Preloader
Bad policing for haripur traffic

اہم نکات (خلاصہ)

  • موجودہ بحران: ہری پور شہر اور اس کے گردونواح میں ٹریفک کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے، جس سے عام شہریوں، تاجر برادری اور اسکول و کالج جانے والے طلبہ کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
  • اصلی اسباب: اہم شاہراہوں اور بازاروں میں غیر قانونی منی اڈوں کی بھرمار، سڑک کے بیچوں بیچ پبلک ٹرانسپورٹ کا قیام اور سڑک کے دونوں اطراف بے ترتیبی سے کی گئی غیر قانونی پارکنگ ٹریفک جام کا بنیادی سبب ہیں۔
  • عوامی شکایات: شہریوں کا الزام ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کی روانی بحال کرانے کے بجائے صرف چالان کے اہداف پورا کرنے میں مصروف ہیں اور ان کا رویہ غیر پیشہ ورانہ ہے۔
  • اعلیٰ حکام سے مطالبات: ڈی آئی جی ہزارہ اور ڈی پی او ہری پور سے غیر قانونی تجاوزات و اڈوں کے خاتمے، ٹریفک کی بہتری کے عملی اقدامات اور غیر اخلاقی رویہ رکھنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ۔

خبر کا پس منظر: ہری پور شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کا چیلنج

ضلع ہری پور ہزارہ ڈویژن کا ایک انتہائی اہم تجارتی، تعلیمی اور صنعتی مرکز ہے، جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ قریبی دیہی علاقوں اور دیگر اضلاع سے اپنے معاشی و تعلیمی کام کاج کے لیے آتے ہیں۔ حطار انڈسٹریل اسٹیٹ، خان پور ڈیم اور سی پیک (CPEC) سے منسلک گزرگاہوں کی وجہ سے شہر میں گاڑیوں کی آمد و رفت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

تاہم، شہر کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے (Infra-structure) کی توسیع اور جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کی عدم موجودگی کے باعث یہاں ٹریفک کے مسائل سنگین صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ بدقسمتی سے، جیسے جیسے شہر کا پھیلاؤ بڑھتا گیا، ویسے ویسے انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی جانب سے دیرپا اور منظم ٹریفک پالیسی مرتب نہیں کی گئی، جس کا نتیجہ آج ایک مکمل ٹریفک بلاک ڈاؤن کی صورت میں شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

شہر کی موجودہ صورتحال: غیر قانونی منی اڈے اور سکڑتی شاہراہیں

ہری پور کی مرکزی شاہراہوں، مین بازاروں اور چوک چوراہوں کی موجودہ صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ شہر کا کوئی بھی اہم موڑ یا چوک ایسا نہیں جہاں ٹرانسپورٹ مافیا نے اپنی مرضی کے غیر قانونی اڈے قائم نہ کر رکھے ہوں۔

شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والے اہم عوامل درج ذیل ہیں:

  1. سڑکوں پر غیر قانونی قبضے: ڈبل کیبن، فلائنگ کوچز، سزوکی پک اپس اور رکشہ ڈرائیورز گاڑیوں کو سڑک کے بالکل بیچ میں کھڑا کر کے سواریاں بٹھاتے اور اتارتی ہیں، جس سے وسیع سڑکیں بھی تنگ گلیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
  2. مارکیٹوں کے سامنے بے ہنگم پارکنگ: تجارتی مراکز، بینکوں اور پلازوں کے سامنے مخصوص پارکنگ ایریا نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں سڑک کے کناروں پر دوہری اور تیسری قطاروں میں پار ک کی جاتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کا راستہ بالکل بند ہو جاتا ہے۔
  3. تجاوزات اور ریڑھی بان: دکانداروں کا سامان سڑک تک پھیلا ہونا اور چوکوں پر تھڑے و ریڑھیاں قائم ہونا بھی ٹریفک کے بہاؤ میں شدید رکاوٹ بنتا ہے۔

ٹریفک کی معطلی کے منفی اثرات: تعلیمی و معاشی زندگی پر اثرات

ٹریفک کے اس مفلوج نظام کی وجہ سے شہر کا پورا معاشرتی اور معاشی پہیہ سست روی کا شکار ہو چکا ہے۔ ٹریفک جام کی اس صورتحال نے معاشرے کے ہر طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔

ٹریفک کی بدحالی کے نمایاں اثرات درج ذیل جدول کے ذریعے سمجھے جا سکتے ہیں:

