اہم نکات آگاہی واک کا انعقاد: لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو کے زیر اہتمام سول ہسپتال حیدرآباد میں خواتین میں مختلف اقسام کے سرطان سے متعلق آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔ قیادت اور شرکت: واک کی قیادت وائس چانسلر لمس پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن نے کی، جبکہ ڈاکٹروں، طبی عملے اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بروقت تشخیص کی اہمیت: وائس چانسلر نے تاکید کی کہ خواتین میں سرطان ایک مہلک مرض ہے، مگر بروقت تشخیص اور جدید علاج سے مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ جامع آگاہی مہم: واک میں شامل شرکاء نے چھاتی، رحم اور بیضہ دانی کے کینسر سمیت خواتین کے امراضِ نسوان سے جڑے سرطان کی علامات اور علاج سے متعلق معلوماتی بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ آگاہی واک کا پس منظر اور تفصیلی احوال (جامشورو / رپورٹ: محمد نصیر ساگر) خواتین کی صحت کو درپیش سنگین خطرات اور خصوصاً مختلف قسم کے سرطان (کینسر) کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو کے پلیٹ فارم سے سول ہسپتال حیدرآباد میں ایک پروقار آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد خواتین میں پھیلے خاموش قاتل امراض، جیسے چھاتی، رحم اور بیضہ دانی کے سرطان کے بارے میں معاشرتی ہچکچاہٹ ختم کرنا اور بروقت معائنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ واک کا باقاعدہ آغاز ہسپتال کے مرکزی حصے سے ہوا جس کی قیادت وائس چانسلر لمس پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن نے کی۔ اس موقع پر یونیورسٹی اور سول ہسپتال حیدرآباد کے سینئر ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، میڈیکل اسٹوڈنٹس اور سماجی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن کا خطاب آگاہی واک کے اختتام پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر لمس پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن نے خواتین کی صحت سے جڑے مسائل اور خصوصاً کینسر کی بروقت تشخیص پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا: “سرطان ایک انتہائی سنگین اور جان لیوا مرض ہے، لیکن سائنس اور جدید طب کی پیشرفت کے باعث اگر ابتدائی اسٹیج پر ہی اس کی تشخیص ہو جائے تو مناسب علاج سے مریضوں کی زندگی بچانے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ خواتین کو اپنی صحت پر بالخصوص توجہ دینی چاہیے اور جسم میں ظاہر ہونے والی کسی بھی غیر معمولی علامت یا تبدیلی کی صورت میں شرمانے کے بجائے فوری ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ لمس جامشورو محض ایک تعلیمی و تدریسی ادارہ نہیں ہے بلکہ عوام کو اعلیٰ اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مہلک بیماریوں سے بچاؤ اور بروقت تشخیص کی آگاہی مہمات چلانا بھی ادارے کا بنیادی مشن ہے۔ پلے کارڈز اور بینرز پر درج آگاہی پیغامات واک کے دوران شرکاء نے رنگ برنگے بینرز، چارٹس اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر سندھی اور اردو زبانوں میں مختلف تربیتی و آگاہی پیغامات تحریر تھے۔ ======================================================================== خواتین کے سرطان کے خلاف بیداری مہم ======================================================================== • "خاموشی توڑیں، آگاہی پھیلائیں، خواتین کے سرطان کو شکست دیں!" • "بروقت تشخیص — زندگی کی ضمانت" • "چھاتی، رحم اور بیضہ دانی کے کینسر کا ابتدائی معائنہ لازمی کروائیں" • "اسان گڏجي ڪينسر سان وڙهنداسين!" (ہم مل کر کینسر کا مقابلہ کریں گے!) ======================================================================== واک کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس آگاہی پیغام کو ہسپتال کی حدود سے نکال کر عام گھروں، دیہاتوں اور شہروں تک پہنچائیں گے تاکہ کوئی بھی عورت معلومات یا وسائل کی کمی کے باعث اس مرض کا شکار نہ ہو۔ پاکستان میں خواتین میں کینسر کی صورتحال: اعداد و شمار اور چیلنجز پاکستان میں خواتین کے اندر کینسر کی شرح جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی نسبت کافی زیادہ ہے، جس کی بنیادی وجہ معلومات کا فقدان اور معائنے میں تاخیر ہے۔ اہم حقائق اور ڈیٹا: چھاتی کا کینسر (Breast Cancer): پاکستان میں ہر 9 میں سے 1 خاتون کو زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں چھاتی کے کینسر کا خطرہ رہتا ہے۔ رحم اور بیضہ دانی کا کینسر: معلومات اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث رحم کے منہ (Cervical Cancer) اور بیضہ دانی کا کینسر خواتین میں تیزی سے پھیلنے والے امراض میں شامل ہے۔ تاخیر سے تشخیص: پاکستان میں تقریباً 70 فیصد کینسر کے کیسز تیسری یا چوتھی اسٹیج پر رپورٹ ہوتے ہیں، جہاں علاج پیچیدہ اور انتہائی مہنگا ہو جاتا ہے۔ آگاہی کی ضرورت: ابتدائی مرحلے (Stage 1) میں کینسر کی تشخیص ہونے کی صورت میں صحتیابی کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔ خواتین میں کینسر کے اثرات اور معاشرتی ذمہ داری کینسر صرف ایک فرد کی بیماری نہیں ہوتی بلکہ یہ پورے خاندان کو معاشی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر متاثر کرتی ہے۔ جب گھر کی عورت یا ماں بیمار ہوتی ہے تو پورا خاندانی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ معاشرتی سطح پر درپیش رکاوٹیں: جھجھک اور شرم: خواتین اپنے ذاتی امراض اور جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں گھر والوں یا ڈاکٹر سے بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں۔ غیر معالجاتی رجحانات: ابتدائی علامات پر توجہ دینے کے بجائے روایتی ٹوٹکوں یا غیر مستند دم درود پر وقت ضائع کرنا۔ طبی سہولیات تک محدود رسائی: دیہی علاقوں میں لیڈی ڈاکٹرز اور جدید اسکریننگ (مثلًا میمو گرافی) کی عدم دستیابی۔ مستقبل کا لائحہ عمل اور سفارشات سول ہسپتال حیدرآباد میں منعقدہ یہ واک اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقوں کو مل کر کینسر کے خلاف جنگ لڑنی ہو گی۔ مفت اسکریننگ کیمپ: ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں کی سطح پر مفت کینسر اسکریننگ کیمپ لگائے جائیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال: کینسر کی علامات اور خود معائنے (Self-Examination) کا طریقہ بتانے کے لیے عوامی مہمات چلوائی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں شعور: کالجز اور یونیورسٹیز میں طالبات کے لیے خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا جائے تاکہ جدید نسل کینسر کی روکتھام سے واقف ہو۔ ایڈیٹوریل نوٹ (صحافتی تجزیہ) لمس جامشورو اور سول ہسپتال حیدرآباد کی جانب سے خواتین میں کینسر سے آگاہی کے لیے واک کا انعقاد ایک انتہائی قابلِ تحسین اقدام ہے۔ تاہم، اس نوعیت کی سرگرمیوں کو محض مخصوص ایام یا سمپوزیمز تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مسلسل قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہو گا۔ پاکستان میں صحت کے شعبے سے وابستہ اداروں کو چاہیے کہ وہ تشخیص اور علاج کو عام اور سستا بنائیں تاکہ ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین بروقت طبی سہولیات حاصل کر کے ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔ Post navigation پشاور کے نجی اسکول میں چھت گرنے کا دردناک سانحہ: درجنوں متاثر، تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت پر سنگین سوالات جیکب آباد: ٹھل کے سندرانی پھاٹک پر بھرانی برادری کا احتجاج، روڈ بلاک اور قتل کے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