خلاصہ (اہم نکات) اعلیٰ سطح اجلاس: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے “مہنگائی سے پاک پنجاب” ویژن کے تحت ڈی سی آفس شیخوپورہ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (انفورسمنٹ) امبرین چوہدری کی صدارت میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ انتظامیہ اور تاجروں کی شراکت: اجلاس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن شیخوپورہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کڑے فیصلوں کی منظوری: تمام کریانہ سٹورز پر سرکاری نرخ نامے کی آویزانی لازمی قرار دی گئی؛ گرانفروشوں، ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کا حکم۔ عوامی ریلیف کی ضمانت: پرائس کنٹرول روم کو 24/7 فعال بنانے اور تاجر برادری کے تعاون سے بازاروں میں مصنوعی مہنگائی کے مکمل خاتمے کا عزم۔ عوامی ریلیف اور پرائس کنٹرول مہم کا پس منظر شیخوپورہ (خصوصی رپورٹ): پنجاب بھر میں بالعموم اور ضلع شیخوپورہ میں بالخصوص عام بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کو مہنگائی اور گرانفروشی کے اثرات سے بچانا صوبائی حکومت کی اہم ترین ترجیح بنا ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے “مہنگائی سے پاک پنجاب” کے خصوصی ویژن کے باقاعدہ اعلان کے بعد صوبے کی تمام ضلعی انتظامیہ کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ عالمی یا ملکی سطح پر بنیادی اجناس کی پیداوار اور سپلائی چین مستحکم ہونے کے باوجود مقامی منڈیوں میں مصنوعی قحط، ذخیرہ اندوزی اور من مانے نرخوں پر اشیائے خوردونوش فروخت کی جاتی رہی ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر عام دیہاڑی دار اور متوسط طبقے کی جیب پر پڑتا ہے۔ شیخوپورہ میں ضلعی انتظامیہ نے اس رجحان کا مؤثر بابند کرنے اور بنیادی غذائی اجناس کی سرکاری قیمتوں پر دستیابی یقینی بنانے کے لیے فیلڈ ورک اور اجلاسوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ڈی سی آفس شیخوپورہ میں اہم اجلاس اور فیصلوں کی تفصیلات ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ رانا عدیل تصور کی خصوصی ہدایات پر 17 اکتوبر 2026 کو ڈی سی آفس کے کمیٹی روم میں ایک اعلیٰ سطحی جائزی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (انفورسمنٹ) امبرین چوہدری نے کی۔ اس اجلاس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی (EADA)، ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران، تمام پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن شیخوپورہ کے قائدین و نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور بازاروں میں نظم و ضبط قائم کرنے کے حوالے سے درج ذیل اہم انتظامی فیصلوں کی منظوری دی گئی: نرخ نامے پر من و عن عمل: ضلع بھر کی تمام دکانوں، بچت بازاروں اور کریانہ سٹورز پر ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کے طے شدہ نرخ نامے کے مطابق اشیاء کی فروخت لازمی ہوگی۔ روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ: کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن اور انتظامیہ کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر رابطہ قائم رہے گا تاکہ چینی، آٹا، گھی، دالوں اور چاول کی دستیابی اور قیمتوں کا فوری جائزہ لیا جا سکے۔ سخت قانونی کارروائی: گرانفروشی، ناپ تول میں کمی، ملاوٹ اور اشیائے خوردونوش کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے عناصر کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے اور دکانیں سیل کی جائیں گی۔ پرائس لسٹ کی نمائش: تمام چھوٹے بڑے کریانہ سٹورز پر سرکاری پرائس لسٹ کو نمایاں جگہ پر چسپاں کرنا لازمی ہوگا۔ کنٹرول روم کا فعال ہونا: عوام کی فوری شکایات کے ازالے کے لیے ضلعی سطح پر قائم پرائس کنٹرول روم کو مزید فعال اور تیز رفتار بنایا جائے گا۔ تاجر برادری کا کردار اور انتظامیہ کا موقف اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (انفورسمنٹ) امبرین چوہدری نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کا اولین مقصد عام شہری کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ ملکی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حب الوطنی اور سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا: “وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا وژن واضح ہے کہ عوام کو معیاری اور سستی اشیاء ان کی دہلیز تک ملنی چاہئیں۔ تاجر برادری ہماری بازو ہے اور ان کے مثبت تعاون کے بغیر مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ تاہم، جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کریں گے اور غریب عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالیں گے، ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔” اس موقع پر کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن شیخوپورہ کے نمائندگان نے ضلعی انتظامیہ کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ بلاجواز قیمتیں بڑھانے والے دکانداروں کی خود حوصلہ شکنی کریں گے اور سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کا فیلڈ ورک اور عوامی ردِعمل شیخوپورہ کی ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اس وقت فیلڈ میں مکمل طور پر متحرک ہیں۔ شہر کے مختلف منڈیوں، بازاروں اور گلی محلوں کے کریانہ سٹورز کا اچانک معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ موقع پر ہی گرانفروشوں پر جرمانے عائد کیے جا سکیں اور کارروائی کی جائے۔ پہلودرپیش چیلنجانتظامی اقدام / حلمصنوعی گرانفروشیمن مانی قیمتوں پر اشیاء کی فروختمجسٹریٹس کے چھاپے اور بھاری جرمانےذخیرہ اندوزیاشیاء کو چھپا کر قیمتیں بڑھاناگوداموں پر چھاپے اور مال کی ضبطیغیر معیاری اشیاءناقص خوراک اور ملاوٹفوڈ اتھارٹی کی جانب سے کوالٹی ٹیسٹنگعوامی شکایاتشکایات پر بروقت ایکشن نہ ہوناپرائس کنٹرول کنٹرول روم کا فوری تحرک شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس تحرک کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مجسٹریٹس کی فیلڈ میں موجودگی سے بازاروں میں قیمتیں مستحکم رہیں گی اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل سکے گا۔ ایڈیٹوریل نوٹ (صحافتی و معروضی جائزہ) بطور ایک ذمہ دار صحافی اور نیوز ایڈیٹر، یہ بات کہنی ضروری ہے کہ “مہنگائی سے پاک پنجاب” جیسے بلند بانگ ویژن کی اصل کامیابی صرف دفتری اجلاسوں اور نوٹیفکیشنز تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کا حقیقی امتحان بازاروں اور گلی محلوں کی دکانوں پر ہوتا ہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا فیلڈ میں شفاف اور بلاامتیاز عمل درآمد ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے عام شہری تک سستے اور معیاری سامان کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ تاجروں کی جائز مشکلات (مثلاً تھوک منڈی کے نرخ) کو بھی سنے تاکہ کوئی یکطرفہ کارروائی نہ ہو اور واقعی طور پر پائیدار بنیادوں پر عوام کو ریلیف ملے۔ Post navigation کھلابٹ ٹاؤن شپ: ایم این اے بابر نواز خان اور سابق ایم پی اے گوہر نواز خان کا شہید اختر نواز خان میموریل ہسپتال کا دورہ، ہسپتال کو فوری فعال کرنے کی ہدایت “کال کرنے والے کا نام موبائل سکرین پر نظر آئے گا” — پاکستان میں وائرل خبر کی حقیقت اور سی این اے پی کا سچ