Preloader
Deputy Commissioner given the plan

خبر کا خلاصہ (اہم نکات)

  • ہنگامی آن لائن اجلاس: کمشنر کوہاٹ ڈویژن پرویز ثبت خیل کی زیر صدارت اتوار کے روز اعلیٰ سطحی آن لائن اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈویژن بھر کی ضلاعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔
  • بنیادی مسائل پر فوری اقدامات: مرکزی سڑکوں، نالیوں، ہسپتالوں اور سالڈ ویسٹ کلیکشن پوائنٹس کی صفائی، اسٹریٹ لائٹس کی فوری مرمت اور زرد لائنوں (Yellow Lines) کی تنصیب کا حکم دیا گیا۔
  • عوامی آڈٹ اور شفافیت: کمشنر نے صفائی و بحالی کے کاموں سے پہلے اور بعد کی تصاویر (Before & After Pictures) کی عوام کے سامنے اشاعت کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ شفافیت اور جوابدہی یقینی بنائی جا سکے۔
  • ادارتی ڈسپلن: صفائی عملے کے لیے دورانِ ڈیوٹی یونیفارم کی پابندی اور شہروں میں ٹریفک کی روانی کو ہر صورت برقرار رکھنے کی سخت تاکید کی گئی۔

کوہاٹ: نامہ نگار خصوصی

ریجنل دفتر اطلاعات و تعلقات عامہ کوہاٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ہینڈ آؤٹ کے مطابق، کوہاٹ ڈویژن میں بلدیاتی خدمات کی بہتری، شہری انفراسٹرکچر کی بحالی اور عوامی مسائل کے فوری تدارک کے لیے ایک جامع اور ہنگامی عملی منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کمشنر کوہاٹ ڈویژن پرویز ثبت خیل کی زیر صدارت 18 اکتوبر 2026ء (اتوار) کو ایک اہم آن لائن اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں، اسسٹنٹ کمشنروں، ٹی ایم ایز (TMA) اور دیگر بلدیاتی محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کا بنیادی محور کوہاٹ ڈویژن کے شہری و نیم شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی کی ابتر صورتحال کو بہتر بنانا، سرکاری عمارتوں کی دیکھ بھال، اور عوام کو روزمرہ کی زندگی میں درپیش بنیادی بلدیاتی مشکلات کو ختم کرنا تھا۔ کمشنر کوہاٹ نے چھٹی کے دن اس ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی سستی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس کے اہم فیصلے اور ضلعی انتظامیہ کو جاری کردہ ہدایات

کمشنر کوہاٹ ڈویژن نے ضلاعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کو واضح روڈ میپ فراہم کرتے ہوئے متعدد اہم احکامات جاری کیے۔ اجلاس میں کیے گئے بنیادی فیصلوں کی تفصیل درج ذیل اہم شعبہ جات پر محیط ہے:

1۔ صفائی ستھرائی اور کوڑا کرکٹ کی تلفی

  • مرکزی سڑکیں اور نالیاں: تمام اضلاع میں مرکزی شاہراہوں، تجارتی مراکز، گلی محلوں اور نالیوں کی روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ صفائی کی جائے۔
  • کوڑا جمع کرنے کے مقامات (Dumping Sites): ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور گنجان آباد علاقوں کے قریب موجود کوڑا کرکٹ جمع کرنے کے مقامات کی فوری صفائی کی جائے اور وہاں سے کچرا اٹھانے کے نظام کو جدید و باقاعدہ بنایا جائے۔
  • یونیفارم کی پابندی: بلدیاتی اداروں اور ڈبلیو ایس ایس سی (WSSC) کے صفائی عملے کے لیے ڈیوٹی کے اوقات میں مخصوص یونیفارم پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ان کی شناخت اور کاہلی کی نشاندہی ممکن ہو سکے۔

2۔ شہری بنیادی ڈھانچہ اور اسٹریٹ لائٹس

  • اسٹریٹ لائٹس کی بحالی: شہر کی مرکزی شاہراہوں اور تنگ گلیوں میں خراب اسٹریٹ لائٹس کی فوری مرمت اور نئی لائٹس کی تنصیب کے احکامات دیے گئے ہیں تاکہ رات کے وقت شہریوں اور ڈرائیوروں کو سیکیورٹی اور آمد و رفت میں دشواری نہ ہو۔
  • زرد لائنوں کی تنصیب (Yellow Line Marking): ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور تجاوزات کو روکنے کے لیے اہم سڑکوں کے کناروں، چوراہوں اور بازاروں میں زرد لائنیں لگانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ پارکنگ اور تجارتی حد بندی واضح ہو سکے۔

3۔ ٹریفک ڈسپلن اور سڑکوں کا نظم و ضبط

  • روانی کی ضمانت: بازاروں اور اہم چوراہوں پر غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ عام شہریوں، پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی روانی میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

