Preloader
SP police extended apologize to Press Club

اہم نکات (خبر کا خلاصہ)

  • پولیس انتظامیہ کا اقدام: پشاور میں فوٹو جرنلسٹس حسین علی اور حسنین علی پر مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد ایس پی سٹی عدنان پشاور پریس کلب پہنچے اور صحافی برادری سے ملاقات کر کے معذرت کی۔
  • باؤنڈنگ اور باہمی تعلقات: ایس پی سٹی نے پولیس اور صحافیوں کے تعلق کو “چولی دامن کا ساتھ” قرار دیتے ہوئے باہمی احترام، تعاون اور اعتماد کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
  • خوش اسلوبی سے حل: پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں اور صحافیوں کی موجودگی میں معاملے کو مذاکرات، افہام و تفہیم اور مثبت انداز میں طے کر لیا گیا۔
  • مستقبل کے لیے اقدامات: پولیس حکام نے صحافیوں کے تحفظ، باہمی رابطوں کو مضبوط بنانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

واقعے کی تفصیلات: تنازع سے معذرت اور مصالحت تک کا سفر

پشاور (خاص رپورٹ): صوبائی دارالحکومت پشاور میں پولیس انتظامیہ اور صحافی برادری کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی بالاخر خوش اسلوبی اور مثبت گفتگو کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ چند روز قبل صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران فوٹو جرنلسٹس حسین علی اور حسنین علی کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی سٹی عدنان خود پشاور پریس کلب پہنچے۔

پشاور پریس کلب آمد کے موقع پر پریس کلب کی انتظامیہ، خیبر یونین آف جرنلسٹس (KhUJ) کے عہدیداروں اور فوٹو جرنلسٹس فورم کے اراکین سمیت صحافیوں اور کیمرہ مینز کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر منعقدہ ایک خصوصی نشست میں ایس پی سٹی عدنان نے پیش آنے والے واقعے پر صحافی برادری سے باقاعدہ معذرت کی اور اپنا موقف پیش کیا۔

ملاقات میں صحافیوں نے فوٹو جرنلسٹس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے تمام پہلوؤں اور درپیش مشکلات کو تفصیل سے سامنے رکھا، جس پر پولیس افسر نے معاملے کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے صحافی برادری کو مکمل تعاطف، تحفظ اور تعاون کا یقین دلایا۔

پولیس اور صحافت: “چولی دامن کا ساتھ”

پشاور پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی سٹی عدنان نے کہا کہ میڈیا اور پولیس کا معاشرے میں بنیادی مقصد ایک ہی ہے، اور وہ ہے عوامی خدمت، امن و امان کا قیام اور حقائق کی نشاندہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس اور صحافیوں کا تعلق “چولی دامن کا ساتھ” ہے اور دونوں ادارے ایک دوسرے کے بغیر معاشرتی توازن قائم نہیں رکھ سکتے۔

ایس پی سٹی کا مزید کہنا تھا:

“صحافی اور فوٹو جرنلسٹس مظلوم کی آواز بنتے ہیں اور پولیس مظلوم کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ فیلڈ میں کام کے دوران پیدا ہونے والی غلط فہمیوں یا ناخوشگوار واقعات کو باہمی بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل کرنا ہی ایک متمدن معاشرے کی علامت ہے۔ مستقبل میں ایسے کسی واقعے کا سدباب یقینی بنایا جائے گا تاکہ صحافی بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں اور صحافیوں کے درمیان نچلی سطح پر کوآرڈینیشن بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ فیلڈ کوریج کے دوران کسی قسم کا تصادم یا تلخی نہ ہو۔

واقعے کا پس منظر اور صحافتی برادری کا ردعمل

گزشتہ دنوں پشاور میں ایک کوریج کے دوران فیلڈ میں موجود دو فوٹو جرنلسٹس—حسین علی اور حسنین علی—کا پولیس اہلکاروں سے تنازع ہوا تھا، جس کے دوران مبینہ طور پر ان پر تشدد اور ہراسانی کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد خیبر پختونخوا اور بالخصوص پشاور کے صحافتی حلقوں میں شدید تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

صحافتی تنظیموں بشمول پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی اور اعلیٰ پولیس حکام سے ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

صحافتی تنظیموں کے بنیادی نکات اور مطالبات:

