Preloader
Jaglot road is closed due to landslide

اہم نکات (Summary)

  • بڑا حادثہ: گلگت بلتستان میں جاری شدید بارشوں کے بعد جگلوٹ گورو کے مقام پر شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہِ قراقرم ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند ہو گئی ہے۔
  • مسافر اور سیاح محصور: شاہراہ کی بندش کے باعث سواریوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں، جس سے خواتین، بچوں، مریضوں اور غیر مقامی سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
  • امدادی کارروائیاں: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA)، گلگت بلتستان ڈسپیچ اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ بھاری مشینری کے ساتھ ملبے کی صفائی اور سڑک کو عارضی طور پر کھولنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔
  • عوام کے لیے ہدایت: مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سفر شروع کرنے سے پہلے کنٹرول روم سے تازہ ترین صورتحال کی معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ابتدائی صورتحال: لینڈ سلائیڈنگ اور شاہراہ کی بندش

گلگت بلتستان اور بالائی علاقوں میں مسلسل اور شدید بارشوں نے ایک بار پھر پہاڑی سلسلے کو تحرک میں لا دیا ہے، جس کے نتیجے میں استور اور گلگت کے سنگم کے قریب واقع اہم ترین مقام جگلوٹ گورو پر سنگین نوعیت کی لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ پہاڑ سے گرنے والے مٹی، چٹانوں اور وزنی پتھروں کے تودے نے پاکستان اور چین کو ملانے والی بین الاقوامی اہمیت کی حامل شاہراہِ قراقرم کو مکمل طور پر بلاک کر دیا ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، پولیس اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، تاہم مسلسل بارش اور پہاڑوں سے مزید پتھر گرنے کے خدشے کے باعث ابتدائی طور پر امدادی کاموں میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

مسافروں کی مشکلات اور درپیش چیلنجز

شاہراہِ قراقرم کی اچانک بندش کے باعث روڈ کے دونوں اطراف گاڑیوں، مسافر بسوں، مال بردار ٹرکوں اور سیاحتی گاڑیوں کی کلو میٹرز طویل قطاریں لگ چکی ہیں۔ ان گاڑیوں میں بڑی تعداد میں وہ مسافر موجود ہیں جو راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک کے دیگر میدانی علاقوں سے گلگت، ہنزہ، اور اسکردو کی جانب سفر کر رہے تھے، یا وہاں سے واپسی کی راہ پر تھے۔

محصورین کو درپیش اہم مسائل:

  • خوراک اور پانی کی کمی: جگلوٹ گورو کا علاقہ پہاڑی اور دور دراز ہونے کی وجہ سے وہاں کھانے پینے کی اشیاء اور صاف پانی کی فوری دستیابی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
  • سردی اور موسم کی شدت: پہاڑی خطے میں بارش کے بعد درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے خاص طور پر شیر خوار بچوں اور سن رسیدہ افراد کو شدید ٹھنڈ کا سامنا ہے۔
  • طبی امداد کی ضرورت: گاڑیوں کی قطاروں میں متعدد ایسے مریض بھی شامل ہیں جو علاج کی غرض سے اسلام آباد یا گلگت کے بڑے ہسپتالوں کی طرف جا رہے تھے، جنہیں بروقت طبی سہولیات کی فراہمی میں سخت دقت پیش آ رہی ہے۔

ایک محصور مسافر کا بیان: “ہم پچھلے کئی گھنٹوں سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے شدید سردی ہے اور بچوں کے لیے کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا ہے۔ امید ہے کہ انتظامیہ جلد از جلد سڑک کو بحال کر دے گی تاکہ ہم اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔”

شاہراہِ قراقرم: پاکستان کا معاشی و جغرافیائی شریان

شاہراہِ قراقرم محض ایک سڑک نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے خطے کی معاشی، سماجی اور جغرافیائی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس شاہراہ کی بندش کا اثر صرف مقامی آبادی پر ہی نہیں بلکہ کئی دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہوتا ہے۔

