Preloader
Deer colony sorrowful incident

اہم نکات (خلاصہ)

  • افسوسناک سانحہ: پشاور کے علاقے دیر کالونی (تھانہ یکہ توت کی حدود) میں الخیر ایجوکیشن سسٹم کی عمارت کی چھت گرنے سے طلباء اور اساتذہ کی شہادت کا دردناک واقعہ پیش آیا۔
  • پاکستان ہندکووان تحریک کا ردعمل: تحریک کے صدر اکبر سیٹھی نے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کیا۔
  • سیفٹی آڈٹ کا مطالبہ: ضلع انتظامیہ (کمشنر، ڈی سی، اے سی) سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اندرونِ شہر کے تمام تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی فوری جانچ پڑتال کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔
  • تجارتی ذہنیت پر تنقید: بھاری فیسیں وصول کرنے کے باوجود عمارتوں کی حفاظت اور بنیادی سہولیات پر توجہ نہ دینے والے تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی تاکید کی گئی۔

پشاور: خبر کا پس منظر اور صورتحال

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے گنجان آباد علاقے دیر کالونی، جو تھانہ یکہ توت کی حدود میں واقع ہے، میں قائم الخیر ایجوکیشن سسٹم کی عمارت کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ اس دلخراش حادثے کے نتیجے میں زیرِ تعلیم معصوم طلباء اور فرائض انجام دینے والے اساتذہ شہید و زخمی ہوئے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے افراد کو باہر نکال کر قریب ترین ہسپتال منتقل کیا۔

یہ واقعہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے شہر کے لیے ایک گہرے صدمے کا باعث بنا ہے۔ اندرونِ پشاور کی تنگ گلیوں اور دہائیوں پرانی عمارتوں میں قائم خصوصی و نجی تعلیمی اداروں کی حفاظتی صورتحال پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

اکبر سیٹھی کا دلی صدمے اور غم کا اظہار

پاکستان ہندکووان تحریک کے صدر اکبر سیٹھی نے پشاور میں پیش آنے والے اس ہولناک سانحے پر اپنے ایک بیان میں شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حادثے میں شہید ہونے والے طلباء اور اساتذہ کے درجات کی بلندی، ان کے پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحتیابی کے لیے بالخصوص دعا کی۔

اکبر سیٹھی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اولاد کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ اولاد کی جدائی کا درد صرف وہی والدین سمجھ سکتے ہیں جن پر یہ قیامت گزرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات صرف ایک خاندان کی تباہی نہیں ہوتے بلکہ پورا معاشرہ اس درد کو محسوس کرتا ہے۔

“اولاد سب کی سانجھی ہوتی ہے اور اس کے بچھڑنے کا غم بھلانا والدین کے لیے انتہائی کٹھن ہوتا ہے۔ پشاور کی فضا آج بھی سانحہ اے پی ایس کے زخموں سے نبرد آزما ہے، اور دیر کالونی کا یہ سانحہ ایک بار پھر ان تلخ یادوں کو تازہ کر گیا ہے۔” — اکبر سیٹھی، صدر پاکستان ہندکووان تحریک

ضلعی انتظامیہ سے فوری سیفٹی آڈٹ کا مطالبہ

واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان ہندکووان تحریک کے صدر نے انتظامیہ اور بالخصوص کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اور اسسٹنٹ کمشنرز (اے سی) سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ضلعی سطح پر ایک اعلیٰ سطحی فنی ٹیم تشکیل دیں۔

اس ٹیم کا بنیادی کام اندرونِ پشاور اور گردونواح میں واقع تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا تکنیکی اور ساخت کاری آڈٹ (Structural Audit) کرنا ہونا چاہیے۔

پیش کردہ اہم تجاویز:

  1. عمارتوں کی مکمل جانچ پڑتال: تمام سکولوں، کالجوں اور تعلیمی مراکز کی عمارتوں کا معائنہ کیا جائے تاکہ ان کے مضبوط یا بوسیدہ ہونے کا تعین ہو سکے۔
  2. غیر معیاری عمارتوں کی فوری مرمت: جن عمارتوں میں جزوی نقائص یا دراڑیں موجود ہوں، ان کی ہنگامی بنیادوں پر فنی مرمت کی ہدایت دی جائے۔
  3. خطرناک عمارتوں کی تخلیہ اور منتقلی: جو عمارتیں شدید بوسیدہ، خطرناک اور ناقابلِ استعمال ہو چکی ہیں، انہیں فوری طور پر سیل کر کے سکولوں کو محفوظ اور مضبوط عمارتوں میں منتقل کیا جائے۔
  4. قانونی کارروائی: سیفٹی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جائے۔

تعلیمی اداروں میں کاروباری ذہنیت اور غفلت پر سوالات

خبر کے اس اہم پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے اکبر سیٹھی نے تجارتی بنیادوں پر چلنے والے بعض تعلیمی اداروں کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اندرونِ شہر کے کئی علاقوں میں تعلیمی ادارے تعلیم کی آڑ میں والدین سے بھاری بھرکم فیسیں تو وصول کرتے ہیں لیکن بچوں کی حفاظت اور بنیادی سہولیات کی فراہم پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کے مالکان اور انتظامیہ کی سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری وہاں زیرِ تعلیم بچوں اور اساتذہ کی جانی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ فیسوں کے معاملے میں بڑے بڑے دعوے کرنے والے بعض ادارے عمارتوں کی بنیادی مضبوطی اور ایمرجنسی ایگزٹ جیسی اہم سہولیات سے بالکل عاری ہوتے ہیں۔

بچوں کی زندگیاں کسی بھی تجارتی مفاد، نفع یا کاروباری سوچ سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں، اور تعلیمی شعبے میں اس قسم کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کو کسی صورت برادشت نہیں کیا جا سکتا۔

سرکاری اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی

تعلیمی اداروں میں حفاظتی تدابیر کو یقینی بنانا محض ایک حادثے کے بعد ہنگامی ردعمل تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے ایک مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔

سفارشات / اقداماتتفصیلات و مقاصد
سالانہ عمارت سرٹیفکیٹہر تعلیمی ادارے کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ سالانہ بنیادوں پر بالعموم بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے ‘سیفٹی سرٹیفکیٹ’ حاصل کرے۔
ایمرجنسی رسپانس پلانسکولوں میں آگ بجھانے والے آلات، ایمرجنسی راستے اور زلزلے/حادثات کی صورت میں فوری تخلیہ کی مشقیں کروائی جائیں۔
شفاف مانیٹرنگ سسٹمضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کا ایک مشترکہ مانیٹرنگ سیل قائم کیا جائے جو موصول ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ کرے۔

نتیجہ: ایک روشن مستقبل کے لیے فوری عمل کی ضرورت

دیر کالونی کا سانحہ ایک انتہائی دردناک یاد دہانی ہے کہ اگر ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کے بنیادی ڈھانچے اور حفاظتی معائنے پر وقت پر توجہ نہ دی تو اس کے نتائج کتنے ہولناک ہو سکتے ہیں۔ حکومت اور بالخصوص ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کو محض ایک عام حادثہ یا خبر سمجھ کر نہ بھولیں، بلکہ اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے عملی اور مؤثر اقدامات کریں۔

بچوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ فوری، شفاف اور سخت اقدامات ہی اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ مستقبل میں کسی اور گھر کا چراغ اس طرح کی انتظامی غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے نہ بجھے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