Preloader
DPO mohmand surprised visit

اہم نکات (خلاصہ)

  • تھانے کا تفصیلی معائنہ: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) باجوڑ خان زیب مہمند نے تھانہ خار کا دورہ کر کے سرکاری ریکارڈ، صفائی ستھرائی اور سیکیورٹی تدابیر کا جائزہ لیا۔
  • عوامی رویے میں تبدیلی پر زور: ڈی پی او نے تھانے میں آنے والے سائلین اور شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے اور ان کی مسائل پر فوری قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔
  • غفلت پر زیرو ٹالرنس: ڈیوٹی میں لاپرواہی، ریکارڈ کی عدم تکمیل یا شہریوں کی تذلیل پر سخت محکماتی کارروائی کا انتباہ جاری کیا گیا۔
  • عوامی اعتماد کی بحالی: قبائلی اضلاع میں تھانہ کلچر کی تبدیلی اور قانونی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ان معائنوں کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

باجوڑ (خصوصی رپورٹ): قبائلی ضلع باجوڑ میں قانون کی بالادستی، پولیسنگ کا معیار بہتر بنانے اور تھانہ کلچر میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے انتظامی اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) باجوڑ، خان زیب مہمند نے تھانہ خار کا تفصیلی معائنہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات، حوالات، صفائی اور سرکاری ریکارڈ کی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا۔

یہ دورہ باجوڑ میں عام شہریوں کے تحفظ، انصاف کی فوری فراہمی اور تھانوں کے اندر پیشہ ورانہ ماحول کے قیام کے لیے جاری حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ ڈی پی او نے موقع پر موجود افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت اور تھانے آنے والے سائلین کی عزتِ نفس کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

تھانہ خار کے مختلف شعبہ جات اور ریکارڈ کا تفصیلی معائنہ

دورے کے دوران ڈی پی او باجوڑ خان زیب مہمند نے تھانہ خار کے محرر روم، حوالات، مال خانے، تفتیشی افسران کی ڈائریوں اور دیگر روزنامچوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے محرر اور متعلقہ عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری اندراج، بالخصوص ایف آئی آرز (FIRs)، روزنامچہ اور زیرِ التواء مقدمات کا ریکارڈ مکمل طور پر اپ ڈیٹ اور منظم رکھا جائے۔

ڈی پی او نے تھانے کے اندرونی و بیرونی ماحول اور صفائی ستھرائی کی صورتحال پر خصوصی توجہ دی اور صاف ستھرے کام کے ماحول کو باوقار پولیسنگ کا بنیادی جزو قرار دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تھانے کی بیرونی سیکیورٹی، معائنہ جاتی مورچوں اور الرٹ ڈیوٹی پر مامور جوانوں کے سیکیورٹی ایس او پیز (SOPs) کا بھی بچشمِ خود جائزہ لیا۔

عوامی مسائل کا تدارک اور تھانہ کلچر میں تبدیلی کا پیغام

قبائلی اضلاع میں روایتی نظام کے بعد سے پولیس فورس کی کارکردگی اور عام شہریوں کا تھانوں پر اعتماد بحال کرنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ ڈی پی او خان زیب مہمند نے پولیس افسران اور اہلکاروں پر زور دیا کہ تھانے میں آنے والے ہر شہری کو سائل کے بجائے محترم شہری کی نظر سے دیکھا جائے۔

انہوں نے اہلکاروں کو ہدایت دی کہ:

  • خوش اخلاقی: تھانے میں آنے والے مظلومین، بزرگوں اور خواتین کے ساتھ انتہائی مہذب اور باوقار انداز اپنایا جائے۔
  • فوری دادرسی: شہریوں کی درخواستوں اور قانونی مسائل پر بلا تاخیر کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔
  • غیر جانبدارانہ رویہ: کسی بھی دباؤ یا سفارش سے بالاتر ہو کر محض قانون اور میرٹ کی بنیاد پر مقدمات کی تفتیش مکمل کی جائے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے جاری کردہ احکامات کا جائزہ

