں۔