Preloader
BISP launches nationwide campaign on digital payment system

اہم نکات (خلاصہ)

  • نئے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کا معارفہ: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) نے مستحق خواتین کے لیے ادائیگیوں کے عمل کو شفاف اور آسان بنانے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم متعارف کرایا ہے۔
  • 1-لنک نیٹ ورک سے رقم کی فراہمی: نئے نظام کے تحت اب مستحق خواتین رقم کی منتقلی کا ایس ایم ایس (SMS) موصول ہوتے ہی ملک بھر میں قائم پارٹنر بنکوں کے کسی بھی مجاز ریٹیلر سے 1-لنک (1-Link) نیٹ ورک کے ذریعے اپنی قسط حاصل کر سکیں گی۔
  • ملک گیر آگاہی اور تربیتی مہم: بی آئی ایس پی نے مستحقین کی رہنمائی اور ان کی فنی تربیت کے لیے پورے ملک میں بیداری اور صلاحیت سازی کی وسیع مہم شروع کر دی ہے۔
  • کٹوتیوں اور ایجنٹوں کا خاتمہ: اس اقدام کا بنیادی مقصد ماضی میں بائیو میٹرک تصدیق اور ریٹیلرز کی جانب سے کی جانے والی ناجائز کٹوتیوں اور کرپشن کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔

پس منظر: بی آئی ایس پی کا روایتی نظام اور درپیش چیلنجز

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام ہے، جس کے تحت ملک کے کروڑوں غریب اور مستحق خاندانوں، بالخصوص خواتین کو سہ ماہی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم، ماضی میں اس مالی امداد کی تقسیم کا نظام متعدد انتظامی اور تکنیکی مسائل کا شکار رہا ہے۔

پرانے نظام میں مستحق خواتین کو مخصوص ایجنٹوں یا محدود بینکنگ پوائنٹس پر لمبی قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ بائیو میٹرک انگوٹھے کے نشان کی عدم تصدیق، ڈیوائسز کے خراب ہونے اور بعض غیر اخلاقی ریٹیلرز یا ایجنٹوں کی جانب سے کٹوتیوں اور رشوت ستانی کی شکایات عام تھیں۔ ان مسائل سے نہ صرف مستحق خواتین کی عزتِ نفس مجروح ہوتی تھی بلکہ حکومتی فنڈز کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھتے تھے۔ ان تمام خامیوں کے مستقل سدِ باب کے لیے ایک ایسے جدید اور خودکار نظام کی ضرورت تھی جو شفافیت اور آسانی کو یقینی بنا سکے۔

نیا ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم: نظام کیسے کام کرے گا؟

بی آئی ایس پی انتظامیہ نے ملک کے ممتاز مالیاتی اداروں اور بینکنگ سسٹمز کے تعاون سے ایک جدید ڈیجیٹل طریقہ کار وضع کیا ہے، جو 1-لنک (1-Link) نیٹ ورک سے منسلک ہے۔ اس نئے ایکو سسٹم کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

  1. فوری ایس ایم ایس اطلاع: جیسے ہی کسی مستحق خاتون کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی جائے گی، اسے بی آئی ایس پی کے سرکاری شارٹ کوڈ (8171) سے فوری تصدیق کا پیغام موصول ہوگا۔
  2. بینکنگ سہولت کی آزادی: خواتین کو اب مخصوص یا مقررہ دکان پر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وہ 1-لنک نیٹ ورک سے منسلک تمام پارٹنر بینکوں کے کسی بھی قریبی اور مجاز ریٹیلر سے اپنی رقم حاصل کر سکیں گی۔
  3. شفاف بائیو میٹرک تصدیق: جدید ترین نجی و سرکاری بینکنگ ڈیوائسز کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق کا عمل محض چند سیکنڈز میں مکمل ہوگا، جس سے جعل سازی کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔
  4. رقم کی سیکیورٹی: اس نظام کے تحت رقم کی تمام تر تفصیلات ڈیجیٹل طور پر محفوظ رہیں گی اور کسی بھی غیر قانونی کٹوتی کی صورت میں فوری آن لائن ریکارڈ دستیاب ہوگا۔