  • فیلڈ سیکیورٹی: صحافیوں اور خصوصاً فوٹو اور ویڈیو جرنلسٹس کو اہم اور حساس واقعات کی کوریج کے دوران مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
  • احترام اور عزت نفس: فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں اور آن ڈیوٹی پولیس اہلکاروں کے درمیان باہمی احترام کا ماحول قائم کیا جائے۔
  • فوری رابطہ کاری: کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری ریڈریسل میکانزم (Grievance Redressal Mechanism) موجود ہو تاکہ معاملہ طول نہ پکڑے۔

صحافی برادری نے ایس پی سٹی عدنان کے خود پریس کلب آ کر معذرت کرنے اور واقعے کو مثبت انداز میں حل کرنے کے قدم کو سراہا اور اسے ایک ذمہ دارانہ اور صحافی دوست رویہ قرار دیا۔

صحافتی آزادی اور فیلڈ کے مسائل: ایک تجزیاتی نظر

پشاور کا شمار ملک کے ان شہروں میں ہوتا ہے جہاں صحافیوں اور کیمرہ مینز کو طویل عرصے سے سیکیورٹی خدشات اور مشکل حالات میں فیلڈ ورک کرنا پڑا ہے۔ اکثر و بیشتر بم دھماکوں، احتجاجی مظاہروں اور کرائم سینیریو میں سب سے پہلے پہنچنے والے فوٹو جرنلسٹس کو نہ صرف سیکیورٹی کے خطرات کا سامنا ہوتا ہے بلکہ پولیس اور انتظامیہ کی سخت رویوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

اس تناظر میں، انتظامی افسران کی جانب سے صحافیوں کے تحفظات کو سننا اور ان کا تدارک کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

صحافیوں اور پولیس کے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے اہم پہلو:

  1. کمیونیکیشن گیپ کا خاتمہ: پولیس ترجمان اور فیلڈ صحافیوں کے درمیان مسلسل اور تیز رفتار رابطہ کاری ہونی چاہیے۔
  2. سینسائٹائزیشن ورکشاپس: نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کو یہ تربیت دی جانی چاہیے کہ میڈیا کے نمائندے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مددگار فورس ہیں نہ کہ حریف۔
  3. پریس کارڈ کا احترام: فیلڈ میں صحافتی شناختی کارڈز اور کوریج کے حق کا احاطہ اور احترام کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔

باہمی اعتماد اور مستقبل کی حکمت عملی

اس ملاقات کے اختتام پر پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں نے ایس پی سٹی کی آمد اور معذرت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پریس اور پولیس ہمیشہ ایک دوسرے کے احترام اور تعاون کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ آئندہ کسی بھی فیلڈ ایشو کی صورت میں سینئر صحافی اور پولیس کے نامزد افسران باہمی رابطے سے معاملے کو سیکنڈوں میں حل کریں گے تاکہ کسی قسم کا تنازع کھڑا نہ ہو اور نہ ہی سڑکوں پر احتجاج کی نوبت آئے۔

یہ پیش رفت جہاں پشاور پولیس کے مثبت رویے کو ظاہر کرتی ہے، وہیں یہ صحافی برادری کے اتحاد اور اصولی موقف کی فتح بھی قرار دی جا رہی ہے، جس سے آئندہ کے لیے ایک خوشگوار اور تعاون پر مبنی ماحول تشکیل پانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

ایڈیٹوریل نوٹ (صحافتی جائزہ)

صحافت اور پولیس کا چولی دامن کا ساتھ محض ایک جملہ نہیں بلکہ جمہوری اور بااخلاق معاشرے کا بنیادی تقاضا ہے۔ فیلڈ میں موجود صحافی اور ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار دونوں ہی سخت تناؤ اور ذہنی دباؤ کے ماحول میں کام کرتے ہیں۔ ایسے میں برداشت، حلم اور باہمی احترام کا ہونا ناگزیر ہے۔

پشاور پریس کلب کا یہ واقعہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح پولیس اور صحافت کے درمیان تنازعات کو ڈائیلاگ اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ایس پی سٹی عدنان کی پیش قدمی نے نہ صرف معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹایا بلکہ دونوں اہم اداروں کے درمیان اعتماد کی ایک نئی فضا قائم کی ہے جو کہ دیگر اضلاع کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