Preloader
Call centers fraudulent arrested

اہم نکات (خلاصہ)

  • قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی: کراچی میں آن لائن روزگار اور مالیاتی اسکیم کے نام پر مبینہ فراڈ میں ملوث کال سینٹر پر چھاپہ، 11 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
  • مرکزی ملزم کی گرفتاری: پولیس ذرائع کے مطابق مبینہ فراڈ نیٹ ورک اور کال سینٹر کے اہم کردار یاسر گلگتی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
  • گلگت بلتستان کے نوجوان: حراست میں لیے گئے تمام 11 نوجوانوں کا تعلق گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے بتایا جا رہا ہے جو وہاں ملازمت پر مامور تھے۔
  • شہر میں آن لائن اسکامز کا بڑھتا رجحان: ماہرین کے مطابق کراچی میں جعلی کال سینٹرز اور آن لائن ٹاسک اسکامز کے ذریعے نوجوانوں کا استحصال اور شہریوں سے لوٹ مار ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

کراچی (خصوصی رپورٹ): بندرگاہی شہر کراچی میں آن لائن روزگار اور ہوم بیسڈ ملازمتوں کے نام پر شہریوں سے مالی فراڈ کرنے والی ایک اور مبینہ سائبر نیٹ ورک کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑا کریک ڈاؤن کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس اور سائبر کرائم حکام نے شہر کے ایک پوش علاقے میں قائم غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر مرکزی ملزم یاسر گلگتی سمیت گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 11 نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار نوجوانوں پر آن لائن جابز، ٹاسک اسکیمز اور جعلی انویسٹمنٹ پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کو گمراہ کرنے اور مالی نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

چھاپے کی تفصیلات اور موجودہ صورتحال

اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی شہریوں کی جانب سے ملنے والی متعدد مالیاتی فراڈ کی شکایتوں اور خفیہ انٹیلی جنس معلومات پر عمل میں لائی گئی۔ پولیس نے مبینہ کال سینٹر پر اچانک چھاپہ مار کر وہاں موجود تمام کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، روٹرز اور موبائل فونز کو تحویل میں لے لیا ہے۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹس میں درج ذیل اہم نکات سامنے آئے ہیں:

  • کال سینٹر مالکان کی گرفتاری: فراڈ اسکیم چلانے کے الزام میں کال سینٹر کے مالک یاسر گلگتی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
  • مجموعی گرفتاریاں: آپریشن کے دوران کل 11 افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، جن کا تعلق گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں (ہنزہ، گلگت، اسکردو اور نگر) سے بتایا جاتا ہے۔
  • ڈیجیٹل شواہد کی ضبطگی: موقع سے درجنوں ڈیجیٹل ڈیوائسز اور سم کارڈز برآمد کیے گئے ہیں جنہیں فارنسک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ معقول شواہد اور فارنسک رپورٹس کے بعد گرفتار افراد کے خلاف سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر کے کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

ملزمان اور مبینہ اسکیم کے اعداد و شمار

تحقیقاتی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والے معلومات کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک کے بنیادی خدوخال ذیل میں درج کیے گئے ہیں:

تفصیلاتموجودہ معلومات / صورتحال
کارروائی کا مقامکراچی (کال سینٹر پر چھاپہ)
گرفتار افراد کی تعداد11 نوجوان (بشمول کال سینٹر مالکان)
گرفتار افراد کا علاقائی پس منظرگلگت بلتستان
مرکزی کردار / مالکیاسر گلگتی
مبینہ جرم کی نوعیتآن لائن روزگار، جعلی ٹاسکنگ اور مالی فراڈ
تحویل میں لیے گئے آلاتلیپ ٹاپس، متعدد سم کارڈز، روٹرز اور موبائل فونز

