Preloader
Called name identify reality

خلاصہ (اہم نکات)

  • وائرل خبر کا سچ: سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کے درمیان یہ خبر تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ یکم نومبر سے موبائل پر کال آنے پر کالر کا اصلی نام سکرین پر نمودار ہوگا، تاہم تحقیقات کے مطابق یہ خبر پاکستان سے متعلق نہیں ہے۔
  • انڈیا کا فیصلہ: انڈیا کے ڈیپارٹمنٹ آف ٹیلی کمیونیکیشن (DoT) نے 13 اکتوبر کو احکامات جاری کیے ہیں کہ یکم نومبر 2026 سے بھارت میں تمام ٹیلی کام کمپنیاں “کالنگ نیم پریزنٹیشن” (CNAP) سروس کا آغاز کریں گی۔
  • جعلی نیوز کا شکار: پاکستان میں جیو نیوز کا جعلی لوگو استعمال کر کے اس خبر کو مقامی سطح پر پھیلا کر صارفین کو مغالطے میں ڈالا گیا؛ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے ایسا کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا۔
  • ٹیکنالوجی کا ورک فلو: یہ سروس تھرڈ پارٹی ایپس (جیسے ٹرو کالر) کے بجائے سم کی باقاعدہ کے وائی سی (KYC) اور شناختی دستاویزات میں درج نام کے مطابق کام کرے گی۔

سوشل میڈیا پر وائرل خبر اور حقائق کا جائزہ

اسلام آباد / نئی دہلی (تحقیقاتی رپورٹ): گزشتہ چند دنوں سے پاکستان میں فیس بک، واٹس ایپ اور ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک سنسنی خیز خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یکم نومبر سے اگر کسی نامعلوم نمبر سے موبائل پر کال آئے گی تو سکرین پر اس شخص کا اصل نام لکھا ہوا آئے گا جس کے نام پر وہ سم رجسٹرڈ ہے۔

اس خبر نے نہ صرف عام شہریوں کی توجہ حاصل کی بلکہ رازداری (Privacy) اور سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف بحثوں کو جنم دیا۔ تاہم، ہماری صحافتی تحقیقات اور حقائق کی پڑتال (Fact Check) کے مطابق یہ دعویٰ پاکستان کے لیے مکمل طور پر بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پالیسی اقدام پڑوسی ملک انڈیا کا ہے، جسے پاکستان میں نادانستہ یا دانستہ طور پر غلط پس منظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔

جعلی نیوز اور میڈیا لوگو کا غلط استعمال

پاکستان میں اس افواہ کو تقویّت دینے کے لیے ایک نجی خبر رساں ادارے “جیو نیوز” (Geo News) کی دھندلی بریکنگ نیوز پلیٹ اور لوگو کو استعمال کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر فبریکیٹڈ (جعلی) گرافکس کا استعمال کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پی ٹی اے یا حکومتِ پاکستان نے موبائل کالنگ کے حوالے سے کوئی نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔

حقائق کی جانچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ:

  1. پی ٹی اے کا ردِعمل: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) یا وزارتِ اطلاعات و ٹیکنالوجی کی جانب سے کالر نیم ڈسپلے کے حوالے سے ایسا کوئی نوٹیفکیشن یا اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔
  2. پاکستانی ٹیلی کام کمپنیاں: پاکستان میں فعال کسی بھی ٹیلی کام آپریٹر (جیز، زونگ، ٹیلی نار، یوفون) نے ایسا کوئی نظام متعارف کرانے کی تصدیق نہیں کی۔
  3. بین الاقوامی ذرائع: یہ خبر اصل میں بھارت کے معروف اخبارات بشمول ‘بزنس سٹینڈرڈ’ (Business Standard) اور ‘دی ٹریبیون’ (The Tribune) میں شائع ہوئی تھی، جسے کاپی پیسٹ کر کے پاکستان سے جوڑ دیا گیا۔

سی این اے پی (CNAP) ٹیکنالوجی کیا ہے اور یہ کیسے کام کرے گی؟

انڈیا کے محکمہ ٹیلی مواصلات (DoT) نے 13 اکتوبر 2026 کو ایک باضابطہ حکم نامہ جاری کیا، جس کے تحت بھارت میں تمام ٹیلی کام کمپنیوں بشمول جیؤ (Jio)، ایئرٹیل (Airtel)، ووڈافون آئیڈیا (Vi) اور بی ایس این ایل (BSNL) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ یکم نومبر 2026 سے “کالنگ نیم پریزنٹیشن” (CNAP) سروس نافذ کریں۔

اس سروس کا بنیادی مقصد جعلسازی، سپیم کالز اور آن لائن فراڈ کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے کام کرنے کا طریقہ کار ذیل میں دیا گیا ہے:

