Preloader
Action against electricity theft

جامشورو (رپورٹ: محمد نصیر ساگر) حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) نے بجلی چوری، غیرقانونی کنکشنز، کنڈا مافیا اور بجلی کے بلوں کے نادہندگان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جامشورو کے مختلف علاقوں میں متعدد غیرقانونی کنکشن منقطع کردیے، جبکہ کنڈوں میں استعمال ہونے والی تاریں تحویل میں لے کر ضبط کرلی گئیں۔ کارروائی کے دوران کنڈا استعمال کرنے والے متعدد افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے بستی تھانے میں درخواست بھی جمع کرادی گئی۔ حیسکو حکام نے واضح کیا ہے کہ بجلی چوری کے خاتمے اور واجبات کی وصولی کے لیے متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

اہم نکات

  • حیسکو سب ڈویژن گلشن شہباز کی ٹیم نے سکندر آباد، سستی بستی، مسلم ٹاؤن اور ٹیلیگراف کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی۔
  • متعدد غیرقانونی بجلی کنکشن منقطع کرکے کنڈوں میں استعمال ہونے والی تاریں ضبط کرلی گئیں۔
  • کنڈا استعمال کرنے والے متعدد افراد کے خلاف مقدمات کے اندراج کے لیے بستی تھانے میں لیٹر جمع کرایا گیا۔
  • حیسکو حکام نے شہریوں سے بجلی چوری کی نشاندہی اور بجلی کے بل بروقت ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

حیسکو اعلیٰ حکام کی ہدایات پر کارروائی

حیسکو چیف فیض اللہ ڈاہری، سپرنٹنڈنگ انجینئر (ایس ای) لاڑ سہیل احمد شیخ اور ایکس ای این کوٹری فضل الرحمان میمن کی ہدایات پر حیسکو سب ڈویژن گلشن شہباز نے بجلی چوری اور غیرقانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی کی۔ اس سلسلے میں سب ڈویژن کے ایس ڈی او گل بہار اوڈ نے ڈی ایس یو ٹیم کے ہمراہ مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور بجلی کی غیرقانونی فراہمی روکنے کے لیے اقدامات کیے۔

کارروائی کے دوران سکندر آباد، سستی بستی، مسلم ٹاؤن اور ٹیلیگراف کے مختلف مقامات پر غیرقانونی کنکشنز کی نشاندہی کرکے انہیں منقطع کیا گیا۔ حکام نے کنڈوں کے ذریعے بجلی حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی تاریں بھی قبضے میں لے لیں۔

حیسکو کی جانب سے اس کارروائی کا مقصد بجلی کی غیرقانونی کھپت کی روک تھام، بجلی کے نظام کو قواعد کے مطابق چلانا اور بجلی چوری کے باعث ہونے والے ممکنہ مالی نقصان کو کم کرنا ہے۔

غیرقانونی کنکشنز کے خلاف قانونی کارروائی

بجلی چوری کی روک تھام کے لیے صرف غیرقانونی کنکشن منقطع کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اسی تناظر میں حیسکو ٹیم نے کنڈا استعمال کرنے والے متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کرانے کے لیے بستی تھانے میں لیٹر جمع کرادیا۔

تاہم، دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کتنے کنکشن منقطع کیے گئے، کتنی تاریں ضبط ہوئیں اور پولیس کی جانب سے کتنے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس لیے ان اعداد و شمار کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔

قانونی کارروائی کے سلسلے میں ضروری ہے کہ ہر معاملے کی جانچ متعلقہ شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کی جائے۔ کسی شخص کے خلاف الزام عائد ہونے یا درخواست جمع ہونے کو مقدمے میں جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔ حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ حکام اور مجاز عدالتی فورم کے ذریعے ہوتا ہے۔

بجلی چوری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

ایس ڈی او گل بہار اوڈ نے کہا کہ حیسکو کے اعلیٰ حکام اور ایکس ای این کوٹری کی جانب سے بجلی چوری کے خاتمے کے لیے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ان ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے غیرقانونی کنکشن استعمال کرنے والوں اور بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے نظام کو بہتر بنانے اور غیرقانونی استعمال کی روک تھام کے لیے متعلقہ عملے کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق بجلی چوری کے خلاف اقدامات میں قانون کے مطابق کارروائی اور غیرقانونی کنکشنز کی نشاندہی کو اہمیت دی جارہی ہے۔

حیسکو کی جانب سے کارروائیوں کے تسلسل کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بجلی کی تقسیم، بلوں کی وصولی اور غیرقانونی کنکشنز کی روک تھام بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے اہم انتظامی امور میں شامل ہیں۔

