Preloader
Reasons for khalid khurshed arrest

اہم نکات (خلاصہ)

  • سیاسی ردِعمل: گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین (آزر/باقر) نے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کی گرفتاری اور ممکنہ قانونی کارروائی پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ان کے اپنے سیاسی فیصلوں اور غلطیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
  • گورنر راج کا جواز: وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ خطے میں آئینی و انتظامی بحران سے نمٹنے کے لیے گورنر راج کا نفاذ ہی واحد عملداری کا حل تھا، کیونکہ حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے تھے۔
  • مذاکرات کی اہمیت: انہوں نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے سیاسی تصفیے کے تمام راستے مسدود کر دیے تھے، جبکہ جمہوریت میں مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔
  • خطے کی استقامت: بیان میں گلگت بلتستان کی معاشی و سیاسی استحکام کے لیے تمام سیاسی دھڑوں پر ذمے دارانہ رویہ اپنانے اور قانون کی بالادستی کا احترام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

گلگت (خصوصی رپورٹ) گلگت بلتستان کی سیاسی فضا میں جاری ہلچل اور تناؤ کے درمیان صوبائی حکومت کے سربراہ اور وزیر اعلیٰ امجد حسین نے خطے کی سیاسی صورتِ حال، سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کی گرفتاری اور حالیہ انتظامی اقدامات پر اپنا اہم اور تفصیلی موقف سامنے رکھا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو قانون نے اپنی تحویل میں لیا ہے تو یہ ان کے اپنے دورِ حکومت کے فیصلے، سیاسی حکمتِ عملی اور غلط اقدامات کا منطقی نتیجہ ہے۔

صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خطے میں پیدا ہونے والے آئینی و سیاسی بحران پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اپوزیشن کے رویے کو سیاسی جمود کا بنیادی سبب قرار دیا۔

“خالد خورشید کی گرفتاری اپنے ہی اقدامات کا ثمر ہے”

وزیر اعلیٰ امجد حسین نے سابق وزیر اعلیٰ کی گرفتاری اور ان کے خلاف قائم مقدمات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت یا انتظامیہ انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، بلکہ قانون تمام شہریوں اور عہدے داروں کے لیے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ خالد خورشید اپنے دورِ اقتدار میں جن پالیسیوں اور محاذ آرائی پر گامزن رہے، انہوں نے ان کے لیے خود سیاسی و قانونی مشکلات پیدا کیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے آزاد ہیں اور اپنے فرائض قانون کے دائرے میں رہ کر انجام دے رہے ہیں۔ اگر کسی پر کوئی جرم یا بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو اسے قانون کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے، اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا یا مظلومیت کارڈ کھیلنا مناسب نہیں۔

وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ قیادت کا کام بحران پیدا کرنا نہیں بلکہ عوامی مسائل کو حل کرنا اور ریاستی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنا ہوتا ہے، جس سے سابقہ حکومت مکمل طور پر ناکام رہی۔

گورنر راج کا نفاذ: انتظامی ناگزیرتا اور واحد حل

خطے میں گورنر راج کے نفاذ اور پیدا ہونے والی آئینی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حالات ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکے تھے جہاں آئینی اور انتظامی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ:

“حکومت اور انتظامیہ کے پاس خطے میں امن و امان قائم رکھنے، ریاستی املاک کو نقصان سے بچانے اور قانونی بحران کو ختم کرنے کے لیے گورنر راج لگانے کے علاوہ کوئی اور قابلِ عمل راستہ نہیں بچا تھا۔ یہ قدم کسی شوق کے تحت نہیں بلکہ سخت اور مجبوری کے حالات میں اٹھایا گیا تاکہ گلگت بلتستان کی عوام کو معطلی اور بے یقینی کی کیفیت سے نکالا جا سکے۔”

انہوں نے وضاحت کی کہ آئین اور قانون کے مطابق غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں تاکہ سیاسی استحکام کو بحال کیا جا سکے اور عام شہریوں کی زندگی معمول پر لائی جا سکے۔

“پی ٹی آئی نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کیے”

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی مقامی اور مرکزی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوریت کی روح اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مسلسل رابطوں اور مذاکرات میں پنہاں ہوتی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی قیادت نے تمام تر سیاسی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ڈائیلاگ کے تمام راستے اور دروازے خود بند کر دیے تھے۔

وزیر اعلیٰ امجد حسین نے کہا:

  1. محاذ آرائی کی سیاست: اپوزیشن نے ہمیشہ باہمی بات چیت کے بجائے سڑکوں کی سیاست، احتجاج اور محاذ آرائی کو ترجیح دی۔
  2. پیشکش کی نفی: حکومت نے متعدد بار سیاسی اور آئینی مسائل کو میز پر بیٹھ کر حل کرنے کی پیشکش کی، لیکن پی ٹی آئی نے مثبت ردِعمل دینے کے بجائے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔
  3. جمہوری رویے کا فقدان: جمہوری سیاسی نظام میں تصفیے اور افہام و تفہیم کی گنجائش ہمیشہ قائم رکھنی چاہیے، کیونکہ راستے بند کرنے سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
پائیدار سیاسی حل کا راستہ:
سیاسی تناؤ ➔ محاذ آرائی کا خاتمہ ➔ بیٹھ کر گفتگو (مذاکرات) ➔ آئینی و معاشی استحکام

پس منظر اور گلگت بلتستان کا سیاسی منظرنامہ

گلگت بلتستان میں حالیہ سیاسی بحران کا آغاز سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کی نااہلی اور بعد ازاں خطے میں سیاسی و انتظامی رسہ کشی سے ہوا۔ خالد خورشید، جو پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، ان کے دورِ اقتدار میں وفاق اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان شدید سیاسی کشمکش دیکھنے میں آئی۔

وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی اور سیاسی میدان میں عدم استحکام پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں آئینی اور قانونی پیچیدگیاں ابھر کر سامنے آئیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل احتجاج اور اپوزیشن کے رویے کی وجہ سے سیکیورٹی اور انتظامی مسائل میں اضافہ ہوا، جس نے بالآخر گورنر راج اور سیکیورٹی اداروں کے متحرک ہونے کی راہ ہموار کی۔

اس پس منظر میں موجودہ صوبائی انتظامیہ اور وزیر اعلیٰ کا بیان اس بات کا عکاس ہے کہ حکومت آئینی عملداری اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت میں یقینی بنانا چاہتی ہے۔

خطے پر اثرات اور مستقبل کی حکمتِ عملی

وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب کے اختتام پر گلگت بلتستان کے روشن مستقبل، سیاحت کی بحالی اور معاشی ترقی پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک حساس سرحدی اور سیاحتی علاقہ ہے، جہاں امن و امان کا قیام سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، بالخصوص پی ٹی آئی سے اپیل کی کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر گلگت بلتستان کی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے کام کریں۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ:

  • حکومت سیاسی اختلاف کا احترام کرتی ہے لیکن قانون شکنی اور بدامنی کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔
  • تمام تر درپیش مسائل کا حتمی حل جمہوریت، آئین اور قانون کی پاسداری میں ہی مضمر ہے۔
  • حکومت اب بھی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اگر اپوزیشن سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو جمہوریت کی بقا کے لیے مذاکرات کی میز پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔

ایڈیٹوریل نوٹ

گلگت بلتستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام سیاسی فریقین جذباتی فیصلوں اور محاذ آرائی کے بجائے قانون کی بالادستی، آئینی دائرہ کار اور مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔ خطے میں امن و امان اور پائیدار معاشی و سیاحتی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے، جس کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ذمے دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