Preloader
Islamabad administration closes weekly bazaars indefinitely

اہم نکات (خلاصہ)

  • انتظامیہ کا اقدام: میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) نے دارالحکومت کے دو بڑے اتوار بازاروں (ایچ نائن اور جی سکس) کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔
  • بنیادی وجہ: یہ فیصلہ بازاروں میں آگ سے بچاؤ (فائر سیفٹی) کے مناسب اور ضروری انتظامات نہ ہونے کے باعث کیا گیا ہے۔
  • ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن کا نوٹیفیکیشن: جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق بازار اس وقت تک بند رہیں گے جب تک تمام حفاظتی اقدامات مکمل نہیں کیے جاتے اور سی ڈی اے (CDA) کے ایمرجنسی سروسز کی جانب سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا۔
  • تاجروں اور خریداروں پر اثرات: اس اچانک بندش سے ہزاروں تاجروں اور روزانہ کی بنیاد پر خریداری کرنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسلام آباد میں فائر سیفٹی کے خدشات اور بازاروں کی بندش

اسلام آباد کے باسیوں کے لیے ہفتہ وار خریداری کا مرکز سمجھے جانے والے جی سکس (G-6) اور ایچ نائن (H-9) کے اتوار بازاروں کو انتظامیہ نے ایک سخت فیصلے کے تحت فی الحال بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) کے ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن (DMA) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفیکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان بازاروں میں آتشزدگی سے بچاؤ کے انتظامات انتہائی ناقص اور تسلی بخش نہیں تھے، جو کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے تھے۔

دارالحکومت کے یہ اتوار بازار ہر ہفتے ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کو سستے داموں اشیائے خورونوش، کپڑے اور دیگر گھریلو سامان فراہم کرتے ہیں۔ لیکن حفاظتی انتظامات کو نظر انداز کرنے پر انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن کے احکامات اور ضوابط

انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کچھ اہم شرائط رکھی گئی ہیں جن کی تکمیل کے بغیر بازاروں کو دوبارہ کھولنا ناممکن ہوگا۔

اتوار بازاروں کی بندش اور بحالی سے متعلق اہم نکات:
• متاثرہ بازار: ایچ نائن (H-9) اور جی سکس (G-6) کے ہفتہ وار بازار۔
• بندش کی وجہ: فائر سیفٹی اور ہنگامی اخراج کے ناکافی انتظامات۔
• بحالی کی شرط: کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے ایمرجنسی اینڈ فائر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے مکمل کلیئرنس سرٹیفکیٹ کا حصول۔
• دورانیہ: غیر معینہ مدت تک جب تک حفاظتی اصولوں پر عملدرآمدی یقینی نہیں بنائی جاتی۔

اس حکم نامے میں ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی جانوں کی حفاظت انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور تجارتی سرگرمیوں کو حفاظتی ایس او پیز (SOPs) کی قیمت پر ہرگز جاری نہیں رکھا جا سکتا۔

پس منظر: شہری بازاروں میں حفاظتی انتظامات کے مسائل

پاکستانی شہروں کے بڑے بازاروں اور اتوار بازاروں میں آتشزدگی کے حادثات کا خطرہ ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ ماضی میں بھی اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں مارکیٹوں اور بازاروں میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔

  • تجاوزات اور تنگ راستے: اتوار بازاروں میں عارضی دکانوں کے درمیان راستے اتنے تنگ ہوتے ہیں کہ کسی حادثے کی صورت میں فائر ٹینڈر یا ایمبولینس کا اندر داخل ہونا محال ہو جاتا ہے۔
  • بجلی کی غیر قانونی تاریں: دکانوں پر کھلی اور غیر معیاری برقی تاروں کا جال بچھا ہوتا ہے جو گرمیوں کے موسم میں شارٹ سرکٹ کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔
  • فائر فائٹنگ آلات کی کمی: بیشتر اسٹالز پر آگ بجھانے والے آلات (Fire Extinguishers) موجود نہیں ہوتے اور نہ ہی انتظامی سطح پر واٹر ہائیڈرینٹس کا مناسب بندوبست ہوتا ہے۔

تاجروں کو درپیش مشکلات اور معاشی اثرات

اتوار بازاروں کی غیر معینہ مدت کے لیے بندش سے وہاں کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجروں، ہاکرز اور دکانداروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ایسے افراد ہیں جن کا روزگار براہ راست ان بازاروں سے جڑا ہوا ہے۔

تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بازاروں کو یکدم بند کرنے کے بجائے انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ تاجروں کو مہلت دیتی اور فائر سیفٹی کے اصولوں پر عملدرآمد کرواتی۔ اس اچانک بندش سے غریب طبقے کے تاجروں کا روزانہ کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف، شہر کے عام شہریوں کو بھی مناسب نرخوں پر سبزیاں، پھل اور دیگر اشیاء خریدنے میں پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کا کردار

موجودہ صورتحال میں تمام نظریں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی ایمرجنسی اور ریسکیو سروسز پر مرکوز ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک فائر ڈپارٹمنٹ کے ماہرین خود جاکر بازاروں کا معائنہ نہیں کریں گے اور حفاظتی انتظامات (جیسے پانی کے ذخائر، فائر بکٹس، کھلے راستے اور معیاری وائرنگ) سے مطمئن نہیں ہوں گے، اس وقت تک بازار کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایڈیٹوریل نوٹ کے مطابق، اگرچہ تاجروں کا معاشی نقصان ایک اہم مسئلہ ہے، تاہم شہریوں کی جانوں کی حفاظت کو کسی صورت پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ انتظامیہ اور تاجروں کو چاہیے کہ وہ باہمی تعاون سے جلد از جلد فائر سیفٹی کے تمام ایس او پیز کو یقینی بنائیں تاکہ بازاروں کو بحال کیا جا سکے اور کسی بھی ناگہانی حادثے کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