ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے، جہاں وسیع و عریض زرخیز زمینیں، ندی نالوں اور نہروں کا نظام اور لاکھوں محنتی کسان موجود ہیں، پاکستان کو فوڈ سیکیورٹی (غذائی تحفظ) کے ایک شدید بحران کا سامنا ہے۔ قوم ایک کھلے تضاد سے دوچار ہے: اگرچہ یہ ملک ہر سال لاکھوں ٹن گندم، چاول، کماد اور مال مویشی سے حاصل ہونے والی پیداوار پیدا کرتا ہے، لیکن اس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ مسلسل ناقص غذا کا شکار ہے۔ یہ بحران ایک بنیادی معاشی اصول کی نشاندہی کرتا ہے: خوراک کی پیداوار اور دستیابی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خوراک تک رسائی بھی حاصل ہے۔ قومی سطح پر اناج کی وافر پیداوار بھوک کے خلاف کسی ضمانت کی فراہمی میں ناکام رہتی ہے اگر آبادی کا ایک بڑا حصہ اسے خریدنے کی مالی استطاعت ہی نہ رکھتا ہو۔ پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کے اہم عوامل 1. معاشی رسائی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی آج پاکستان میں غذائی تحفظ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خوراک کی جسمانی قلت کے بجائے اس کی مالی عدم استطاعت ہے۔ شدید مہنگائی اور خوراک کی قیمتیں: بنیادی غذائی اجناس—جیسے گندم کا آٹا، خوردنی تیل، دالیں اور دودھ—کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے نے آمدنی اور اجرتوں میں اضافے کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ گھریلو بجٹ پر دباؤ: کم اور متوسط آمدنی والے خاندان اپنی ماہانہ آمدنی کا 50 سے 60 فیصد سے زائد حصہ صرف بنیادی خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں صحت، تعلیم اور معیاری غذائیت پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ غربت اور بے روزگاری: غربت کی بلند شرح کے باعث لاکھوں افراد دیہاڑی دار اور قلیل آمدنی پر زندگی بسر کر رہے ہیں، جس سے معاشی جھٹکے اور قیمتوں میں اچانک اضافہ انہیں شدید متاثر کرتا ہے۔ 2. زرعی پیداواری صلاحیت اور ساختار کے مسائل اگرچہ پاکستان چند اہم فصلوں کی پیداوار میں دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل ہے، لیکن اس کا زرعی شعبہ گہرے ساختاری مسائل کا شکار ہے: پیداواری صلاحیت کا گیپ: جدید زرعی تکنیک کے فقدان، غیر معیاری بیجوں اور غیر تصدیق شدہ کھادوں کے استعمال کی وجہ سے اہم فصلوں (گندم، کپاس، چاول) کی فی ایکڑ پیداوار عالمی معیار کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ پانی کی قلت اور بگاڑ: پاکستان تیزی سے پانی کے دباؤ والے ملک سے پانی کی شدید قلت والے ملک میں تبدیل ہو رہا ہے۔ رواں سیلابی طریقہ آبپاشی (Flood Irrigation) کے باعث پانی کا بہت بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ نہری نظام کی ناقص انتظامیہ کی وجہ سے آخری چھور کے کسانوں کو پانی نہیں مل پاتا۔ پیداواری لاگت میں اضافہ: ڈیزل، بجلی، کھاد اور کیڑے مار ادویات کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے چھوٹے کسانوں کے منافع کو کم کر دیا ہے، جس سے وہ زیادہ پیداوار دینے والے طریقوں میں سرمایہ کاری کرنے سے قاصر ہیں۔ 3. موسمیاتی تبدیلیاں اور ماحول کی بہتری میں کمی پاکستان مسلسل دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ شدید موسمی واقعات: غیر متوقع مون سون، فصلوں کی بڑھوتری کے اہم مراحل کے دوران شدید گرمی کی لہریں، اور تباہ کن سیلاب (جیسے 2022 کے سیلاب) وقفے وقفے سے لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں اور مال مویشیوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ زمین کی زبردست توڑ پھوڑ: مناسب فصلوں کی تبدیلی کے بغیر دہائیوں سے جاری مسلسل زراعت اور سیم و تھور نے پنجاب اور سندھ کی زمین کی قدرتی زرخیزی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 4. سپلائی چین کا ضیاع اور منڈی کی بے ضابطگیاں پیدا کی جانے والی خوراک کا ایک بڑا حصہ صارفین کی پلیٹ تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔ فصل کی کٹائی کے بعد کا ضیاع: ذخیرہ اندوزی کی جدید سہولیات، کولڈ چین انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی اور ناکافی ترسیلی نظام کے باعث پھلوں، سبزیوں اور اناج کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ کٹائی کے بعد ضائع ہو جاتا ہے۔ آڑھیتی نظام اور ذخیرہ اندوزی: درمیان کے دلال اور آڑھیتی سپلائی چین پر قابض ہیں، جو اکثر مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھاتے ہیں، جس سے کسان مناسب منافع سے محروم رہتے ہیں اور عام صارفین سے حد سے زیادہ قیمت وصول کی جاتی ہے۔ غذائی تحفظ کے بحران کا ساختاری جائزہ شعبہ / میدانبنیادی رکاوٹغذائی تحفظ پر اثراتگھریلو معیشتآمدنی میں جمود اور غذائی اجناس کی مہنگائیخاندان کم لاگت اور کم غذائیت والی خوراک پر منتقل ہو جاتے ہیں (پوشیدہ بھوک)زراعتجدید ٹیکنالوجی کا کم استعمال اور پیداوری لاگت کا اضافہچھوٹے کسانوں کے لیے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں جمود اور کم منافعانفراسٹرکچرناقص سٹوریج اور کولڈ چینز کا فقدانفصل کی کٹائی کے بعد کا بھاری ضیاع اور موسمی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤگورننسقیمتوں کے کنٹرول کے ضعیف میکانزم اور منڈی میں جوڑ توڑمانگ کے اوقات میں مصنوعی قیمتوں میں اضافہ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزیموسمیاتغیر متوقع موسمی پیٹرن اور سیلاب کے خطراتزرعی پیداوار کی وقفے وقفے سے مکمل یا جزوی تباہی انسانی اثرات: غذائیت کی کمی اور اسٹنک (قد میں کمی) متوازن اور باقاعدہ خوراک کی عدم استطاعت کے نتیجے میں ایک ایسا عوامی صحت کا بحران جنم لے چکا ہے جو پاکستان کے مستقبل کے معاشی و انسانی معماروں کے لیے خطرہ ہے: بچوں کا ناتواں قد (Stunting): پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے مسلسل غذائیت کی کمی (Stunting) کا شکار ہیں، جو ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو مستقل طور پر متاثر کرتی ہے۔ ضروری اجزاء (Micronutrients) کی کمی: خواتین اور چھوٹے بچوں میں فولاد (Iron)، زنک، وٹامن A اور D کی شدید کمی پائی جاتی ہے، جس کے باعث ماؤں میں خون کی کمی (Anemia) کا تناسب بے حد زیادہ ہے۔ نسل در نسل غربت: غذائیت کی کمی کا شکار بچے اسکولوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے، جس سے ان کی آئندہ زندگی میں کمانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور غربت کا یہ چکر نسل در نسل جاری رہتا ہے۔ غذائی تحفظ کے لیے عملی و بنیادی اقدامات پاکستان میں غذائی تحفظ کے چیلنج کو حل کرنے کے لیے ایک ایسی جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو زرعی پیداوار کی بہتری اور عوام کی معاشی رسائی دونوں پر یکساں توجہ دے: ٹارگٹڈ سوشل سیفٹی نیٹس: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) اور ٹارگٹڈ فوڈ سبسڈی پروگرامز کو وسعت دی جائے تاکہ غریب اور نچلے طبقے کو خوراک کی مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ زراعت کی جدید کاری: موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی اقسام (خشک سالی اور گرمی برداشت کرنے والے بیج) کو فروغ دیا جائے۔ روایت پسندانہ سیلابی طریقہ آبپاشی کے بجائے قطرہ قطرہ (Drip) اور ڈرپ واٹر سسٹمز جیسی جدید تکنیک اپنائی جائے۔ ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے چھوٹے کسانوں کو براہِ راست بلابلاوساطت قرضے اور سستے بیج و کھاد فراہم کی جائے۔ سپلائی چین میں اصلاحات: جدید اناج کے گوداموں (Silos)، کولڈ سٹوریج نیٹ ورکس، اور کسانوں کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ آڑھیتی نظام کے ناجائز منافع اور فصل کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔ قیمتوں کی نظامت و گورننس: ذخیرہ اندوزی اور منڈی میں مصنوعی جوڑ توڑ کے خلاف سخت ترین قوانین نافذ کیے جائیں، جبکہ بنیادی فصلوں کی امدادی قیمتوں کو شفاف اور مارکیٹ کے مطابق برقرار رکھا جائے۔ حاصلِ کلام پاکستان کے لیے غذائی تحفظ کی راہ صرف زیادہ اناج اگانے سے ہموار نہیں ہوگی، بلکہ ایک ایسا منصفانہ معاشی نظام تشکیل دینے سے ممکن ہوگی جہاں ہر شہری صحت بخش اور متوازن غذا خریدنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ زراعت کو محض گزر بسر کے ذریعہ معاش سے بدل کر ایک جدید، موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ اور منافع بخش شعبے میں ڈھالنا—اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مضبوط معاشی تحفظ فراہم کرنا—اس بات کی ضمانت ہے کہ ملکی زرعی کثرت کا فائدہ ہر گھر کے دسترخوان تک پہنچ سکے۔ Post navigation جمہوریت کی لعنت: پیزے، دنبے، سرکاری گاڑی اور بھوکا پاکستان