What is fixed tax

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹ): وفاقی حکومت نے آئندہ مالیاتی بجٹ سے قبل ملک کے ٹیکس بیس (Tax Base) کو وسیع کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کی دیرینہ مانگ کو پورا کرتے ہوئے ایک سادہ اور رضاکارانہ فکسڈ ٹیکس اسکیم (Fixed Tax Asaan Scheme) متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت سالانہ 20 کروڑ (200 ملین) روپے تک کی سیلز کرنے والے ریٹیلرز پر صرف 1 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

اس اسکیم کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں شامل ہونے والے تاجروں کو روایتی انکم ٹیکس آڈٹ اور ‘پوائنٹ آف سیل’ (POS) کی پیچیدہ شرط سے مکمل استثنیٰ (Exemption) حاصل ہوگا۔

اسکیم کا باقاعدہ اعلان اور اعلیٰ حکام کا موقف

اس نئی ٹیکس اسکیم کا اعلان وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور ممبر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) حامد عتیق سرور نے ایک مشترکہ ویڈیو پیغام کے ذریعے کیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ:

  • تاجروں کی مشاورت سے فیصلہ: یہ فکسڈ ٹیکس نظام ملک بھر کی تاجر تنظیموں اور نمائندوں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات اور ان کے مطالبات کو مدِ نظر رکھ کر فائنل کیا گیا ہے۔
  • لوکل زبانوں میں فارم: تاجروں کی سہولت کے لیے ٹیکس ریٹرن کا فارم انتہائی سادہ بنایا گیا ہے جو پاکستان کی تمام مقامی (علاقائی) زبانوں میں دستیاب ہوگا۔
  • 35 سے 40 لاکھ نئے ٹیکس گزار: حکومت کو توقع ہے کہ اس آسان اسکیم کے ذریعے تقریباً 35 سے 40 لاکھ چھوٹے تاجر ٹیکس نیٹ کے دائرے میں شامل ہو جائیں گے، جس سے معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں بڑی مدد ملے گی۔

اسکیم کی اہم خصوصیات اور طریقہ کار

  1. ٹیکس کی شرح: ایسے تمام کاروبار جن کا سالانہ ٹرن اوور (مجموعی فروخت) 20 کروڑ روپے تک ہے، وہ اپنی ڈیکلیئرڈ سیلز کا صرف 1 فیصد فکسڈ ٹیکس دے کر اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
  2. مکمل طور پر رضاکارانہ (Voluntary): حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اسکیم کسی پر زبردستی نافذ نہیں کی جا رہی۔ جو تاجر اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے، وہ پرانے اور مروجہ نارمل ٹیکس نظام کے تحت اپنے گوشوارے جمع کروا سکتے ہیں۔
  3. موجودہ ٹیکس گزاروں پر بوجھ میں کمی: وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد ٹیکس کی شرح (Tax Rates) میں اضافہ کرنا نہیں، بلکہ ٹیکس نیٹ کو پھیلا کر ان لوگوں پر سے بوجھ کم کرنا ہے جو پہلے سے باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

سابقہ اسکیموں کے تجربات سے سیکھا گیا سبق

وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، جنہوں نے تاجر برادری کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی، نے بتایا کہ یہ نیا فریم ورک ماضی میں تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی ٹیکس اسکیموں کی ناکامی کے اسباب اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار تاجر برادری کے تحفظات کو دور کرتے ہوئے آڈٹ اور دکانوں پر پی او ایس (POS) مشینیں لگانے کی شرط ختم کی گئی ہے تاکہ دکاندار ہراساں ہونے کے خوف کے بغیر ٹیکس نیٹ کا حصہ بن سکیں۔

خلاصہ: معیشت کے لیے ایک مثبت قدم

حکومت کے اس اقدام کو معاشی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ٹیکس چوری کا تدارک ہوگا اور چھوٹے تاجروں کو قانونی دھارے میں آنے کا ایک سنہری موقع ملے گا۔ اب گیند تاجر برادری کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس رضاکارانہ اسکیم کا کتنا مثبت جواب دیتے ہیں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025