خلاصہ (اہم نکات) اعلیٰ سطح کا دورہ: رکنِ قومی اسمبلی (NA-18) ہری پور بابر نواز خان اور سابق رکنِ صوبائی اسمبلی گوہر نواز خان نے کھلابٹ ٹاؤن شپ میں واقع شہید اختر نواز خان میموریل ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا اور مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ فوری فعالیت کے احکامات: ایم این اے بابر نواز خان نے ہسپتال کو بلا تاخیر مکمل طور پر فعال کرنے اور طبی عملے و ڈاکٹروں کی کمی کو فوری دور کرنے کی سخت ہدایت جاری کی۔ سیاسی رکاوٹوں کا ذکر: ایم این اے نے افسوس کا اظہار کیا کہ معیاری عمارت اور جدید بنیادی ڈھانچے کے باوجود ماضی میں سیاسی تعصب اور بنیادوں پر اس ہسپتال کو غیر فعال رکھا گیا۔ آئندہ کا لائحہ عمل: ہسپتال کو صوبائی سطح پر مزید بہتر بنانے کے لیے جلد گورنر خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیرِ صحت سے ملاقات کر کے مزید وسائل اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ افتتاح و پس منظر: کھلابٹ میں صحت کا دیرینہ مسئلہ ہری پور / کھلابٹ ٹاؤن شپ (خصوصی رپورٹ): ضلع ہری پور کے گنجان آباد علاقے کھلابٹ ٹاؤن شپ اور اس کے گرد و نواح کے رہائشیوں کے لیے معیاری اور بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ شہید عوام اختر نواز خان نے اپنے دورِ اقتدار میں علاقے کے عوام کو ان کی دہلیز پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک جدید اور مشنری ہسپتال قائم کیا تھا۔ تاہم، یہ افسوسناک حقیقت رہی ہے کہ کئی سال قبل تعمیر ہونے والی بہترین عمارت اور ڈھانچے کے باوجود یہ ہسپتال اب تک اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق خدمات فراہم کرنے سے قاصر رہا ہے۔ علاقے کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر کھلابٹ کے شہریوں کو معمولی علاج اور ایمرجنسی کی صورت میں بھی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (DHQ) ہسپتال ہری پور یا ایبٹ آباد کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس سے نہ صرف غریب عوام پر مالی بوجھ پڑتا تھا بلکہ قیمتی جانی نقصان کا اندیشہ بھی رہتا تھا۔ اس تناظر میں عوا می نمائندگان کا یہ دورہ خطے میں صحت کی سہولیات کی بحالی کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ اور ڈی ایچ او کی بریفنگ دورے کے دوران رکنِ قومی اسمبلی بابر نواز خان اور سابق ایم پی اے گوہر نواز خان نے ہسپتال کے مختلف وارڈز، ایمرجنسی بلاک، او پی ڈی (OPD) اور دیگر انتظامی ڈیپارٹمنٹس کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ہری پور ڈاکٹر محسن رضا ترابی نے دونوں رہنماؤں کو ہسپتال کی موجودہ انتظامی صورتحال، عمارت کے ڈھانچے اور درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ دورے کے موقع پر محکمہ صحت کے دیگر اعلیٰ حکام، مواصلات و تعمیرات (C&W) کے ایگزیکٹو انجینئر (XEN)، ہسپتال کا انتظامی عملہ اور مقامی سیاسی و سماجی شخصیات بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ حکام نے ایم این اے کو آگاہ کیا کہ اگر ضروری طبی آلات اور عملہ فراہم کر دیا جائے تو یہ ہسپتال علاقے کا ایک ماڈل ہیلتھ سینٹر بن سکتا ہے۔ “سیاسی بنیادوں پر ہسپتال کو غیر فعال رکھا گیا” — بابر نواز خان کی سخت تنقید معائنے کے بعد ذرائع ابلاغ اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ایم این اے بابر نواز خان نے ہسپتال کی غیر فعالی پر گہری تشویش اور برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی دلدوز ہے کہ اتنی بہترین، وسیع اور شاندار عمارت موجود ہونے کے باوجود صرف سیاسی دشمنی اور تعصب کی وجہ سے اس ہسپتال کو مفلوج بنا کر رکھا گیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا: “شہیدِ عوام اختر نواز خان نے اپنے دور میں عوام کی بلا تفریق خدمت کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے سیاسی چپقلش کی بنا پر اس ہسپتال کو نہیں چلنے دیا اور کھلابٹ کے ہزاروں شہریوں کو ان کے بنیادی انسانی اور قانونی حق سے محروم رکھا۔ تاہم، اب ہم اس ناانصافی کا خاتمہ کریں گے اور عوام کی خدمت کا سفر وہیں سے جوڑیں گے۔” ہسپتال کی بحالی کا ایکشن پلان اور اہم ترجیحات ہسپتال کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں: طبی عملے کی تعیناتی: ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹرز، میل میڈیکل آفیسرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور نرسنگ عملے کی شدید کمی کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنا۔ ایمرجنسی و او پی ڈی کی بحالی: کھلابٹ ٹاؤن شپ اور ملحقہ دیہات کے مریضوں کے لیے 24 گھنٹے ایمرجنسی سروس اور روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ او پی ڈی کا آغاز۔ سی اینڈ ڈبلیو کو ہدایات: محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے حکام کو ہدایت کی گئی کہ عمارت میں اگر کوئی معمولی فنی خرابی یا مرمت کی ضرورت ہے تو اسے فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ صوبائی حکام سے رابطہ: ایم این اے بابر نواز خان نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر جلد گورنر خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیرِ صحت سے اہم ملاقات کریں گے تاکہ ہسپتال کے لیے خصوصی فنڈز اور جدید آلات کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ کھلابٹ ٹاؤن شپ پر معاشی اور سماجی اثرات شہید اختر نواز خان میموریل ہسپتال کی مکمل فعالیت کے نتیجے میں نہ صرف کھلابٹ ٹاؤن شپ بلکہ گرد و نواح کی دسیوں ہزار آبادی پر مثبت اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ پہلوموجودہ صورتحالہسپتال فعال ہونے کے بعد کے اثراتطبی سفری اخراجاتمریضوں کو DHQ ہری پور یا ایبٹ آباد جانا پڑتا ہےعلاج دہلیز پر ملنے سے وقت اور کرائے کی بچت ہوگیایمرجنسی سہولیاتفوری طبی امداد کی عدم دستیابی سے خطرہ رہتا ہے24/7 ایمرجنسی بحالی سے قیمتی انساني جانیں بچائی جا سکیں گیڈی ایچ کیو ہسپتال پر بوجھمرکزی ہسپتالوں پر مریضوں کا شدید دباؤکھلابٹ میں ہسپتال چلنے سے مرکزی ہسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا عوامی ردِعمل اور مستقبل کی توقعات دورے کی خبر سامنے آتے ہی کھلابٹ ٹاؤن شپ، تربیلہ اور گرد و نواح کے عوامی و سماجی حلقوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ مقامي باشندوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ہسپتال سچ مچ فعال ہو جاتا ہے تو اس سے غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کو بہت بڑا سیاسی و معاشی دلاسہ ملے گا۔ اہلیانِ علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ جاری کردہ ہدایات کو صرف تحریری اعلاانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی طور پر ڈاکٹروں کی حاضری اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام طویل عرصے بعد اس پبلک ہیلتھ انفراسٹرکچر سے استفادہ کر سکیں۔ ایڈیٹوریل نوٹ (صحافتی و معروضی جائزہ) بطور ایک نیوز ایڈیٹر اور صحافی، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی انسانی حقوق کو سیاسی کشمکش اور پسند و ناپسند سے بالکل پاک ہونا چاہیے۔ شاہراہوں، سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر و فعالیت ریاست کی ذمہ داری ہے، نہ کہ کسی ایک فریق کا احسان۔ کھلابٹ کا یہ ہسپتال عوامی ٹیکسوں کے پیسوں سے تعمیر شدہ ایک قیمتی قومی اثاثہ ہے۔ ایم این اے بابر نواز خان کی جانب سے اس کی فوری فعالیت کا حکم ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب محکمہ صحت خیبر پختونخوا اور ضلعی انتظامیہ باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر کے یہاں درکار بجٹ، ماہر ڈاکٹرز اور ادویات کی فراہمی کو عملی جامہ پہنائینگے تاکہ یہ عوامی اثاثہ اپنی اصل روح کے مطابق شہریوں کی خدمت کر سکے۔ Post navigation پشاور سکول سانحے کے بعد بڑا فیصلہ: خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری سکولوں کی عمارتوں کی انسپکشن کا حکم، ہزارہ ڈویژن کے اضلاع میں اعلیٰ سطح کمیٹیاں قائم شیخوپورہ: “مہنگائی سے پاک پنجاب” ویژن کے تحت ضلعی انتظامیہ کا اہم اجلاس، گرانفروشی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