Preloader
Philosophy of Syed Qutab of Egypt

اہم نکات (خلاصہ)

  • تاریخی و فکری پش منظر: بیسویں صدی کے ممتاز مصری مفکر، ادیب اور مفسرِ قرآن سید قطبؒ کو ان کی دینی و فکری تحریروں اور نظریات کی پاداش میں مصر کی حکومت کی جانب سے پھانسی دی گئی۔
  • کتابوں پر پابندی اور نذرِ آتش: سید قطبؒ کی شہادت کے دن ان کی شہرۂ آفاق تفسیر ’فی ظلال القرآن‘ کی ہزاروں جلدیں اور مجموعے سرکاری سطح پر جلا دیے گئے اور ان کی ملکیت پر 10 سال قید کی سزا مقرر کی گئی۔
  • تفسیر کی بے مثال مقبولیت: شدید پابندیوں کے باوجود ‘فی ظلال القرآن’ بیروت اور دنیا بھر کے دیگر اشاعتی اداروں سے بار بار شائع ہوئی اور دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کے تراجم سامنے آئے۔
  • آخری مکالمہ اور یادگار پیغام: سزائے موت سے قبل جیل کے امام کے ساتھ ہونے والا تاریخ ساز مکالمہ آج بھی فکری وابستگی، اخلاص اور عمل کے درمیان بنیادی فرق کو نکھار کر پیش کرتا ہے۔

تاریخی پس منظر: سید قطبؒ کا ابتدائی سفر اور سیاسی و فکری تحرک

سید قطبؒ (1906ء تا 1966ء) کا شمار دنیائے اسلام کی ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے بیسویں صدی میں اسلامی فکر، ادب اور سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ مصر کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے سید قطبؒ ابتدائی طور پر ایک ممتاز نقاد، ادیب اور تعلیم یافتہ سرکاری افسر کے طور پر ابھرے۔ تعلیمی مقاصد کے لیے امریکہ کے قیام کے دوران انہوں نے مغربی تہذیب و ثقافت کا قریب سے مشاہدہ کیا، جس کے بعد ان کے فکری رویوں میں ایک نیا انقلابی موڑ آیا۔

مصر واپسی کے بعد انہوں نے ‘اخوان المسلمین’ کے ساتھ رابطہ قائم کیا اور تحریک کے بنیادی فکری ترجمان بن گئے۔ جمال عبدالناصر کے دورِ حکومت میں جب حکومت اور اخوان کے درمیان کشیدگی بڑھی تو ہزاروں افراد کے ساتھ سید قطبؒ کو بھی قید و بند کی صعوبتوں کا نشانہ بنایا گیا۔ جیل کی خوفناک اور ناہموار فضا میں ہی انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا علمی و فکری شاہکار ’فی ظلال القرآن‘ (قرآن کے سائے میں) تحریر کیا۔

’فی ظلال القرآن‘ کے خلاف سرکاری مہم اور شائقینِ علم کی لہر

29 اگست 1966ء کو جب سید قطبؒ کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا، تو مصر کی ریاستی انتظامیہ کی جانب سے ان کے افکار اور لٹریچر کو مکمل طور پر مٹانے کے لیے ایک وسیع مہم کا آغاز کیا گیا۔

اس مہم اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حقائق کا تفصیلی اعداد و شمار کی روشنی میں جائزہ:

  • کتابوں کا نذرِ آتش ہونا: سید قطبؒ کی شہادت والے دن مصر کی سڑکوں پر ‘فی ظلال القرآن’ کے تقریباً 7 سے 8 ہزار مجموعے (جو کہ تقریباً 64 ہزار جلدوں پر مشتمل تھے) جمع کر کے جلا دیے گئے۔
  • شدید قانون اور سزا: سرکاری سطح پر یہ اعلان کیا گیا کہ جس شخص کے پاس بھی سید قطبؒ کی کوئی کتاب پائی جائے گی، اسے 10 سال قیدِ با مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
  • اشاعت کا تاریخی ریکارڈ: سرکاری پابندیوں کے برعکس، اسی سال بیروت کے مختلف اشاعتی اداروں نے اس تفسیر کے 7 نئے ایڈیشن شائع کیے، جبکہ سید قطبؒ کی زندگی میں یہ کتاب صرف ایک بار باقاعدہ ایڈیشن کی شکل میں سامنے آئی تھی۔
  • بین الاقوامی ترجمے: آج یہ شاہکار عربی کے علاوہ اردو، انگریزی، ترکی، فارسی، فرانسیسی اور مالم جیسے دنیا کے بیسیوں زبانوں میں ترجمہ ہو کر لاکھوں قارئین تک پہنچ چکا ہے۔
پہلو / شعبہسرکاری و انتظامی اقداماتعوامی و علمی ردِعمل
لٹریچر کا وجود64,000 کے قریب کتابیں نذرِ آتش کی گئیںبیروت اور دیگر شہروں سے 7 سے زائد نئے ایڈیشنز کا اجرا
قانون و ملکیترکھنے پر 10 سال قید کی سخت سزاکتابیں خفیہ طور پر پڑھی گئیں اور مانگ میں اضافہ ہوا
فکری اثراتافکار کی ترویج پر مکمل بیندنیا بھر کی اہم زبانوں میں تراجم کی اشاعت

