Preloader
Sudan army strike in disputed territory kills 53

اہم نکات (خلاصہ)

  • خونریز ڈرون حملہ: سودان کی افواج کی جانب سے سودان اور جنوبی سودان کے مابین قائم متنازع سرحدی علاقے ابیئی (Abyei) میں ایک پرہجوم منڈی پر تباہ کن ڈرون حملہ کیا گیا۔
  • بڑے پیمانے پر جانی نقصان: مقامی حکام اور عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق عام شہریوں اور تاجروں سے بھری ‘امیت مارکیٹ’ (Amiet Market) پر ہونے والے اس حملے میں کم از کم 53 افراد جاں بحق ہو گئے۔
  • متنازعہ جغرافیائی پس منظر: ابیئی کا علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال اور سوڈان و جنوبی سوڈان کے درمیان دہائیوں سے شدید تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔
  • انسانی بحران میں شدت: سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان جاری تنازع کے دوران اس حملے نے افریقی خطے میں سیکیورٹی اور انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔

خرطوم / جوبا (بین الاقوامی نیوز ڈیسک): شمالی افریقی ملک سوڈان میں جاری تباہ کن کورونا اور خانہ جنگی کے مظالم کی لہر اب متنازع سرحدی علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ سوڈانی فوج کی جانب سے کیے گئے ایک تازہ اور ہولناک ڈرون حملے کے نتیجے میں سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان واقع متنازع خطے ابیئی (Abyei) میں کم از کم 53 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ اور فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (AFP) کی رپورٹس کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ ابیئی کے علاقے میں قائم مشہور اور پرہجوم ‘امیت مارکیٹ’ (Amiet Market) میں پیش آیا، جہاں روزمرہ کی خریدو فروخت میں مصروف عام شہریوں اور مقامی تاجروں کو بنا کسی پیشگی اطلاع کے نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ خطے میں حالیہ دنوں کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات اور فضائی حملوں کی خطرناک ترین کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

واقعے کی تفصیلی تفاصیل اور امیت مارکیٹ پر تباہی کے مناظر

مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق، ڈرون حملہ پیر کے روز اس وقت کیا گیا جب امیت مارکیٹ میں مقامی شہریوں، سرحدی تاجروں اور عام محنت کشوں کا شدید ہجوم تھا۔ امیت مارکیٹ نہ صرف ابیئی علاقے کا اہم تجارتی مرکز ہے بلکہ یہ سوڈان اور جنوبی سوڈان کی سرحد پر دونوں ملکوں کی عوام کے درمیان معاشی و تجارتی رابطے کا واحد بڑا ذریعہ بھی شمار ہوتی ہے۔

حملے کے وقت منڈی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے کہ اچانک فضا سے گائیڈڈ ڈرون کے ذریعے بارودی مواد سے لیس بم گرائے گئے۔ دھماکے اتنے شدید تھے کہ منڈی کی درجنوں عارضی دکانیں اور عارضی شیڈ آن کی آن میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔

جانی و مالی نقصان کے اعداد و شمار

تفصیلات / امورارقام اور حقائق
مجموعی ہلاکتیںکم از کم 53 افراد کی جاں بحق ہونے کی تصدیق
زخمیوں کی تعداد70 سے زائد افراد شدید زخمی (جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک)
مقامِ واقعہامیت مارکیٹ (Amiet Market)، ضلع ابیئی
حملے کا ذریعہسوڈانی فوج (Sudanese Army) کا ملٹری ڈرون
متاثرین کی نوعیتعام شہری، مقامی تاجر، خواتین اور بچے

شاہدین کے مطابق واقعے کے فوری بعد علاقے میں قیامت خیز مناظر دیکھے گئے، جہاں لاشیں بکھری پڑی تھیں اور زخمی مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ ہسپتالوں اور طبی مراکزمیں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث ادویات اور خون کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

ابیئی (Abyei) خطے کی تاریخی و جغرافیائی اہمیت اور تنازع کا پس منظر

ابیئی کا علاقہ دہائیوں سے سوڈان اور جنوبی سوڈان کے مابین تنازع اور تناؤ کی بنیادی وجہ رہا ہے۔ 2011ء میں جب جنوبی سوڈان ایک طویل خانہ جنگی کے بعد سوڈان سے الگ ہو کر ایک آزاد ملک بنا، تو ابیئی کے حتمی مستقبل کا فیصلہ التواء کا شکار ہو گیا۔

اس علاقے کی خصوصی اہمیت کی وجوہات درج ذیل ہیں:

