خبر کا خلاصہ (اہم نکات) بڑی گرفتاری: کیپیٹل سٹی پولیس پشاور کی کینٹ ڈویژن پولیس نے کامیابی سے چھاپہ مار کر 2018ء کے قتل کے مقدمے میں مطلوب مفرور اشتہاری مجرم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کی شناخت: گرفتار ملزم کی شناخت مشتاق خان ولد عراق شاہ کے نام سے ہوئی ہے جو اصل میں بڈھ بیر کا رہائشی ہے اور حال ہی میں باڑہ گیٹ نسیم کالونی میں مقیم تھا۔ دوہرے جرائم میں ملوث: ملزم پر سال 2018 میں بڈھ بیر کی حدود میں معمولی تکرار پر شہری کو قتل کرنے کا الزام ہے، جبکہ وہ تھانہ گلبرگ کی حدود میں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث پایا گیا۔ پولیس کا عزم: پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جس کے دوران اہم انکشافات اور مزید گرفتاریوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ پشاور: جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کیپیٹل سٹی پولیس پشاور (CCPO) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، شہر میں سنگین جرائم، مفرور اشتہاریوں اور معاشی و اخلاقی جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف اعلیٰ حکام کی خصوصی ہدایات پر ایک وسیع کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس سلسلے میں پولیس کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے جس میں طویل عرصے سے مفرور اور خطرناک اشتہاری کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایس پی کینٹ ڈویژن محمد جنید کھرل کی براہِ راست نگرانی میں کی گئی۔ کارروائی کی قیادت ڈی ایس پی کینٹ سرکل دوست محمد خان اور ایس ایچ او تھانہ گلبرگ فہیم شاہ خان نے کی، جن کے ہمراہ پولیس کی نفری نے حکمتِ عملی کے تحت باڑہ گیٹ اور نسیم کالونی کے اطراف میں کامیاب ریڈ کیا۔ واقعے کا پس منظر اور ملزم کا مجرمانہ ریکارڈ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت مشتاق خان ولد عراق شاہ کے نام سے ہوئی ہے، جو بنیادی طور پر بڈھ بیر کا رہائشی ہے، تاہم پولیس سے گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ مختلف مقامات بدلتا رہا اور حال ہی میں باڑہ گیٹ نسیم کالونی میں رہائش پذیر تھا۔ ملزم پر قائم مقدمات اور مجرمانہ ریکارڈ کا پس منظر درج ذیل اہم نکات پر مشتمل ہے: قتل کا واقعہ (2018ء): سال 2018 میں تھانہ بڈھ بیر کی حدود میں ایک زبانی تکرار اور معمولی تلخ کلامی کے نتیجے میں ملزم مشتاق خان نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک شہری کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ روپوشی اور اشتہاری ہونا: قتل کی اس سنگین واردات کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا تھا اور گزشتہ 8 سالوں سے قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے روپوش تھا۔ تھانہ بڈھ بیر پولیس نے اسے قانون کے مطابق مجرم اشتہاری (Proclaimed Offender) قرار دے رکھا تھا۔ غیر اخلاقی سرگرمیاں: روپوشی کے دوران ملزم نے تھانہ گلبرگ پشاور کی حدود میں رہائش اختیار کی، جہاں وہ مختلف غیر اخلاقی اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا، جس پر گلبرگ پولیس کو بھی اس کی سخت تلاش تھی۔ گرفتاری کا طریقہ کار اور پولیس تفتیش ایس ایچ او تھانہ گلبرگ فہیم شاہ خان کو خفیہ ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی کہ 2018ء کا مفرور اشتہاری ملزم نسیم کالونی کے علاقے میں روپوش ہے اور علاقے کے امن و امان میں خلل ڈال رہا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی کینٹ سرکل کی ہدایت پر پولیس ٹیم نے علاقے کو گھیرے میں لے کر جدید ٹیکنالوجی اور انسانی انفارمرز کی مدد سے ملزم مشتاق خان کو دبوچ لیا۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو فوری طور پر تھانے منتقل کیا گیا جہاں اس سے ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے دورانِ تفتیش یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ روپوشی کے دوران اسے کن افراد کی سرپرستی حاصل رہی اور کیا وہ دیگر کسی منظم جرم، اسلحہ کی اسمگلنگ یا ساہوکاری کے نظام میں تو ملوث نہیں تھا۔ پولیس کو امید ہے کہ تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔ پشاور میں اشتہاریوں کے خلاف مہم اور اس کے اثرات پشاور کا شمار خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں صوبائی دارالحکومت ہونے کے باعث ملکی و غیر ملکی نقل و حرکت زیادہ رہتی ہے۔ اسی وجہ سے سنگین جرائم کے بعد مفرور ہونے والے ملزمان اکثر شہر کے گنجان آباد اور بارڈر سے ملحقہ علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ شہریوں پر نفسیاتی و معاشی اثرات: سنگین جرائم اور خصوصاً قتل کے ملزمان کا آزاد گھومنا معاشرے میں خوف و ہراس اور ناامنی کے احساس کو جنم دیتا ہے۔ جب سالہا سال سے مفرور اشتہاری گرفتار ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف مقتولین کے لواحقین کو انصاف ملتا ہے بلکہ عام شہریوں کا قانون اور پولیس پر اعتماد بحال ہوتا ہے۔ پولیس کی نئی حکمت عملی: کیپیٹل سٹی پولیس پشاور نے حال ہی میں اشتہاریوں کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کیا ہے، جس کے تحت ہر تھانے کے ایس ایچ او کو اپنے علاقے میں موجود پرانے اشتہاریوں کی گرفتاری کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ تھانہ گلبرگ کی یہ کارروائی اسی جامع حکمت عملی کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ اعلیٰ حکام کا ردِعمل اور عزم اس کامیاب کارروائی پر کیپیٹل سٹی پولیس کے اعلیٰ افسران نے ایس پی کینٹ ڈویژن محمد جنید کھرل، ڈی ایس پی دوست محمد خان اور ایس ایچ او فہیم شاہ خان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے: “کیپیٹل سٹی پولیس پشاور جرائم کے خاتمے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ وقت پرعزم ہے۔ پشاور کو جرائم سے پاک بنانے کے لیے مفرور اشتہاریوں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا۔” نتیجہ 8 سال قبل قتل کی واردات کے بعد روپوش ہونے والے خطرناک اشتہاری مشتاق خان کی گرفتاری پشاور پولیس کے لیے ایک نمایاں کامیابی ہے۔ یہ گرفتاری اس بات کا واضح پیغام ہے کہ جرم کرنے کے بعد قانون کی نظروں سے کچھ عرصے کے لیے تو اوجھل ہوا جا سکتا ہے، لیکن قانون کے لمبے ہاتھوں سے مستقل بچنا ممکن نہیں۔ شہریوں نے پولیس کی اس بروقت اور موثر کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت میں مضبوط چالان پیش کر کے مقتول کے خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ Post navigation ضلع مہمند کے نوجوانوں کا نعرۂ حق: انضمام کے بعد بھی محرومیاں برقرار، امن، روزگار اور گورنر کے پی کے سے نمائندگی کا مطالبہ پشاور پولیس کی گلبہار میں بڑی کارروائی: اقدامِ قتل اور منشیات فروشی میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، آئس اور اسلحہ برآمد