تختۂ دار سے قبل جیل کے امام سے تاریخی مکالمہ

سید قطبؒ کی زندگی کا سب سے اثر انگیز اور تاریخی واقعہ ان کی شہادت سے چند گھنٹے قبل پیش آیا، جب جیل انتظامیہ نے مذہبی ضوابط کے مطابق سزائے موت کے قیدی کو کلمہ پڑھانے کے لیے ایک سرکاری امام کو ان کے بیرک میں بھیجا۔

یہ واقعہ فکری تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا:

جب سرکاری امام نے آ کر سید قطبؒ سے کہا کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل کلمۂ شہادت پڑھیں، تو سید قطبؒ نے نہایت آرام سے ان سے سوال کیا: “آپ یہاں کس مقصد کے لیے آئے ہیں؟” امام نے جواب دیا: “میں حکومت کی جانب سے آئینی و دینی ذمہ داری کے تحت آپ کو کلمہ پڑھانے آیا ہوں۔” سید قطبؒ نے پوچھا: “کیا اس سرکاری ڈیوٹی کی انجام دہی پر آپ کو حکومت کی جانب سے تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں؟” امام نے اثبات میں جواب دیا: “جی ہاں، یہ میری ملازمت کا حصہ ہے۔”

اس پر سید قطبؒ نے وہ تاریخی اور سنسنی خیز جملہ ارشاد فرمایا جو آج بھی فکر و اخلاص کی دنیا میں گونجتا ہے: “عجیب اور عبرت ناک بات ہے! جس کلمے کو زبانی دہرانے کے بدلے آپ تنخواہ اور مراعات حاصل کرتے ہیں، اسی کلمے کے حقیقی تقاضوں، تشریح اور پیغام کو امتِ مسلمہ کے سامنے پیش کرنے کے جرم میں آج مجھے پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جا رہا ہے۔ آپ کا کلمہ آپ کے لیے روٹی روزی کا ذریعہ ہے، اور میرا کلمہ مجھے تختۂ دار تک لے آیا ہے!”

سید قطبؒ کی قربانی کا معاشی، سیاسی اور سماجی اثر

سید قطبؒ کی شہادت اور ان کی کتابوں کی ضبطی نے برعکس نتائج پیدا کیے۔ تاریخی طور پر جب بھی کسی فکری تحریک کو جبر کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی، وہ زیادہ قوت کے ساتھ ابھری۔

  1. ناشرین کے لیے برکت کا باعث: بیروت کے تجارتی اور اشاعتی حلقوں میں یہ بات عام ہو گئی تھی کہ جو ناشر مالی خسارے کا شکار ہوتا، اسے سید قطبؒ کی کتابیں شائع کرنے کا مشورہ دیا جاتا، کیونکہ ان کی مانگ بے پناہ تھی۔
  2. عالمگیر اصلاحی تحریکیں: ان کے افکار نے دنیا بھر کی اسلامی اصلاحی اور سیاسی تحریکوں کو ایک نیا فکری اندازِ فکر دیا۔
  3. گمنام مدفن مگر زِندہ نام: اگرچہ سید قطبؒ کو شہادت کے بعد کسی نامعلوم مقام پر دفن کیا گیا اور آج بھی ان کی قبر کا درست نشان معلوم نہیں، لیکن ان کا علمی و تحریری کام دنیا کے کونے کونے میں پھیلا ہوا ہے۔

ایڈیٹوریل نوٹ

صحافتی معروضیت اور تاریخی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سید قطبؒ کے بعض سیاسی اور فکری نظریات پر علمی و مذہبی حلقوں میں اختلافِ رائے بھی موجود رہا ہے۔ تاہم، اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے اپنے جن نظریات کو درست سمجھا، ان پر کسی بھی دباؤ یا سزائے موت کے خوف کے بغیر ثابت قدم رہے اور ان کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

سید قطبؒ کا یہ سفر اس بات کی دلیل ہے کہ جبر و تشدد کے ذریعے جسدِ خاکی کو تو ختم کیا جا سکتا ہے، لیکن کاغذ پر رقم کیے گئے افکار اور دلوں میں جاگزیں نظریات کو جلا کر یا پھانسی دے کر مٹایا نہیں جا سکتا۔