Preloader
Haripur administrative actions against price control

خبر کا خلاصہ (اہم نکات)

  • ہنگامی فیلڈ انسپکشن: ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) ہری پور نے شہر کے اہم تجارتی مراکز دربنڈ اڈہ، چھپر روڈ اور جی ٹی روڈ کا اچانک تفصیلی معائنہ کیا۔
  • جامع جانچ پڑتال: فیلڈ آپریشن کے دوران کریانہ اسٹورز، برائلر شاپس، سبزی و پھل فروشوں، ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر قیمتوں، وزن کے پیمانوں اور حفظانِ صحت کے اصولوں کا جائزہ لیا گیا۔
  • قانون شکنوں کے خلاف یکدم کارروائی: سرکاری نرخ نامے آویزاں نہ کرنے، صفائی کے ناقص انتظامات اور گرانفروشی پر متعدد دکانداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی اور جرمانے عائد کیے گئے۔
  • مستقبل کا لائحہ عمل: ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو سستی اور معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے تمام تجارتی مراکز کی باقاعدہ مانیٹرنگ بلا تعطل جاری رہے گی۔

ہری پور: نامہ نگار خصوصی

ضلعی انتظامیہ ہری پور کی جانب سے عوام الناس کو گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری خوراک کی فروخت سے بچانے کے لیے گرینڈ پرائس کنٹرول آپریشن تیز کر دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے واضح احکامات اور ضلعی انتظام کے ریلیف ایجنڈے کے تحت ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) ہری پور نے شہر کے مختلف اہم ترین کاروباری اور تجارتی مراکز کا مفصل دورہ کیا۔

دورے کا بنیادی مقصد عام شہریوں کو مقررہ اور کنٹرول شدہ نرخوں پر معیاری اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانا، ناپ تول میں کمی کا تدارک کرنا اور کھانے پینے کے مراکز میں صفائی و حفظانِ صحت کے بین الاقوامی اور سرکاری اصولوں کا انفاذ قائم کرنا تھا۔

مختلف تجارتی مراکز اور بازاروں کا تفصیلی معائنہ

ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریونیو نے اپنی ٹیم اور پولیس نفری کے ہمراہ شہر کی مرکزی شاہراہوں اور گنجان تجارتی علاقوں کا دورہ کیا۔ معائنے کے دائرہ کار میں مندرجہ ذیل اہم ترین تجارتی مراکز شامل تھے:

  1. دربنڈ اڈہ: جہاں عوامی آمد و رفت زیادہ ہونے کے باعث مسافروں اور مقامی لوگوں کو پھل، سبزی اور دیگر اشیاء کی فروخت کا جائزہ لیا گیا۔
  2. چھپر روڈ: مقامی تجارتی مرکز پر کریانہ اسٹورز، ہول سیل دکانوں اور ہوٹلوں کی جانچ کی گئی۔
  3. جی ٹی روڈ: مرکزی شاہراہ پر واقع فاسٹ فوڈ پوائنٹس، بیکریز، ٹک شاپس اور ہوٹلوں کا معائنہ کیا گیا۔

معائنے کے دوران افسرِ اعلیٰ نے خود دکانوں کے اندر جا کر اشیاء کے نرخ، کوالٹی اور وزنی ترازوؤں کی جانچ کی۔

جانچ پڑتال کے بنیادی اشاریے اور شعبہ جات

فیلڈ آپریشن محض ایک سطحی دورہ نہیں تھا بلکہ اس میں بنیادی طور پر چار اہم نکات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی:

  • اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اور نرخ نامے: کریانہ، سبزی، پھل اور گوشت کی دکانوں پر روزانہ کی بنیاد پر جاری کردہ سرکاری ریٹ لسٹ کی موجودگی اور اس پر عمل درآمد کو چیک کیا گیا۔
  • وزن کے پیمانے (Weights & Measures): الیکٹرانک اور روایتی ترازوؤں کی درستی کو جانچا گیا تاکہ خریداروں کو ناپ تول میں کسی قسم کی کمی یا دھوکہ دہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
  • حفظانِ صحت اور صفائی (Hygiene Standards): فاسٹ فوڈ پوائنٹس، ہوٹلوں اور برائلر شاپس پر برتنوں، کچن، ڈریج اور عملے کی ذاتی صفائی کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا۔
  • معیاری اور فریش اشیاء: کھلے تیل، مصالحہ جات، گوشت اور دودھ کے معیار کی جانچ کی گئی تاکہ غیر معیاری یا فرسودہ خوراک کی فروخت کو روکا جا سکے۔

خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی اور احکامات

دورانِ معائنہ متعدد دکانداروں، ہوٹل مالکان اور تاجروں کی جانب سے معمولی و سنگین نوعیت کی خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئیں۔

انتظامی کارروائیاں:

  • آن دی اسپاٹ جرمانے: سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں نہ کرنے، اوور چارجنگ اور صفائی کے ناقص انتظامات پر متعدد افراد پر موقع پر ہی بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔
  • سخت وارننگز: معمولی نقائص پر دکانداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر حالات میں سدھار لائیں، بصورتِ دیگر ان کی دکانیں سیل کر دی جائیں گی۔
  • اصلاحی ہدایات: تمام دکانداروں کو پابند کیا گیا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نرخ نامے نمایاں مقام پر آویزاں کریں اور خریداروں سے طے شدہ قیمتوں سے ایک روپیہ بھی زائد وصول نہ کریں۔

خبر کا پس منظر: ہری پور کے معاشی اور انتظامی چیلنجز

ضلع ہری پور، خیبر پختونخوا کا ایک گنجان اور صنعتی و زرعی لحاظ سے متحرک ضلع ہے۔ جی ٹی روڈ اور ہزارہ موٹروے سے متصل ہونے کی وجہ سے یہاں تجارتی سرگرمیاں سارا سال عروج پر رہتی ہیں۔ تاہم، حالیہ معاشی اتار چڑھاؤ اور مہنگائی کی لہر کے باعث مقامی سطح پر منافع خور اور ذخیرہ اندوز اکثر مصنوعات کی مصنوعی قلت اور اوور چارجنگ کی کوشش کرتے ہیں۔

درپیش چیلنجز پر ایک نظر:

  • مصنوعی گرانی: بعض تاجر منڈی کے نرخوں سے ہٹ کر خود ساختہ قیمتیں مقرر کر لیتے ہیں جس کا براہِ راست بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔
  • غیر معیاری فاسٹ فوڈ: جی ٹی روڈ اور چھپر روڈ پر قائم ریستورانوں اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس میں ناقص کوکنگ آئل اور پرانا گوشت استعمال کرنے کی شکایات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔
  • عوامی ردِعمل: شہریوں کا طویل عرصے سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور ریونیو افسران صرف پیپر ورک کے بجائے عملًا بازاروں میں نکل کر گرانفروشوں کا محاسبہ کریں۔

ان حالات میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کا یہ سرپرائز وزٹ عوامی تشویش کو کم کرنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی جانب ایک اہم گام ہے۔

عوامی ردِعمل اور انتظامیہ کا عزم

ہری پور کے مقامی شہریوں، تاجر برادری کے معززین اور سول سوسائٹی نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کی اس بروقت اور سخت کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بازاروں میں انتظامیہ کی موجودگی سے دکاندار خود بخود قانون کی پاسداری پر مجبور ہوتے ہیں اور عام آدمی کو ریلیف ملتا ہے۔

ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریونیو ہری پور نے دورے کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

“عوام کا معاشی استحصال اور ان کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہری پور کی انتظامیہ شہریوں کو مناسب قیمتوں پر معیاری اشیائے ضروریہ کی دستیابی کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ پرائس کنٹرول انسپکشن کا یہ سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر ہری پور کی تمام تحصیلوں اور بازاروں میں بغیر کسی رعایت کے جاری رہے گا۔”

نتیجہ

ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریونیو ہری پور کا دربنڈ اڈہ، چھپر روڈ اور جی ٹی روڈ کا یہ تفصیلی اور سخت دورہ گڈ گورننس اور پرائس کنٹرول کی ایک بہترین مثال ہے۔ اگر اسی طرح فیلڈ افسران مسلسل اور بلا تعطل بازاروں کی مانیٹرنگ جاری رکھیں تو نہ صرف ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ممکن ہوگا بلکہ عوام کا سرکاری مشینری اور قانون پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوگا۔