آن لائن فراڈ کا طریقہ کار اور پس منظر

کراچی میں پچھلے کچھ عرصے سے غیر قانونی کال سینٹرز اور آن لائن “ڈیجیٹل جابز” کا کاروبار تیزی سے پھیلا ہے۔ ان میں سے اکثر کال سینٹرز ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر معصوم اور بیروزگار نوجوانوں کو پرکشش تنخواہوں کا لالچ دے کر ملازم رکھتے ہیں اور بعد ازاں انہیں مختلف قسم کے اسکامز میں استعمال کرتے ہیں۔

معمول کا طریقہ کار کچھ یوں ہوتا ہے:

  1. سوشل میڈیا پر اشتہارات: فیس بک، واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کے ذریعے “گھر بیٹھے روزانہ ہزاروں روپے کمائیں” کے نعروں سے سادہ لوح شہریوں کو متوجہ کیا جاتا ہے۔
  2. ابتدائی منافع کا لالچ: شروعات میں چھوٹے چھوٹے ٹاسکس (مثلاً ویڈیوز لائک کرنا یا ریٹنگ دینا) پر کچھ رقم بطور منافع دی جاتی ہے تاکہ صارف کا اعتماد بحال ہو۔
  3. بڑی سرمائے کی ڈیمانڈ: جیسے ہی صارف پر اعتماد ہوتا ہے، اسے بڑے “وی آئی پی ٹاسکس” کے نام پر لاکھوں روپے جمع کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور رقم ملتے ہی تمام کمیونیکیشن بند کر دی جاتی ہے۔

گلگت بلتستان کے نوجوانوں کا فیکٹر اور سماجی اثرات

اس واقعے کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ گرفتار ہونے والے تمام 11 نوجوانوں کا تعلق دور دراز علاقے گلگت بلتستان سے ہے۔ علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے باوجود روزگار کے محدود مواقع کے باعث ہر سال ہزاروں نوجوان کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔

سماجی ماہرین اور گلگت بلتستان کی سول سوسائٹی نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے:

“بڑے شہروں میں پھیلے ہوئے فراڈیے اور جعل ساز نیٹ ورکس اکثر دور دراز علاقوں کے سادہ لوح اور بیروزگار نوجوانوں کی مجبوریاں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان نوجوانوں کو کال سینٹرز میں اچھے روزگار کا جھانسہ دے کر لایا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں ان سے غیر قانونی اور فراڈ پر مبنی سرگرمیاں کروائی جاتی ہیں جن سے وہ خود اکثر ناواقف ہوتے ہیں۔”

گلگت بلتستان کے عوامی حلقوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ معصوم اور محض ملازم کے طور پر کام کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے اور اس نیٹ ورک کے اصل سرغناؤں اور ماسٹر مائنڈز کو بے نقاب کیا جائے۔

ایڈیٹوریل نوٹس اور عوامی آگاہی

ایک ذمہ دار صحافتی ادارے کے طور پر یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اس پورے معاملے میں کسی حتمی عدالتی فیصلے سے قبل معروضیت کو برقرار رکھا جائے۔ گرفتار افراد فی الوقت صرف مبینہ ملزم ہیں اور پولیس و سائبر کرائم ونگ کی حتمی رپورٹ کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ان میں سے کون دانستہ طور پر جرم میں ملوث تھا اور کون محض ایک ملازم کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔

اس واقعے سے ہر شہری کے لیے یہ سبق واضح ہوتا ہے کہ:

  • غیر تصدیق شدہ آن لائن جابز سے بچیں: کسی بھی ایسے آن لائن کام سے دور رہیں جو شروع میں رقم جمع کروانے کا تقاضا کرے۔
  • کال سینٹرز کی تصدیق: جو نوجوان کسی بھی کال سینٹر میں ملازمت اختیار کریں، وہ پہلے اس بات کی تسلی کر لیں کہ ادارہ ایس ای سی پی (SECP) اور متعلقہ اداروں سے رجسٹرڈ ہے یا نہیں۔
  • فوری رپورٹنگ: اگر کوئی شہری آن لائن مالیاتی فراڈ کا شکار ہو تو وہ بلا تاخیر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ یا مقامی پولیس میں شکایت درج کروائے۔