کنڈا سسٹم اور بجلی کے نظام پر ممکنہ اثرات

بجلی کی تقسیم کے نظام میں کنڈا لگاکر غیرقانونی طور پر بجلی حاصل کرنا ایک ایسا عمل ہے جس سے متعلقہ قوانین اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ اس طریقے میں بجلی کے تاروں سے براہ راست کنکشن حاصل کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے نظام پر اضافی دباؤ پڑنے، تاروں کے غیرمحفوظ استعمال اور حادثات کے خطرات پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔

غیرمعیاری یا غیرمحفوظ طریقے سے لگائے گئے کنکشنز سے بجلی کا کرنٹ لگنے، شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے جیسے واقعات کا خدشہ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے خطرات سے بچنے کے لیے بجلی کے کنکشنز کا باقاعدہ اور محفوظ ہونا ضروری ہے۔

تاہم، جامشورو میں ہونے والی حالیہ کارروائی کے حوالے سے کسی مخصوص حادثے، بجلی کی فراہمی میں بہتری یا مالی نقصان کی مقدار کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔ اس لیے ان پہلوؤں کو اس کارروائی کے ثابت شدہ نتائج کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

بجلی چوری کی روک تھام میں شہریوں کا کردار

ایس ڈی او گل بہار اوڈ نے اہل علاقہ سے اپیل کی کہ اگر انہیں اپنے گردونواح میں بجلی چوری یا غیرقانونی کنکشنز کے بارے میں معلومات حاصل ہوں تو وہ حیسکو حکام کو مطلع کریں، تاکہ متعلقہ عملہ معاملے کی جانچ کرکے قانون کے مطابق کارروائی کرسکے۔

بجلی چوری کی روک تھام میں شہریوں کا تعاون اہم ہوسکتا ہے، تاہم شکایت کرتے وقت درست معلومات فراہم کرنا اور کسی شخص پر بلا ثبوت الزام لگانے سے گریز کرنا بھی ضروری ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ غیرمحفوظ تاروں یا غیرقانونی کنکشنز کو خود ہٹانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ اس سے جان لیوا حادثات پیش آسکتے ہیں۔ ایسے معاملات میں متعلقہ بجلی کمپنی کے عملے کو اطلاع دینا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

بجلی کے نظام میں شفافیت، محفوظ کنکشنز اور قانون پر عمل درآمد کے لیے صارفین اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ شکایات پر بروقت توجہ دینے سے غیرقانونی سرگرمیوں کی نشاندہی اور ممکنہ خطرات کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

نادہندگان کو بروقت بل ادا کرنے کی ہدایت

ایس ڈی او گل بہار اوڈ نے بجلی کے تمام میٹر رکھنے والے صارفین پر زور دیا کہ وہ اپنے بجلی کے بل مقررہ وقت پر ادا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق بجلی منقطع کی جاسکتی ہے۔

بجلی کے بلوں کی بروقت ادائیگی صارفین کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، جبکہ واجبات کی وصولی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے انتظامی امور کا حصہ ہے۔ تاہم، کسی صارف کے خلاف کارروائی کرتے وقت متعلقہ قواعد، قابل اطلاق طریقۂ کار اور قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔

صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے بلوں کی مقررہ تاریخ، واجب الادا رقم اور ادائیگی کی رسیدوں کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ اگر بل میں کسی قسم کی غلطی یا واجبات سے متعلق اختلاف ہو تو متعلقہ دفتر سے رجوع کرکے مسئلے کی وضاحت حاصل کی جاسکتی ہے۔

شفاف نگرانی اور مؤثر عمل درآمد کی ضرورت

جامشورو کے مختلف علاقوں میں حیسکو کی حالیہ کارروائی بجلی چوری اور غیرقانونی کنکشنز کے خلاف انتظامی اقدامات کا حصہ ہے۔ ان اقدامات کے نتائج کا درست جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ کارروائیوں کی تفصیلات، منقطع کیے گئے کنکشنز کی تعداد، ضبط شدہ سامان، درج ہونے والے مقدمات اور واجبات کی وصولی سے متعلق مصدقہ معلومات بھی سامنے لائی جائیں۔

اسی طرح بجلی کے باقاعدہ صارفین کو معیاری خدمات فراہم کرنا، شکایات کا ازالہ کرنا اور بجلی کے نظام کی حفاظت کو یقینی بنانا بھی اہم ہے۔ مؤثر نگرانی اور قانون کے یکساں نفاذ سے غیرقانونی کنکشنز کی روک تھام کے ساتھ صارفین کا اعتماد بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

حیسکو حکام کے مطابق بجلی چوری کے خاتمے اور واجبات کی وصولی کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اب اس سلسلے میں آئندہ اقدامات کی مؤثریت کا اندازہ متعلقہ ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی مصدقہ تفصیلات اور قانونی کارروائی کے نتائج سے لگایا جاسکے گا۔

رپورٹ: محمد نصیر ساگر | جامشور