  1. تیل کی فراوانی: ابیئی کا خطہ زراعت کے ساتھ ساتھ خام تیل کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے، جس پر دونوں ممالک اپنے ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
  2. قبائلی و نسلی تقسیم: اس علاقے میں عرب نژاد ‘مسیریا’ (Misseriya) چرواہے اور افریقی نژاد ‘نگوک دینکا’ (Ngok Dinka) قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ دونوں کے درمیان سرسبز چراگاہوں، پانی کے وسائل اور اراضی کی ملکیت پر بارہا خونریز تصادم ہو چکے ہیں۔
  3. اقوامِ متحدہ کا امن مشن: علاقے میں امن و امان کی نازک صورتحال کے مدنظر اقوامِ متحدہ کا بالخصوص قائم کردہ امن مشن (UNISFA) تعینات ہے، تاہم اس کے باوجود فضائی حملوں اور پرتشدد حملوں کی روک تھام ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

سوڈان میں جاری خانہ جنگی اور ڈرون ٹیکنالوجی کے اثرات

اپریل 2023ء سے سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور پیرا ملٹری فورس ‘ریپڈ سپورٹ فورسز’ (RSF) کے سربراہ جنرل محمد حمدان دقلو (حمتیدتی) کے درمیان جاری اقتدار کی کشمکش نے پورے ملک کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔

اس خانہ جنگی میں اب جدید ڈرونز اور فضائی ہتھیاروں کا استعمال بے دریغ کیا جا رہا ہے:

  • سوڈانی فوج کی حکمتِ عملی: سوڈانی مسلح افواج اپنے مخالفین اور ان کے ممکنہ ٹھکانوں یا ان کے زیرِ اثر معاشی مراکز پر حملوں کے لیے فوجی ڈرونز پر بھاری انحصار کر رہی ہیں۔
  • عام شہریوں کا نشانہ بننا: ڈرون حملوں کی زد میں آ کر اکثر و بیشتر گنجان آبادیاں، عام ہسپتال، اسکول اور تجارتی منڈیاں آ جاتی ہیں، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں سوڈانی فوج کی اس کارروائی کی شدید مذمت کر رہی ہیں۔

عالمی ردِعمل، انسانی حقوق کے خدشات اور متوقع اثرات

امیت مارکیٹ پر اس ہولناک ڈرون حملے کے بعد بین الاقوامی برادری اور حقوقِ انسانی کے اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور افریقی یونین کی جانب سے اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور عام شہریوں کو قصداً یا بلا قصد نشانہ بنانے کے عمل کو فوری بند کرنے کا مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

ممکنہ نتائج و اثرات

  1. جنوبی سوڈان کے ساتھ سفارتی کشیدگی: ابیئی پر سوڈانی فوج کے اس یکطرفہ حملے سے سوڈان اور جنوبی سوڈان کے مابین سفارتی تعلقات میں مزید بگاڑ اور سرحدی کشیدگی پیدا ہونے کا شدید خطرہ ہے۔
  2. سرحدی تجارت کی معطلی: امیت مارکیٹ کی تباہی سے دونوں ملکوں کے سرحدی قبائل اور عام عوام کی غذائی و معاشی سپلائی لائن شدید متاثر ہو گی، جس سے علاقے میں قحط سالی کے خطرات مزید گہرے ہوں گے۔
  3. پناہ گزینوں کا نیا بحران: خونریز حملے کے بعد ابیئی کے رہائشی امن و امان کی تلاش میں آس پاس کے علاقوں اور جنوبی سوڈان کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

ایڈیٹوریل تجزیہ: معصوم شہریوں کی قربانی کا خاتمہ کب؟

سوڈانی فوج اور ایئر فورس کی جانب سے ڈرون حملوں میں سیکیورٹی اور ہدف کی درستگی کے فقدان کے نتیجے میں معصوم شہریوں کا لقمہِ اجل بننا ایک سنگین جنگی جرم (War Crime) کے زمرے میں آتا ہے۔ امیت مارکیٹ جیسے خالصتاً شہری و تجارتی مرکز کو نشانہ بنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سوڈانی تنازع کے فریقین جنگی ضوابط اور عالمی انسانی قوانین کی کس قدر خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

جب تک سوڈان میں جاری اقتدار کی جنگ کو روکا نہیں جاتا اور متنازعہ علاقوں جیسے ابیئی میں بین الاقوامی امن فورسز کو مکمل بااختیار بنا کر سیکیورٹی یقینی نہیں بنائی جاتی، تب تک امیت مارکیٹ جیسے دلخراش واقعات اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا یہ بھیانک سلسلہ رکنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور افریقی قیادت کو چاہیے کہ وہ اس بحران کا فوری سفارتی حل نکالنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