  • کے وائی سی (KYC) کی بنیاد پر نام: کالر کا نام کسی تھرڈ پارٹی ایپ کے ڈیٹا بیس سے نہیں بلکہ سم خریدتے وقت فراہم کردہ سرکاری شناختی دستاویزات (KYC) کے مطابق دکھایا جائے گا۔
  • محفوظ شدہ نمبرز (Saved Contacts): اگر کال کرنے والے کا نمبر آپ کے فون کی فون بک میں پہلے سے محفوظ ہے، تو آپ کا سیو کیا ہوا نام ہی سکرین پر نظر آئے گا۔
  • نا معلوم نمبرز: اگر نمبر محفوظ نہیں ہے تو ٹیلی کام کمپنی کے آفیشل ریکارڈ کا نام سکرین پر ظاہر ہوگا۔
  • بین الاقوامی کالز: اگر کال پاکستان یا کسی بھی بیرونِ ملک سے انڈیا میں جائے گی تو سکرین پر نام کے بجائے صرف “International Call” لکھا ہوا آئے گا۔

انڈیا میں سی این اے پی کا نفاذ اور پرائیویسی کے خدشات

بھارت میں اس نظام کے نفاذ کے پیچھے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (TRAI) کی طویل سفارشات شامل ہیں۔ انڈیا میں سائبر کرائم، بینکنگ فراڈ اور جعلی کالز کے ذریعے رقم بٹورنے کے واقعات میں اضافہ ہوا تھا، جس کے پیشِ نظر حکومت نے تمام سمز کو صارف کے اصل نام کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا۔

پہلوروایت پسند ایپس (مثلاً Truecaller)سرکاری CNAP سروس (انڈیا)
ڈیٹا کا ماخذفون بک کراؤڈ سورسنگ (صارفین کی لسٹیں)سرکاری کے وائی سی (KYC) دستاویزات
درستگی کی شرحغیر حتمی (اکثر غلط یا مزاحیہ نام)100 فیصد حتمی اور قانونی نام
نیٹ ورک پر منحصرانٹرنیٹ ڈیوائس پر ہونا ضروریبغیر انٹرنیٹ فور جی / فائو جی نیٹ ورک پر فعال

تاہم، حقوقِ انسانی اور پرائیویسی کی تنظیموں کی جانب سے اس نظام پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی شہری کی رضامندی کے بغیر اس کا نام ہر کال پر عام کرنا اس کی ذاتی زندگی اور پرائیویسی کے منافی ہو سکتا ہے، بالخصوص خواتین کے لیے یہ سیکیورٹی کے خدشات پیدا کر سکتا ہے۔

پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کی صورتحال اور اثرات

اگرچہ پاکستان میں فی الحال سی این اے پی (CNAP) جیسا کوئی نظام نافذ نہیں کیا جا رہا، لیکن پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر پہلے ہی بائیو میٹرک تصدیق (BVS) کے ایک مضبوط نظام سے منسلک ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی سم بائیو میٹرک فنگر پرنٹ کی تصدیق کے بغیر جاری نہیں کی جاتی۔

پاکستانی صارفین کے لیے اس وائرل خبر کے اثرات اور سبق درج ذیل ہیں:

  1. جعلی خبروں سے ہوشیاری: سوشل میڈیا پر بنا تصدیق شیئر کی جانے والی خبریں سنسنی اور گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔ کسی بھی ٹیکنالوجی سے متعلق خبر کی تصدیق پی ٹی اے کی آفیشل ویب سائٹ سے کی جانی چاہیے۔
  2. سائبر سیکیورٹی ڈیوائسز: پاکستانی صارفین نامعلوم نمبروں کی شناخت کے لیے فی الحال تھرڈ پارٹی ایپس پر ہی انحصار کر رہے ہیں، جو کہ لازمی نہیں کہ درست معلومات فراہم کریں۔
  3. مستقبل کی پالیسی: پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر اگر مستقبل میں ایسا کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس کے لیے پہلے عوامی مشاورت اور قانونی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا تاکہ شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

ایڈیٹوریل نوٹ (صحافتی و معروضی جائزہ)

بطور ایک ذمہ دار صحافی اور نیوز ایڈیٹر، یہ بات واضح کرنا انتہائی ضروری ہے کہ ڈیجیٹل دور میں “فیک نیوز” اور مس انفارمیشن کا پھیلاؤ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔ انڈیا کے ٹیلی کام ڈیپارٹمنٹ کی خبر کو پاکستان سے جوڑنا اور اس پر جیو نیوز جیسے معروف ادارے کی جعلی بریکنگ لسٹ بنانا عوام میں تشویش پیدا کرنے کی غیر اخلاقی کوشش ہے۔ عوام اور قارئین سے التماس ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے سنسنی خیز ادعاجات پر فوری یقین کرنے کے بجائے مستند صحافتی ذرائع اور سرکاری اعلامیوں کا انتظار کریں۔ سی این اے پی (CNAP) سروس صرف اور صرف بھارت کے ٹیلی کام نیٹ ورکس کے لیے یکم نومبر 2026 سے لاگو ہو رہی ہے، پاکستان میں ایسا کوئی نظام فی الوقت زیرِ غور نہیں ہے۔