Preloader
How Have US Leftover Weapons In Afghanistan Enabled Terrorism

اہم نکات (مختصر خلاصہ)

  • اربوں ڈالر کا عسکری ترکہ: اگست 2021ء میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد تقریباً 7.1 ارب ڈالر کا جدید ترین امریکی عسکری سامان اور اسلحہ وہیں چھوٹ گیا۔
  • پاکستان میں دہشت گردی پر اثرات: کالعدم تنظیموں اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) نے نائٹ ویژن، جدید رائفلوں اور مواصلاتی آلات کے استعمال سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدت میں اضافہ کیا۔
  • علاقائی سیکیورٹی کا بحران: امریکی ہتھیاروں کی بلیک مارکیٹ اور غیر قانونی سمگلنگ نے پاک افغان سرحدی علاقوں اور جنوبی ایشیا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو شدید متاثر کیا ہے۔
  • عالمی و علاقائی مطالبات: معاشی و سیکیورٹی ماہرین اور پاکستانی حکام نے امریکی عدم توجہی اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر عالمی برادری سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

تعارف: 2021ء کا امریکی انخلاء اور خطے کی بدلتی سیکیورٹی صورتحال

اسلام آباد / کابل (خصوصی رپورٹ): اگست 2021ء میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان سے تیزی سے کیے جانے والے انخلاء نے جہاں دو دہائیوں پر محیط جنگ کا بظاہر خاتمہ کیا، وہیں اس کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا اور پیچھے چھوڑے جانے والے جدید ترین اسلحے نے جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان میں دہشت گردی کی ایک نئی اور خطرناک لہر کو جنم دیا ہے۔

امریکہ کی حمایت یافتہ افغان حکومت کی اچانک ناکامی اور کابل پر طالبان کے قبضے کے وقت اربوں ڈالر مالیت کی جدید عسکری ہارڈ ویئر افغان سرزمین پر ہی رہ گئی۔ آج یہ ہتھیار نہ صرف خطے کے سیکیورٹی ماحول کو نئی شکل دے رہے ہیں بلکہ سرحد پار پاکستان میں متحرک کالعدم اور کالعدم تنظیموں کے ہاتھ لگ کر پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک مسلسل اور دہلا دینے والا چیلنج بن چکے ہیں۔

7.1 ارب ڈالر کا اسلحہ: اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ

پینٹاگون اور بین الاقوامی مشاہداتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی فورسز نے انخلاء کے وقت جو عسکری ترکہ افغانستان میں چھوڑا، اس کے اعداد و شمار اور نوعیت انتہائی تشویشناک ہیں:

  1. مجموعی مالیاتی مالیت: تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار، گاڑیاں، اور مواصلاتی آلات۔
  2. جدید پیدل فوج کا اسلحہ: 310,000 سے زائد چھوٹے اور ہلکے ہتھیار، جن میں M4 اور M16 اسالٹ رائفلز، سنائپر رائفلز، اور گرینیڈ لانچرز شامل ہیں۔
  3. نائٹ ویژن اور تھرمل ڈیوائسز: 16,000 سے زائد نائٹ ویژن گوگلز (NVGs) اور حرارتی آلات (Thermal Imaging Units)، جن کی مدد سے اندھیرے میں بھی نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے۔
  4. عسکری گاڑیاں: 42,000 سے زائد ملٹری گاڑیاں، جن میں بارودی سرنگوں سے محفوظ بکتر بند گاڑیاں (MRAPs) اور ہمویز (Humvees) شامل ہیں۔
  5. مواصلاتی اور انٹیلی جنس آلات: 126,000 سے زائد جدید کمیونیکیشن اور انکرپٹڈ ریڈیو سسٹمز۔

امریکہ کے چھوڑے ہوئے اسلحے نے پاکستان میں دہشت گردی کو کیسے بڑھاوا دیا؟

پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی شدت اور ہلاکت خیزی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا بڑا سبب ان تنظیموں کے پاس جدید امریکی اسلحے کی دستیابی ہے۔

1. نائٹ ویژن ٹیکنالوجی کا غلط استعمال:

ماضی میں دہشت گرد بنیادی طور پر دن کے وقت یا عام روشنی میں حملے کرتے تھے، لیکن نائٹ ویژن ڈیوائسز (NVGs) اور تھرمل سائٹس ملنے کے بعد وہ رات کے اندھیرے میں سیکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹوں اور گشت کرنے والے اہلکاروں کو دور سے نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ اس سے فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

