Preloader
Youth from Mohmand raised voices

خبر کا خلاصہ (اہم نکات)

  • نوجوانوں کا ہنگامی مشاورتی اجلاس: ضلع مہمند کی تحصیل حلیمزئی کے علاقے شاتی کور میں ملک سعید اللہ کے حجرے میں تمام ذیلی تحصیلوں کے نوجوانوں، طلبہ اور سماجی رہنماؤں کا بڑا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
  • انضمام کے غیر فعال ثمرات: مقررین نے واضح کیا کہ ایف سی آر کے خاتمے اور خیبر پختونخوا میں انضمام کے باوجود بجلی، صحت، تعلیم، اور روزگار کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔
  • گورنر کے پی کے سے سیدھا مطالبہ: نوجوانوں نے گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کے لیے فیصلے کرتے وقت نوجوانوں کو باقاعدہ مشاورتی عمل اور فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی دی جائے۔
  • غیر سیاسی جدوجہد کا عزم: شرکاء نے سیاسی دھرنوں اور شاہراہوں کی بندش سے عام عوام کو درپیش مشکلات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے غیر سیاسی پلیٹ فارم سے حقوق کی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

/ مہمند: نامہ نگار خصوصی

سابقہ فاٹا اور موجودہ قبائلی ضلع مہمند کی تحصیل حلیمزئی کے موضع شاتی کور میں ملک سعید اللہ کے حجرے پر ایک بڑا اور انتہائی اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مہمند کے غیور اور تعلیم یافتہ نوجوانوں، طلبہ تنظیموں، سماجی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد علاقے کی بڑھتی ہوئی محرومیوں، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی، بے روزگاری، اور انضمام کے بعد پیدا ہونے والے بلاتعطل مسائل پر سیر حاصل گفتگو کرنا اور ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنا تھا۔

اس اہم مشاورتی اجلاس میں مہمند اسٹوڈنٹس یونین کے مرکزی صدر سبحان فخری، حمید اللہ، ملک سعید اللہ، سعید صافی اور ممتاز فلاحی و سماجی کارکن ملک میر افضل نے خصوصی شرکت کی اور خطاب کیا۔ ان کے علاوہ تحصیل خویزی بائیزئی، تحصیل صافی اور تحصیل حلیمزئی سمیت ضلع کے دور دراز علاقوں کے نوجوان نمائندے بھی جلسے میں شریک ہوئے۔

اجلاس کے اہم نکات اور نوجوان رہنماؤں کا نقطہ نظر

اجلاس میں مقررین نے قبائلی ضلع مہمند کو درپیش دیرینہ اور پیچیدہ مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قبائلی اضلاع مختلف انتظامی و سیاسی تجربات کی آماجگاہ بنے رہے لیکن مقامی آبادی کو اس کا کوئی عملی فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔

مقررین کے خطابات کے بنیادی پہلو مندرجہ ذیل اہم نکات پر مشتمل تھے:

  • انضمام کے بعد کے ادھورے وعدے: 2018ء میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (FCR) کے سیاہ قانون کے خاتمے اور قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد عوام کو یہ امید دلائی گئی تھی کہ اب انہیں بنیادی انسانی و آئینی حقوق ملیں گے۔ تاہم، سالہا سال گزرنے کے باوجود مہمند کا نوجوان تعلیم، صحت، بجلی اور بنیادی ڈھانچے سے محروم ہے۔
  • بے روزگاری کا لامتناہی سلسلہ: ضلع مہمند میں ہزاروں کی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در در کی خاک چھاننے پر مجبور ہیں۔ مقامی معدنیات اور وسائل پر مقامی افراد کا حق تسلیم نہ کیے جانے کے باعث بے روزگاری کے تناسب میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
  • بنیادی سہولیات کی نایابی: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سمیت مختلف دیہی مرکزِ صحت (BHUs) میں جدید طبی سہولیات، ادویات اور لیڈی ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی غیر حاضری اور بجلی کی طویل و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے روزمرہ کی زندگی فلج کر کے رکھ دی ہے۔
  • سیاسی احتجاج اور عوامی مشکلات: شرکاء نے مختلف سیاسی جماعتوں کے رویوں اور بار بار کے احتجاج، دھرنوں اور مرکزی شاہراہوں کی بندش پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طریقوں سے عام شہریوں، مریضوں اور تاجروں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اصل مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا سے نمائندگی اور عملی اقدامات کا مطالبہ

اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء اور رہنماؤں نے ایک متفقہ اعلامیہ کے ذریعے گورنر خیبر پختونخوا اور متعلقہ حکومتی ایوانوں کے سامنے اپنے بنیادی مطالبات رکھے:

  1. حکومتی فیصلہ سازی میں نمائندگی: گورنر خیبر پختونخوا اور صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ قبائلی اضلاع کی ترقیاتی پالیسیاں بناتے وقت اور مشاورتی عمل میں مہمند کے با صلاحیت اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو براہِ راست شامل کیا جائے اور ان کی رائے کو اہمیت دی جائے۔
  2. امداد اور فنڈز کا شفاف استعمال: قبائلی اضلاع کے لیے این ایف سی ایوارڈ اور این ایف سی ڈیوولوشن کے تحت اعلان کردہ 3 فیصد فنڈز کی بروقت اور شفاف فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ترقیاتی کام واقعی نظر آئیں۔
  3. روزگار کے مواقع اور صنعتی بحالی: علاقے میں قدرتی وسائل بالخصوص ماربل انڈسٹری کو باقاعدہ شکل دے کر مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولے جائیں۔
  4. بجلی، تعلیم اور صحت کے ہنگامی اقدامات: ضلع میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے، ناکارہ تعلیمی اداروں کو متحرک کیا جائے اور ہسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

غیر سیاسی جدوجہد: “ہمارا مقصد کسی پارٹی کا حصہ بننا نہیں”

اجلاس کے تمام مقررین نے اس بات کا اعادہ اور وضاحت کی کہ ان کے اس مشاورتی عمل کا مقصد کسی مخصوص سیاسی یا مذہبی جماعت کی ذیلی تنظیم کے طور پر کام کرنا یا ان کا آلہ کار بننا ہرگز نہیں ہے۔

نوجوان رہنماؤں کا کہنا تھا:

“ہماری جدوجہد کا محور اور مرکز صرف اور صرف ضلع مہمند کے عوام، بالخصوص محروم نوجوانوں کے بنیادی حقوق کی بحالی ہے۔ ہم کسی سیاسی ایندھن کا حصہ بنے بغیر، اپنے علاقے کی سچی ترجمانی اور حقوق کی آواز ایوانِ بالا تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں۔”

خبر کا پس منظر اور قبائلی اضلاع کا معاشی و انتظامی تناظر

ضلع مہمند، خیبر پختونخوا کے ان سات قبائلی اضلاع میں سے ایک ہے جو جغرافیائی اور معاشی لحاظ سے اہم ترین حیثیت رکھتے ہیں۔ تاریخی طور پر 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت مہمند کا ضم ہونا خطے میں ایک نیا باب ثابت ہونا چاہیے تھا، مگر معاشی دھارے میں شامل نہ کیے جانے کی وجہ سے اب بھی علاقے میں بنیادی سہولیات کا سنگین بحران موجود ہے۔

درپیش درپیش جغرافیائی و معاشی چیلنجز:

  • معدنی وسائل کا نامکمل استعمال: ضلع مہمند اعلیٰ معیار کے ماربل اور دیگر معدنیات سے مالا مال ہے، لیکن جدید ٹیکنالوجی اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے اس سے مقامی آبادی کو متوقع معاشی فائدہ نہیں مل سکا۔
  • انفراسٹرکچر کی زبوں حالی: سرحد پار سے متصل ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ سیکورٹی اور نقل و حمل کے معاملے میں حساس رہا ہے، تاہم رابطہ سڑکوں کی خستہ حالی نے مقامی تاجروں اور عوام کے لیے نقل و حمل کو بے حد دشوار بنا رکھا ہے۔
  • ترقیاتی بجٹ کی عدم فراہمی: انضمام کے وقت دس سالہ تجدید و ترقیاتی پلان (TDP) کے تحت جن خطیر رقموں کے وعدے کیے گئے تھے، ان پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا اس عدم اطمینان کا بنیادی سبب ہے۔

مستقبل کے اثرات اور حکومت کے لیے لائحہ عمل

مہمند کی تحصیل حلیمزئی میں ہونے والا یہ اجلاس محض ایک سادہ نشست نہیں، بلکہ اس بات کا واضح پیش خیمہ ہے کہ قبائلی اضلاع کا نوجوان اب اپنے حقوق کے معاملے میں باشعور ہو چکا ہے۔ اگر صوبائی انتظامیہ اور گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے نوجوانوں کے ان پرامن اور آئینی مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس سے نوجوانوں میں مایوسی کی لہر مزید گہری ہو سکتی ہے۔

تاہم، اگر حکومت آگے بڑھ کر ان نوجوانوں سے رابطہ قائم کرے اور انہیں علاقائی ترقی میں شراکت دار بنائے، تو اس سے نہ صرف علاقے میں پائیدار امن و امان قائم ہوگا بلکہ ڈویژنل و صوبائی معیشت میں بھی انقلابی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

ضلع مہمند کے نوجوانوں نے تحصیل حلیمزئی کے اس مشاورتی اجلاس سے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ شٹ ڈاؤن ہڑتالوں یا سیاسی انتشار کے بجائے پرامن، آئینی اور مشاورتی راستے پر یقین رکھتے ہیں۔ اب گیند گورنر خیبر پختونخوا اور حکومتی اربابِ اختیار کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان نوجوانوں کے ہاتھ میں قلم، ڈگری اور روزگار تھما کر ان کی محرومیوں کے ازالے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدام اٹھاتے ہیں یا نہیں۔