Preloader
Actions is mandatory against encroachment

پشاور (رپورٹ: انورزیب خان) — گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کا تفصیلی معائنہ کیا او واضح کیا ہے کہ صوبے بھر سے تجاوزات کا خاتمہ بلاامتیاز کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا جبکہ کرپشن اور نااہلی پر مبنی منصوبوں کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

📌 اہم نکات (خلاصہ)

  • بلاامتیاز آپریشن: صوبے بھر میں تجاوزات کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی، کسی بھی سیاسی سفارش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
  • عوامی اور ترقیاتی منصوبے: صرف شہریوں کے فائدے کے لیے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبے جلد مکمل ہوں گے، جبکہ نجی منافع بخش یا غیر ضروری منصوبوں کے ذمہ داروں کا احتساب ہوگا۔
  • توانائی و بجلی کا مسئلہ: بجلی چوری کے خاتمے اور ریکوری میں बेहतری کے بغیر لوڈشیڈنگ پر قابو پانا ممکن نہیں؛ وفاق اور صوبوں کے درمیان تصادم کے بجائے تعاون کی پالیسی اپنائی جائے گی۔
  • ٹریفک اور شہری سہولیات: ہائی کورٹ کے سامنے بند راستے کو کھول دیا جائے گا اور شہر میں ٹریفک کے قوانین کا سخت نفاذ یقینی بنایا جائے گا۔

تجاوزات کے خلاف آپریشن کا معائنہ اور سخت احکامات

پشاور میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت سمیت پورے خیبرپختونخوا کو تجاوزات سے پاک کرنا موجودہ انتظامیہ کی اولیں ترجیح ہے۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں جاری تجاوزات مخالف آپریشن کے عمل کا خود معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جہاں جہاں بھی غیر قانونی تجاوزات موجود ہیں، انہیں فوری طور پر ہٹایا جائے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے واضح الفاظ میں کہا:

“تجاوزات کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔ ہم اس مہم میں کسی قسم کا سیاسی دباؤ قبول کریں گے اور نہ ہی تجاوزات کے خاتمے کے لیے کسی سیاسی شخصیت کی سفارش چلے گی۔ قانون سب کے لیے برابر ہے اور صوبے کی خوبصورتی اور شہریوں کی سہولت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔”

شہری مسائل، راستوں کی کشادگی اور ٹریفک قوانین کا نفاذ

پشاور شہر میں طویل عرصے سے درپیش ٹریفک اور راستوں کی بندش کے مسائل پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے سامنے بند راستے کو جلد از جلد کھول دیا جائے گا تاکہ عام شہریوں اور وکلاء کو آمدورفت میں آسانی ہو سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک قوانین کے سخت نفاذ کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کی بدنظمی اور حادثات پر قابو پانے کے لیے قانون کی پاسداری ہر شہری پر لازم ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

گندم کی رپورٹ اور ترقیاتی منصوبوں کا شفاف احتساب

گندم کے بحران اور متعلقہ تحقیقات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گندم کے حوالے سے جیسے ہی حتمی رپورٹ سامنے آئے گی، ذمہ داران کے خلاف بلا تاخیر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یقینی دہانی کرائی کہ عوامی شفافیت کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔

صوبے میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے دو ٹوک موقوف اختیار کیا:

  1. عوامی مفاد کے منصوبے: وہ تمام منصوبے جن کا براہ راست تعلق شہریوں کی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے سے ہے، انہیں بلا تاخیر اور جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔
  2. غیر معیاری یا مفاد پرستانہ منصوبے: جن منصوبوں کو صرف ذاتی یا مالی مفادات کے لیے شروع کیا گیا اور جن سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا، ان کے ذمہ داروں کا تعین کرکے سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ، بجلی چوری اور وفاق کے ساتھ تعلقات

خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور وفاق کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے گورنر نے معروضی اور حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے، تاہم شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا:

“بجلی چوری کے زمانے اب چلے گئے۔ اگر بجلی کے بلوں کی ریکوری نہیں ہوگی تو نئی بجلی کیسے پیدا ہوگی اور فراہمی کا سلسلہ کیسے برقرار رہے گا؟”

وفاق اور صوبے کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے گورنر نے واضح کیا کہ وفاق کے ساتھ خیبرپختونخوا کی کوئی لڑائی یا تصادم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام صوبوں کے ساتھ بہترین اور خوشگوار تعلقات برقرار رکھنے کے قائل ہیں اور باہمی تعاون و افہام و تفہیم کے ذریعے ہی صوبے کے تمام جائز حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

تجزیہ اور پس منظر: پشاور اور صوبائی انتظامیہ کے چیلنجز

پشاور کو ماضی میں “پھولوں کا شہر” کہا جاتا تھا، تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں بے ہنگم آبادی، غیر قانونی تجاوزات اور ناکافی شہری منصوبہ بندی کی وجہ سے شہر شدید مسائل کی زد میں آ چکا ہے۔ پشاور کے تجارتی مراکز، جیسے کہ قصہ خوانی بازار، صدر، اور یونیورسٹی روڈ پر تجاوزات کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر شدید ٹریفک جام کا سامنا رہتا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا تجاوزات کے خلاف یہ اعلان اور معائنہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے کو معاشی اور انتظامی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

اہم چیلنجز کا جائزہ:

  • انتظامی استقامت: ماضی میں بھی تجاوزات کے خلاف کئی مہمات شروع کی گئیں، لیکن سیاسی مداخلت اور مقامی اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ مہمات پائیدار ثابت نہ ہو سکیں۔ اس بار سیاسی سفارش نہ ماننے کا عزم کتنا موثر رہتا ہے، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
  • بجلی کے بقایا جات اور ریکوری: خیبرپختونخوا میں بجلی کے نقصانات (Line Losses) اور بلوں کی عدم ادائیگی ایک طویل المدتی مسئلہ رہا ہے۔ وفاق کے ساتھ محاذ آرائی سے بچ کر مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنا صوبائی معاشی استحکام کے لیے مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
  • شفافیت اور احتساب: گندم رپورٹ اور ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال کے عمل میں غیر جانبدارانہ شفافیت برقرار رکھنا عوام میں اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اختتامیہ

گورنر خیبرپختونخوا کے حالیہ اقدامات اور اعلانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ صوبے میں قانون کی حکمرانی اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے متحرک ہے۔ تاہم، ان اعلانات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تجاوزات مخالف آپریشن، ٹریفک قوانین کا نفاذ، اور کرپشن کے خلاف کارروائیاں کس حد تک تسلسل اور بلاامتیاز شفافیت کے ساتھ جاری رکھی جاتی ہیں۔

کیا آپ اس آرٹیکل میں مزید کسی مخصوص علاقے کے حوالے سے تفصیلات یا کسی صوبائی ادارے کا موقف شامل کرنا چاہتے ہیں؟