عوامی آڈٹ، شفافیت اور “قبل و بعد” (Before & After) کی حکمت عملی

اس اجلاس کی سب سے اہم اور جدید ترین ہدایت عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے اور شفافیت سے متعلق تھی۔ کمشنر کوہاٹ ڈویژن پرویز ثبت خیل نے تمام متعلقہ اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں، اسکولوں، کالجوں اور دیگر عمومی عمارتوں میں کیے جانے والے صفائی و مرمتی کاموں کی “کام سے پہلے” (Before) اور “کام کے بعد” (After) کی تصاویر اور ویڈیوز باقاعدگی سے جاری کریں۔

اس حکمت عملی کا مقصد درج ذیل اہداف حاصل کرنا ہے:

  • کاغذی کارروائی کا خاتمہ: صرف فائلوں اور دفتری رپورٹس کے بجائے زمین پر ہونے والے حقیقی کام کی تصدیق کی جا سکے گی۔
  • عوامی اعتماد کی بحالی: شہری خود سوشل میڈیا اور سرکاری پورٹلز کے ذریعے اپنے علاقوں میں ہونے والے بہتری کے کاموں کو براہِ راست دیکھ سکیں گے۔
  • افسران کی جوابدہی: جو محکمے یا افسران اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے، ان کی کارکردگی میں کمی فوراً عیاں ہو جائے گی۔

خبر کا پس منظر اور کوہاٹ ڈویژن کے درپیش چیلنجز

کوہاٹ ڈویژن، جس میں کوہاٹ کے علاوہ کرک اور ہنگو جیسے اہم اضلاع شامل ہیں، جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے خیبر پختونخوا کا ایک اہم ریجن ہے۔ تاہم، حالیہ مہینوں کے دوران ان اضلاع کے بیشتر شہری علاقوں کو شدید انتظامی و بلدیاتی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

بنیادی چیلنجز جن کا نوٹس لیا گیا:

  1. شہری آبادی کا دباؤ: شہروں کی آبادی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث پرانا بلدیاتی نظام شدید دباؤ کا شکار تھا، جس کی وجہ سے ڈرینج (نکاسی آب) کے مسائل اور کچرے کے ڈھیر جابجا نظر آتے تھے۔
  2. ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں صفائی کا فقدان: عوام کی طرف سے مسلسل یہ شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ سرکاری ہسپتالوں اور اسکولوں کے اطراف میں گندگی اور نکاسی کا خراب نظام بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے۔
  3. ٹریفک کا دباؤ: بازاروں میں زرد لائنوں کی عدم موجودگی اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر بدترین ٹریفک جام دیکھنے کو ملتا تھا، جس سے ایمبولینسوں اور عام شہریوں کو سخت مشکلات درپیش تھیں۔

انہی عوامی شکایات اور درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر ڈویژنل انتظامیہ نے سنڈے (اتوار) کو ایمرجنسی آن لائن اجلاس بلا کر ان تمام شعبوں کی تطہیر کا حتمی پلان تشکیل دیا ہے۔

متوقع اثرات اور عوامی توقعات

معاشی و انتظامی ماہرین کا ماننا ہے کہ کمشنر کوہاٹ کی جانب سے جاری کردہ یہ احکامات اگر روح کے مطابق نافذ کیے گئے تو اس کے سوسائٹی پر دور رس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

  • صحت عامہ میں بہتری: ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے گرد صفائی سے ڈینگی، ملیریا اور دیگر تعفن سے پھیلنے والی بیماریوں میں ڈرامائی کمی آئے گی۔
  • شہری خوبصورتی: اسٹریٹ لائٹس کی بحالی اور زرد لائنوں کے عمل سے شہر کے منظر نامے میں نکھار آئے گا اور رات کے وقت جرائم پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔
  • گڈ گورننس کا قیام: “قبل و بعد” کی تصاویر شائع کرنے کا فیصلہ دیگر ڈویژنز کے لیے بھی گڈ گورننس کی ایک زبردست مثال بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے کرپشن اور جھوٹے دعوؤں کا راستہ بند ہو جائے گا۔

نتیجہ

کمشنر کوہاٹ ڈویژن پرویز ثبت خیل کی صدارت میں ہونے والا یہ آن لائن اجلاس صرف روایتی زبانی جمع خرچ کے بجائے ایک جامع اور قابلِ عمل فریم ورک پیش کرتا ہے۔ چھٹی کے دن ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنا اور ان پر واضح اہداف کی پابندی عائد کرنا ڈویژنل انتظامیہ کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

اب تمام تر نظریں ضلاعی ڈپٹی کمشنروں، اسسٹنٹ کمشنروں اور بلدیاتی اداروں کی فیلڈ ٹیموں پر جمی ہیں کہ وہ کتنی جلدی اور مؤثر انداز میں کمشنر کے ان احکامات کو زمین پر نافذ کرتے ہیں تاکہ کوہاٹ ڈویژن کے شہریوں کو ایک پاکیزہ، روشن اور منظم ماحول میسر آ سکے۔