متاثرہ طبقہدرپیش مسائل اور نتائج
طلباء اور اسکول/کالج انتظامیہصبح اور چھٹی کے وقت گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنے سے تعلیمی اوقات کا ضیاع اور ذہنی کوفت۔
مریض اور ایمرجنسی سروسزایمبولینسوں کا ٹریفک جام میں پھنس جانا، جس سے قیمتی انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
تاجر برادری و دکاندارخریداروں کی بازاروں تک رسائی مشکل ہونے کے باعث کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر۔
روزمرہ نوکری پیشہ افراددفاتر اور کام کی جگہوں پر وقت پر نہ پہنچ پانے سے معاشی و انتظامی دشواریاں۔

ٹریفک پولیس کا رویہ اور چالان مہم پر عوامی تحفظات

ہری پور کے عوامی، سماجی اور تجارتی حلقوں نے ٹریفک پولیس کی کارکردگی اور رویے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا موقف ہے کہ ٹریفک پولیس کی بنیادی ذمہ داری سڑکوں پر گاڑیوں کی بلا تعطل روانی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ ہری پور میں یہ ادارہ صرف ایک “ٹیکس جمع کرنے والے محکمے” کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

شہریوں اور گاڑی مالکان نے درج ذیل سنگین نکات کی نشاندہی کی ہے:

  • چالان کا ہدف بمقابلہ روانی: ٹریفک پولیس اہلکار زیادہ تر ایسے مقامات پر ناکہ بندیاں کرتے ہیں جہاں چالان کاٹنا آسان ہو، جبکہ جہاں حقیقی معنوں میں ٹریفک جام ہو کر نالے کی شکل اختیار کر لیتی ہے، وہاں کوئی اہلکار موجود نہیں ہوتا۔
  • غیر پیشہ ورانہ اور سخت رویہ: شہریوں کی شکایت ہے کہ سڑک پر بات چیت کے دوران کچھ اہلکاروں کا رویہ انتہائی غیر اخلاقی اور ہتک آمیز ہوتا ہے، جو کہ کسی بھی شائستہ اور ضابطے کے پابند ادارے کو زیب نہیں دیتا۔
  • مبینہ چشم پوشی: بااثر ٹرانسپورٹ مافیا اور غیر قانونی پارکنگ کروانے والوں کے خلاف مسلسل یکسر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، جبکہ عام اور غریب موٹر سائیکل سواروں یا ڈرائیوروں کو فوری طور پر چالان کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

عوامی مطالبات اور اعلیٰ حکام سے اپیل

ہری پور کے شہریوں، تاجر برادری اور مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں نے ڈی آئی جی ہزارہ اور ڈی پی او ہری پور سے فوری طور پر ذاتی مداخلت کا پرزور مطالبہ کیا ہے تاکہ شہر کو اس سنگین عذاب سے نجات دلائی جا سکے۔

عوام کے بنیادی مطالبات درج ذیل ہیں:

  1. منی اڈوں کا فوری خاتمہ: ہری پور شہر کے اندر قائم تمام غیر قانونی منی اڈوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے اور سڑکوں پر گاڑی کھڑی کرنے پر سخت پابندی عائد کی جائے۔
  2. تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن: ضلع انتظامیہ اور ٹی ایم اے (TMA) کے ساتھ مل کر تمام تجاوزات کا مستقل بنیادوں پر قلع قمع کیا جائے۔
  3. ٹریفک پولیس کے عملے کی تربیت: اہلکاروں کو عوامی گفتگو اور اخلاقیات کے حوالے سے خصوصی تربیت دی جائے اور بدتمیزی یا اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔
  4. چالان کے بجائے روانی پر توجہ: ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو چالان کے اعداد و شمار کے بجائے سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کے معیار سے نپٹا جائے۔

اہلِ علاقہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹریفک کے اس درہم برہم نظام کی اصلاح کے لیے فوری اور عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو شہری شدید اور پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ایڈیٹوریل نوٹ

صحافتی اخلاقیات اور معروضیت کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بتانا ضروری ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک کا قیام صرف پولیس کا ہی نہیں بلکہ عوام کی جانب سے ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ تاہم، ضابطے پر عمل درآمد کروانا اور تجاوزات کو ہٹانا بہرحال انتظامیہ کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔

ڈی پی او ہری پور اور ٹریفک پولیس حکام کو چاہیے کہ وہ شہریوں کے ان جائز خدشات اور شکایات کا فوری نوٹس لیں، اور ہری پور کے تمام اہم چوکوں پر نفری کی تعینی یقینی بنا کر ٹریفک کے بہاؤ کو رواں دواں بنائیں۔ اس سے نہ صرف شہریوں کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ پولیس کا امیج بھی عوامی سطح پر بہتر ہوگا۔