اہم نکات (خلاصہ) اعلیٰ سطحی ملاقات: صدر ایبٹ آباد پریس کلب سردار نوید عالم اور PFUJ کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری شاہد چوہدری کی مشترکہ قیادت میں صحافتی وفد نے کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہ رخ علی خان سے ملاقات کی اور حنیف اختر کی گرفتاری پر شدید تشویش جتلائی۔ فی الفور رہائی کا مطالبہ: صحافتی رہنماؤں نے واضح کیا کہ صدر ہری پور پریس کلب حنیف اختر کی 3-MPO کے تحت حراست آزادیِ صحافت پر قدغن ہے، جسے فی الفور ختم کر کے اعتماد کی فضا بحال کی جائے۔ انتظامیہ کا تحرک: کمشنر ہزارہ ڈویژن نے صحافیوں کا موقف سنجیدگی سے سنتے ہوئے موقع پر ہی ڈپٹی کمشنر ہری پور کو رابطے کی ہدایت کی تاکہ تمام خدشات اور غلط فہمیاں دور کی جا سکیں۔ میرٹ اور افہام و تفہیم پر زور: کمشنر ہزارہ نے ڈویژن میں اس نوعیت کے دیگر کیسز کو بھی میرٹ پر حل کرنے اور اداروں و صحافیوں کے درمیان ہم آہنگی قائم رکھنے کی یقین دہانی کروائی۔ خبر کا پس منظر: خیبر پختونخوا میں صحافتی آزادی اور 3-MPO کا تنازع خیبر پختونخوا میں حالیہ سیاسی و انتظامی تناؤ، ایمرجنسی اقدامات اور گورنر راج کی بحث کے تناظر میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نقضِ امن کے قوانین (Maintenance of Public Order) کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہری پور پریس کلب کے صدر اور سینئر صحافی حنیف اختر کی 3-MPO کے تحت اچانک گرفتاری نے ہزارہ ڈویژن سمیت صوبہ بھر کی صحافتی برادری میں شدید بے چینی پیدا کر دی تھی۔ صحافتی تنظیموں کے مطابق، کسی بھی منتخب پریس کلب کے صدر کو 3-MPO جیسے انتظامی و احتیاطی قوانین کے تحت حراست میں لینا براہِ راست صحافت کی آزادی کو محدود کرنے اور ابلاغی اداروں پر دباؤ بڑھانے کے مترادف ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر صحافتی نمائندوں نے احتجاجی تحریک اور عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کیا تاکہ معاملے کا پرامن اور باوقار حل نکالا جا سکےے۔ صحافتی وفد کی کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہ رخ علی خان سے اہم ملاقات اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر، صحافتی برادری کے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ وفد نے کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہ رخ علی خان سے ان کے دفتر میں تفصیلی ملاقات کی۔ اس وفد کی مشترکہ قیادت درج ذیل اہم شخصیات کر رہی تھیں: سردار نوید عالم (صدر ایبٹ آباد پریس کلب) شاہد چوہدری (ایڈیشنل جنرل سیکرٹری، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس – PFUJ) سردار شفیق (سینئر صحافی) وفد میں ہری پور پریس کلب کی قائم مقام قیادت اور سینئر صحافی بھی شامل تھے، جن میں: ابرار احمد تنولی (قائم مقام صدر، ہری پور پریس کلب) یاسر خان (فنانس سیکرٹری) ملک ارشد (جائنٹ سیکرٹری) ڈاکٹر ارشد جمال (انفارمیشن سیکرٹری) راجہ گل رحمان (سینئر صحافی) سردار توقیر (سینئر صحافی) ملاقات کے دوران وفد نے حنیف اختر کی 3-MPO کے تحت گرفتاری کی تمام قانونی اور میدانی تفصیلات کمشنر ہزارہ کے سامنے رکھیں اور صحافتی برادری کے پائے جانے والے شدید غم و غصے سے انہیں مطلع کیا۔ ملاقات کے اہم خدوخال اور صحافتی برادری کا موقف صحافتی قائدین نے کمشنر ہزارہ کو بتایا کہ حنیف اختر کی حراست سے نہ صرف ہری پور بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے صحافیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافی اور میڈیا ادارے ریاست اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں، اور اس نوعیت کی انتظامی کارروائیوں سے اداروں اور صحافت کے درمیان کا فاصلہ بڑھتا ہے۔ وفد نے کمشنر ہزارہ ڈویژن کے سامنے درج ذیل اہم مطالبات رکھے: حنیف اختر کی فی الفور رہائی: صدر ہری پور پریس کلب پر نافذ 3-MPO کو فوری طور پر کالعدم قرار دے کر انہیں باعزت رہا کیا جائے۔ اعتماد کی فضا کی بحالی: ضلعی انتظامیہ اور صحافیوں کے درمیان طویل عرصے سے قائم باہمی اعتماد کے رشتے کو برقرار رکھا جائے۔ صحافتی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا خاتمہ: صحافیوں کو بلا خوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔ کمشنر ہزارہ ڈویژن کے احکامات اور انتظامی ردِعمل کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہ رخ علی خان نے صحافتی وفد کے تمام دلائل اور خدشات کو انتہائی سنجیدگی اور غور سے سنا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ صحافت کا شعبہ معاشرے کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک ہے اور انتظامیہ صحافتی برادری کے ساتھ کسی قسم کے ٹکراؤ کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتی۔ کمشنر ہزارہ نے معاملے کے فوری اور مثبت حل کے لیے درج ذیل عملی اقدامات اور احکامات صادر کیے: ڈپٹی کمشنر ہری پور سے رابطہ: کمشنر ہزارہ نے فوری طور پر موقع پر ہی ڈپٹی کمشنر ہری پور وسیم احمد سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں ہدایت کی کہ صحافتی برادری کے تمام خدشات اور تحفظات کو دور کیا جائے۔ غلط فہمیوں کا خاتمہ: انہوں نے ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ اور صحافتی تنظیموں کے درمیان فوری بات چیت کے ذریعے تمام سوءِ تفاهم اور غلط فہمیوں کو حل کیا جائے۔ دیگر کیسز کا میرٹ پر جائزہ: کمشنر ہزارہ نے انکشاف کیا کہ ڈویژن میں اس نوعیت کا ایک اور کیس بھی سامنے آیا ہے، اور یقین دہانی کروائی کہ ان تمام معاملات کو کسی بھی تعصب کے بغیر مکمل طور پر میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق دیکھا جا رہا ہے۔ ملاقات کا نقطہصحافتی وفد کا موقفکمشنر ہزارہ کا اقدام / یقین دہانیحنیف اختر کی گرفتاری3-MPO غیر قانونی ہے، فوراً ختم کیا جائے۔معاملے کا مثبت حل تلاش کرنے کے لیے ڈی سی ہری پور کو احکامات جاری۔ادارہ جاتی تعلقاتانتظامیہ کی یکطرفہ کارروائی سے بے اعتمادی پھیلی۔اداروں اور صحافیوں کے درمیان رابطے بحال اور غلط فہمیاں دور کی جائیں گی۔قانون و میرٹآزادیِ صحافت پر قدغن بند کی جائے۔تمام کیسز کا معائنہ میرٹ اور قانونی و انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگا۔ واقعے کے درپردہ اثرات اور باہمی افہام و تفہیم کی ضرورت ہزارہ ڈویژن میں انتظامیہ اور صحافی برادری کے درمیان سامنے آنے والی یہ بظاہر کشیدگی اب افہام و تفہیم کی سمت بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ صحافتی تنظیموں اور PFUJ کی بروقت حکمتِ عملی اور کمشنر ہزارہ ڈویژن کے مثبت و تعمیری روئیے کی وجہ سے معاملے کے آئینی و قانونی حل کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اس قسم کے مذاکرات کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ: سیکیورٹی اور امنِ عامہ کے نام پر آزادیِ اظہارِ رائے کا گلا نہ گھونٹا جائے۔ ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ اپنے فیصلوں میں شفافیت اور قانون کی بالادستی قائم رکھے۔ تمام تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے آئینی و قانونی گفت و شنید کے ذریعے نکالا جائے۔ ایڈیٹوریل نوٹ صحافتی معروضیت اور صحافتی اخلاقیات کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ صحافت ریاست میں اہم تنقیدی و اصلاحی کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ امن و امان کا قیام ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن 3-MPO جیسے احکامات کا بے جا استعمال جمہوریت اور آزادیِ صحافت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہ رخ علی خان کی جانب سے صحافتی وفد کی بات سننا اور فوری طور پر ڈپٹی کمشنر ہری پور وسیم احمد کو ہدایات جاری کرنا ایک مثبت انتظامی طرزِ عمل ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ان احکامات کی روشنی میں صدر ہری پور پریس کلب حنیف اختر کی رہائی کا عمل مکمل ہو جائے گا اور انتظامیہ و میڈیا کے درمیان تعمیری تعاون کی فضا دوبارہ بحال ہوگی۔ Post navigation ہری پور: صدر پریس کلب حنیف اختر کی گرفتاری پر صحافتی تنظیموں کا شدید ردِعمل؛ آزادیِ صحافت کے تحفظ کے لیے صوبائی سطح پر احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان ہری پور میں بدترین ٹریفک جام اور شہریوں کی مشکلات: شہر غیر قانونی منی اڈوں اور بے ہنگم پارکنگ کا گڑھ بن گیا، پولیس کی کارکردگی چالان تک محدود