2. لانگ رینج اور لیزر گائیڈڈ ہتھیار:

M4 اور M16 جیسی امریکی رائفلز روایتی کلاشنکوف (AK-47) کے مقابلے میں زیادہ درست نشانہ باندھتی ہیں اور ان کی رینج بھی زیادہ ہے۔ کالعدم گروہ ان ہتھیاروں کی بدولت سیکیورٹی فورسز کے خلاف طویل فاصلے سے سنائپر حملے کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

3. سیکیورٹی فورسز کے خلاف برتری کا تاثر:

ان جدید آلات نے دہشت گرد تنظیموں کے مورال کو بڑھایا ہے۔ عام دہشت گردوں کے پاس وہی تکنیکی سہولیات پہنچ چکی ہیں جو صرف دنیا کی بہترین اور اعلیٰ تربیت یافتہ افواج کے پاس ہوتی ہیں۔

افغانستان کی بلیک مارکیٹ اور اسلحے کی سمگلنگ

افغانستان کے مختلف صوبوں، بالخصوص قندھار، ننگرہار اور پکتیا کی منڈیوں میں امریکی اسلحے کی کھلی خریدو فروخت کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ افغان حکومت کی جانب سے پابندیوں کے دعوؤں کے باوجود، نجی ہتھیاروں کے تاجر اور اسمگلرز سرحد پار پاکستان کے قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں ان ہتھیاروں کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • سرحدی سیکیورٹی پر دباؤ: پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے باوجود، دشوار گزار پہاڑی راستوں اور اسمگلنگ کے پرانے نیٹ ورکس کا استعمال کرتے ہوئے یہ ہتھیار دہشت گردوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔
  • مالیاتی وسائل: ان ہتھیاروں کی اسمگلنگ نے خطے میں غیر قانونی ڈرگس اور بھتہ خوری کے نجی فنڈنگ نیٹ ورکس کو بھی مضبوط کیا ہے۔

پاکستان کا سفارتی موقف اور عالمی برادری سے مطالبات

پاکستان نے متعدد عالمی فورمز اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس معاملے کو زبردست انداز میں اٹھایا ہے۔ اسلام آباد کا مسلسل موقف رہا ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا چاہیے اور امریکہ کے چھوڑے گئے اسلحے کا کنٹرول سنبھالنا چاہیے۔

پاکستان کے بنیادی مطالبات:

  • امریکہ کی ذمہ داری: امریکہ اور بین الاقوامی برادری اس بات کو تسلیم کریں کہ افغان انخلاء کی بے نظمی کا خمیازہ پاکستان کو اپنے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانی قربانیوں کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
  • طالبان حکومت پر دباؤ: کابل کی عبوری حکومت اپنے علاقے میں ان ہتھیاروں کی خرید و فروخت کو سختی سے روکے اور ان تمام ہتھیاروں کو نیلام یا تباہ کرنے کا باقاعدہ فریم ورک بنائے۔

سیکیورٹی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے: “امریکہ کا افغانستان سے اچانک نکل جانا تو ختم ہو گیا، لیکن اس کا غیر منصوبہ بند طریقہ کار اب ایک مستقل سلامتی کے خطرے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، بلکہ اگر یہ جدید ہتھیار مزید آگے پھیلے تو یہ عالمی سیکیورٹی کے لیے ایک نیا بحران بن سکتے ہیں۔”

ایڈیٹوریل نوٹ (تجزیاتی تبصرہ)

معروضی صحافتی نظر سے دیکھا جائے تو افغانستان میں باقی رہ جانے والا 7.1 ارب ڈالر کا امریکی عسکری ترکہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ عسکری انخلاء کے دوران غیر ذمہ دارانہ حکمت عملی کے نتائج کتنے خوفناک ہو سکتے ہیں۔ یہ اسلحہ صرف پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کی شہادتوں کا باعث نہیں بن رہا، بلکہ اس نے پورے خطے کے طاقت کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

پاکستان اگرچہ اس فتنے کا مقابلہ اپنی انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیتوں سے کر رہا ہے، لیکن جب تک اس نجی ہتھیاروں کی بلیک مارکیٹ کی ترسیل کی زنجیر کو بین الاقوامی تعاون اور افغان حکومت کی سخت گیری سے توڑا نہیں جاتا، تب تک سرحد پار دہشت گردی کا یہ چیلنج ختم ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص واشنگٹن کو اس المیے کی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