شعبہ / موضوعہدایت / اقداممتوقع اثرات
سرکاری ریکارڈباقاعدہ، منظم اور فوری اپ ڈیٹ کرنے کا حکممقدمات کی شفافیت اور ریکارڈ کی دستیابی
سیکیورٹی انتظاماتحساس مورچوں اور تھانے کے گرد الرٹ ڈیوٹیناگہانی واقعات کا تدارک اور سیکیورٹی
عوامی رویہسائلین کے ساتھ خوش اخلاقی اور فوری داد رسیپولیس اور عوام کے درمیان دوریاں ختم ہونا
محکماتی نظم و ضبطفرائض میں غفلت پر سخت محکماتی کارروائیافسران کی کارکردگی میں بہتری

قبائلی اضلاع میں جدید پولیسنگ اور پس منظر

خیبر پختونخوا میں سابق فاٹا کے ضم ہونے کے بعد قبائلی اضلاع میں لیویز اور خاصہ دار فورس کو باقاعدہ پولیس فورس کا حصہ بنایا گیا۔ اس منتقلی کے بعد سے علاقے میں روایتی جرگہ سسٹم اور جدید عدالتی و پولیس نظام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور جدید پولیسنگ کے معیار کو قائم کرنے کے لیے مسلسل اصلاحات کی جا رہی ہیں۔

ضلع باجوڑ کی جغرافیائی اور سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر تھانوں کا فعال، الرٹ اور منظم ہونا انتہائی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ پولیس حکام کے ایسے سرپرائز دورے نہ صرف اہلکاروں کو متحرک رکھتے ہیں بلکہ تھانہ سطح پر بدعنوانی، غفلت اور سائلین کو تنگ کرنے والے عوامل کا خاتمہ کرتے ہیں۔

ڈی پی او باجوڑ کا واضح موقف: غفلت کی کوئی گنجائش نہیں

اپنے خطاب کے دوران ڈی پی او باجوڑ خان زیب مہمند نے سخت الفاظ میں تنبیہ کی کہ قانون کی بالادستی اور شہریوں کے حقوق کی پاسداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ پولیس کا بنیادی مقصد امن و امان کا قیام اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر تحفظ فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا:

“پولیس کا وجود عوام کی خدمت اور تحفظ کے لیے ہے۔ جو اہلکار اپنی ڈیوٹی پوری ذمہ داری اور پیشہ ورانہ دیانت داری سے سرانجام دے گا اسے محکماتی سطح پر سراہا جائے گا، لیکن شہریوں سے ناروا سلوک، ڈیوٹی سے لاپرواہی یا ریکارڈ میں خرابی پر کسی بھی افسر یا جوان کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔”

ایڈیٹوریل تجزیہ: انتظامی دوروں کے کمیونٹی پولیسنگ پر اثرات

تھانہ خار کا یہ تفصیلی دورہ بظاہر ایک انتظامی عمل ہے، لیکن ایک صحافتی نقطہ نظر سے قبائلی اضلاع میں اس کے دور رس نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ جب کسی ضلع کا پولیس سربراہ خود تھانے کا معائنہ کرتا ہے اور عوامی دادرسی کو ترجیح دیتا ہے تو اس سے نیچے تک ایک واضح پیغام جاتا ہے۔

اس قسم کی پیش رفت سے:

  1. کمیونٹی پولیسنگ کا فروغ: پولیس اور مقامی آبادی کے درمیان فاصلے کم ہوتے ہیں اور جرائم کے خاتمے میں عوام کا تعاون بڑھتا ہے۔
  2. پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ: پولیس اہلکاروں میں بنیادی سیکیورٹی امور اور ریکارڈ کی دیکھ بھال کا احساِس ذمہ داری بیدار ہوتا ہے۔
  3. شفافیت کی ضمانت: جب معائنے باقاعدگی سے ہوں تو تھانوں کی سطح پر غیر قانونی حراست یا تاخیری حربوں کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔

عوام اور مقامی حلقوں نے ڈی پی او باجوڑ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ انتظامی سطح پر ان ہدایات پر روح کے مطابق عمل درآمد جاری رہے گا تاکہ باجوڑ کا ہر شہری تھانے میں بلا خوف و خطر جا کر اپنے حقوق حاصل کر سکے۔