                  +-----------------------------------+
                  |      شاہراہِ قراقرم کی بندش       |
                  +-----------------+-----------------+
                                    |
            +-----------------------+-----------------------+
            |                                               |
+-----------v-----------+                       +-----------v-----------+
|    عوامی و طبی مسائل  |                       |   تجارتی و معاشی اثرات |
+-----------+-----------+                       +-----------+-----------+
| • مسافروں کی محصوری    |                       | • مال بردار ٹرکوں کا جمود|
| • ادویات اور غذائی قلت |                       | • تازہ پھلوں/سبزیوں کی خرابی|
| • سیاحت پر منفی اثر   |                       | • پاک چین تجارت میں رکاوٹ |
+-----------------------+                       +-----------------------+
  1. تجارت پر اثرات: پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔ مال بردار گاڑیوں کی روک تھام سے اربوں روپے کی روزمرہ اشیاء اور برآمدات و واردات کا سلسلہ معطل ہو جاتا ہے۔
  2. روزمرہ زندگی کی فراہمی: گلگت بلتستان میں گندم، ایندھن، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ ملک کے دیگر حصوں سے شاہراہِ قراقرم کے ذریعے ہی پہنچائی جاتی ہیں۔ سڑک زیادہ دیر بند رہے تو راشن اور ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
  3. سیاحت کی معطلی: موسمِ سرما ہو یا گرمصدا، شاہراہِ قراقرم پر سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ اس قسم کے واقعات نہ صرف سیاحوں کو پریشان کرتے ہیں بلکہ مقامی ٹورازم انڈسٹری کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

بحالی کی کارروائیاں اور انتظامی اقدامات

ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور ملبہ ہٹانے کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔ این ایچ اے حکام کے مطابق ہیوی مشینری بشمول ڈوزر اور ایکسکیویٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

انتظامیہ کا موجودہ لائحہ عمل:

  • ملبے کی صفائی: پہاڑ سے گرے ہوئے بڑے پتھروں کو توڑنے اور مٹی کو ہٹانے کے لیے بھاری مشنری متحرک کر دی گئی ہے۔
  • متبادل راستوں کی تلاش: چھوٹے وسائطِ نقل و حمل (سائیکل/موٹر سائیکل یا چھوٹی گاڑیوں) کے لیے مقامی سطح پر کسی ممکنہ عارضی راستے کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ہنگامی حالت میں مریضوں اور خواتین کو نکالا جا سکے۔
  • امدادی کیمپ: مقامی رضاکاروں اور انتظامیہ کی جانب سے پھنسے ہوئے مسافروں میں چائے، بسکٹ اور بنیادی طبی امداد کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

موسم کی صورتحال اور محکمہ موسمیات کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات (PMD) کے مطابق گلگت بلتستان، دیامر، ہنزہ، اور استور کے اضلاع میں مزید 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران وقتاً فوقتاً بارش اور بالائی پہاڑوں پر برف باری کا امکان برقرار ہے۔

محکمے نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے سبب پہاڑی ڈھلوانوں پر مٹی نرم ہو چکی ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے (Rockfalls) کے واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ شاہراہِ قراقرم کے علاوہ بابوسر ٹاپ اور دیگر ذیلی رابطہ سڑکوں پر بھی خطرات موجود ہیں۔

مسافروں کے لیے سفری ہدایات اور حفاظتی تدابیر

موجودہ ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور گلگت بلتستان پولیس نے مسافروں اور ڈرائیورز کے لیے واضح ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے:

  • غیر ضروری سفر سے گریز: جب تک انتظامیہ کی جانب سے شاہراہ کو مکمل طور پر محفوظ قرار نہ دیا جائے، تب تک شاہراہِ قراقرم پر سفر کرنے سے گریز کریں۔
  • کنٹرول روم سے رابطہ: سفر کا آغاز کرنے سے قبل گلگت بلتستان پولیس کنٹرول روم یا NHA کے ہیلپ لائن نمبرز پر رابطہ کر کے راستے کی اپ ڈیٹ حاصل کریں۔
  • ضروری اشیاء کا ساتھ رکھنا: اگر سفر ناگزیر ہو تو گاڑی میں اضافی گرم کپڑے، خشک خوراک، پینے کا پانی اور فرسٹ ایڈ باکس لازمی رکھیں۔
  • ڈرائیونگ میں احتیاط: پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والی جگہوں پر گاڑی آہستہ چلائیں اور خطرناک موڑوں پر بالخصوص محتاط رہیں۔

ایڈیٹوریل نوٹ (تجزیہ و پس منظر)

پہاڑی علاقوں میں بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ ایک قدرتی امر ہے، تاہم شاہراہِ قراقرم جیسے حساس اور اہم ترین روٹ پر بار بار کی بندش اس بات کی متقاضی ہے کہ سائنسی بنیادوں پر پائیدار حل تلاش کیے جائیں۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ان مخصوص پوائنٹس (جیسے جگلوٹ گورو، داس، یا تاتاپانی) پر جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ مسلسل رہتا ہے، جدید تحفظاتی جالیاں (Rockfall Netting)، پروٹیکشن والز اور جدید ارلی وارننگ سسٹمز نصب کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہنگامی بنیادوں پر بھاری مشینری کو مستقلاً ان حساس مقامات کے قریب تعینات رکھا جائے تاکہ سڑک بند ہونے کی صورت میں کم سے کم وقت میں بحالی کا کام مکمل کیا جا سکے اور عوام کو درپیش تکالیف کو کم کیا جا سکے۔