اہم نکات (خلاصہ) حکمتِ عملی اور کارروائی: کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے افسرانِ بالا کی ہدایات پر ورسک ڈویژن کی حدود تھانہ ناصر باغ میں گرینڈ ٹارگٹڈ سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کا انعقاد کیا۔ قیادت اور فورسز: ایس پی ورسک ڈویژن طیب جان کی زیرِ قیادت کارروائی میں ڈی ایس پی ریگی سرکل مظفر شاہ خان، ایس ایچ او ناصر باغ عصمت خان، لیڈیز پولیس، آر آر ایف (RRF) اور ایلیٹ فورس کے دلاوروں نے حصہ لیا۔ نتائج و برآمدگی: گھر گھر تلاشی کے دوران مختلف جرائم میں ملوث عناصر، غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو گرفتار کر کے قبضے سے کلاشنکوف اور پستول برآمد کر لیے گئے۔ اگلا مرحلہ: گرفتار تمام ملزمان اور مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ خبر کا پس منظر: پشاور میں سکیورٹی چیلنجز اور پولیس کا تحرک خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور جغرافیائی اور تزویراتی لحاظ سے انتہائی حساس اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال، حساس مقامات کی حفاظت اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے کیپٹل سٹی پولیس کی جانب سے پیشگی اور دفاعی اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ بالخصوص ورسک ڈویژن اور ناصر باغ کا علاقہ جو ریجنل بائی پاس، افغان مہاجرین کی آبادیوں اور بورد و یونیورسٹی کے مضافات سے منسلک ہے، انتظامی اور سیکیورٹی نقطہ نظر سے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ ماضی میں بھی ان علاقوں میں غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں اور بغیر دستاویزی ثبوت کے مقیم افراد کی موجودگی امن و امان کے لیے خطرہ بنتی رہی ہے۔ اسی تناظر میں پشاور پولیس نے ضلعی سطح پر کرائم فری سوسائٹی کے قیام اور ممکنہ بدامنی کے سدِباب کے لیے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کے دائرہ کار کو وسعت دی ہے۔ تھانہ ناصر باغ کی حدود میں گرینڈ آپریشن کی تفصیلی رپورٹ پشاور پولیس کی پریس ریلیز (مورخہ 20 اکتوبر 2026) کے مطابق، شہر میں پائیدار امن کے قیام اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے اعلیٰ حکام کی واضح ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ ان احکامات کی تعمیل میں ایس پی ورسک ڈویژن طیب جان کی براہِ راست نگرانی میں ناصر باغ پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک وسیع اور منظم ٹارگٹڈ سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن انجام دیا گیا۔ اس آپریشن کی منصوبہ بندی انتہائی سائنسی اور خفیہ انداز میں کی گئی تھی تاکہ مطلوب اور اشتہاری عناصر کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے پولیس کی جدید اور سپیشلائزڈ فورسز کو ملا کر ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ کارروائی میں شامل پولیس فورس کے شعبہ جات درج ذیل ہیں: ڈویژنل و سرکل لیڈرشپ: ایس پی ورسک ڈویژن طیب جان، ڈی ایس پی ریگی سرکل مظفر شاہ خان اور ایس ایچ او تھانہ ناصر باغ عصمت خان۔ سپیشلائزڈ فورسز: ایلیٹ فورس (Elite Force) اور ریپڈ ریسپانس فورس (RRF) کی خصوصی پیش رفت ٹیمیں۔ خواتین پولیس اہلکار (Ladies Police): گھروں کی تقدس اور چادر و چار دیواری کے آئینی و اخلاقی احترام کو برقرار رکھتے ہوئے خواتین پولیس کی نفری کو سرچ آپریشن کا اہم حصہ بنایا گیا۔ گھر گھر تلاشی، گرفتاریاں اور برآمد شدہ سامان ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران تھانہ ناصر باغ کے مختلف ذیلی علاقوں، مشکوک مکانات، کرائے کی عمارتوں اور ہاسٹلز کی باقاعدہ تلاشی لی گئی۔ سرچ آپریشن کے دوران جدت اور بائیو میٹرک تصدیق کا سہارا بھی لیا گیا تاکہ شہریوں کی شناخت کا موقع پر ہی معائنہ کیا جا سکے۔ تلاشی کی اس کارروائی کے دوران درج ذیل اہم کامیابی حاصل کی گئی: جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری: مختلف نوعیت کے جرائم اور اشتہاری کارروائیوں میں مطلوب متعدد ملزمان کو موقع سے حراست میں لیا گیا۔ کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی: مقامی تھانے کو اطلاع دیے بغیر اور قانونی قانونی کاغذی کارروائی کے بغیر مقیم غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں (Unregistered Tenants) کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی: ملزمان کے قبضے سے ایک عدد جدید کلاشنکوف اور ایک عدد پستول بمعہ ایمونیشن (گولیاں) برآمد کی گئیں۔ آپریشن کی کیٹیگریتفصیلات و نوعیتمقامِ کارروائیتھانہ ناصر باغ حدود، ریگی سرکل، ورسک ڈویژن پشاورسرپرست و نگرانیایس پی طیب جان، ڈی ایس پی مظفر شاہ خان، ایس ایچ او عصمت خانشامل فورسزایلیٹ فورس، آر آر ایف (RRF)، لیڈیز پولیس، ڈسٹرکٹ پولیساہم کامیابیاںمختلف ملزمان کی گرفتاری، غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں کی نشاندہیبرآمدگی01 عدد کلاشنکوف، 01 عدد پستول غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں کے خلاف قانونی یکسوئی پشاور پولیس کی جانب سے بارہا شہریوں، پراپرٹی ڈیلروں اور مکان مالکان کو خبردار کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے مکانات، دکانیں یا فلیٹس کرائے پر دیتے وقت مقامی تھانے میں نیشنل ڈیٹا بیس یا فارم ‘م’ کی اندراجی لازمی کروائیں۔ حکام کے مطابق، غیر رجسٹرڈ کرایہ دار نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ اکثر اوقات جرائم پیشہ اور ملک دشمن عناصر ایسے ہی مکانات کو اپنی پناہ گاہ بناتے ہیں۔ ناصر باغ میں کی گئی اس کارروائی کے دوران ایسے تمام مالکان اور کرایہ داروں کو تحویل میں لے کر قانون کے مطابق باقاعدہ تفتیش کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ عوامی اثرات اور سیکیورٹی کے تعمیری نتائج پشاور پولیس کے اس بروقت اور منظم سرچ آپریشن سے مقامی شہریوں، تاجر برادری اور طلبہ میں احساسِ تحفظ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ناصر باغ کے مقامی رہائشیوں نے پولیس کی جانب سے لیڈیز پولیس کی موجودگی میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تلاشی لینے کی حکمتِ عملی کو سراہا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق، اس قسم کے اچانک اور ٹارگٹڈ آپریشنز کا بنیادی مقصد عام شہریوں کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے لیے گھیرا تنگ کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف اسٹریٹ کرائمز اور چوری چکاری کی وارداتوں میں کمی آئے گی بلکہ کسی بھی بڑے ناگہانی واقعے کو وقوع پذیر ہونے سے قبل ہی ناکام بنایا جا سکے گا۔ ایڈیٹوریل نوٹ صحافتی اخلاقیات اور معروضیت کے اصولوں کے مطابق یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قانون کی بالادستی اور شہر میں امن و امان کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب انتظامیہ اور عوام کے درمیان باہمی اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو۔ پشاور پولیس کا ناصر باغ میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن ایک مثبت اور پیشہ ورانہ قدم ہے۔ پولیس حکام نے تمام گرفتار ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے تفتیش کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان ملزمان سے دورانِ تفتیش دیگر اہم انکشافات اور سنسنی خیز معلومات بھی سامنے آئیں گی، جس سے پشاور شہر کو مزید محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔ Post navigation ہری پور میں بدترین ٹریفک جام اور شہریوں کی مشکلات: شہر غیر قانونی منی اڈوں اور بے ہنگم پارکنگ کا گڑھ بن گیا، پولیس کی کارکردگی چالان تک محدود پشاور: تاجر برادری اور صوبائی حکومت کے درمیان رابطوں کا نیا دور؛ تنظیم تاجران اور پشاور چیمبر کے وفد کی صوبائی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور سے اہم ملاقات