ملک گیر آگاہی اور ظرفیت سازی (Capacity Building) کی مہم

نئے ڈیجیٹل سسٹم پر منتقل ہونے سے قبل، بی آئی ایس پی نے مستحق خواتین اور ریٹیلرز دونوں کے لیے ملک گیر سطح پر صلاحیت سازی اور عوامی آگاہی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ کیونکہ مستحقین کی ایک بڑی تعداد دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے اور ڈیجیٹل سمارٹ فونز یا جدید بینکنگ سے کم واقف ہے، اس لیے ان کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔

مہم کے بنیادی اہداف:

  • صوبائی اور ضلعی سطح پر سیمینارز: بی آئی ایس پی کے تمام صوبائی و ضلعی دفاتر میں سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ عملہ خواتین کو نئے نظام کے طریقہ کار سے آگاہ کر سکے۔
  • موبائل نوٹیفکیشن اور میڈیا مہم: ریڈیو، ٹی وی، سوشل میڈیا اور مقامی زبانوں میں پیغامات کے ذریعے خواتین کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ 8171 کے علاوہ کسی دوسرے نمبر سے آنے والے جعلی میسجز پر بھروسہ نہ کریں۔
  • ریٹیلرز کے لیے تربیتی ضوابط: بنکوں کے ریٹیلرز اور ایجنٹوں کے لیے سخت ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مستحقین کے ساتھ باوقار اور شفاف رویہ اختیار کریں۔

اعداد و شمار: بی آئی ایس پی اور نیکی کا دائرہ کار

شمارپہلو / تفصیلاتاعداد و شمار / موجودہ حیثیت
1کل مستحق خاندان93 لاکھ سے زائد غریب خاندان مستفید ہو رہے ہیں
2مجموعی سہ ماہی بجٹاربوں روپے کی شفاف مالی تقسیم
3تصدیقی شارٹ کوڈصرف 8171 کے ذریعے معتبر اطلاعی پیغامات
4پیمنٹ نیٹ ورک1-Link سے منسلک تمام پارٹنر بینکنگ ریٹیلرز

معاشی اور سماجی اثرات: خواتین کی خود مختاری اور کرپشن کا خاتمہ

بی آئی ایس پی کا یہ جدید ڈیجیٹل انقلاب نہ صرف انتظامی اصلاحات کا حامل ہے بلکہ اس کے دور رس سماجی اور معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے:

1. مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion)

اس قدم سے پاکستان کی لاکھوں غریب ترین خواتین پہلی بار باقاعدہ طور پر ملک کے ڈیجیٹل اور بینکنگ نیٹ ورک کا حصہ بن رہی ہیں۔ یہ قدم خواتین کی مالی خود مختاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

2. ایجنٹ مافیا اور کٹوتیوں کا خاتمہ

سابقہ دور میں مختلف مقامات پر ایجنٹس کی جانب سے 500 سے 1000 روپے تک کی کٹوتی کی شکایات ملتی تھیں۔ نئے 1-لنک اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے نفاذ سے ہر خاتون کو اس کا پورا حق بغیر کسی درمیانے آدمی (Middleman) کی مداخلت کے ملے گا۔

3. عزتِ نفس کا تحفظ

طویل قطاروں، گرمی اور بدانتظامی کے بجائے اب مستحق خواتین کسی بھی قریبی اے ٹی ایم یا مجاز ایجنٹ کے پاس جا کر عزت کے ساتھ اپنی رقم وصول کر سکتی ہیں، جس سے ان کی عزتِ نفس برقرار رہتی ہے۔

ایڈیٹوریل نوٹ: پائیدار نفاذ اور شفافیت کا چیلنج

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے 1-لنک ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم کا نفاذ بلا شبہ ایک خوش آئند اور انقلابی اقدام ہے۔ تاہم، اس منصوبے کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس کے پائیدار اور سخت نفاذ پر ہے۔

اس تحریر اور واقعے کی معروضیت تقاضا کرتی ہے کہ بی آئی ایس پی انتظامیہ صرف ڈیجیٹل سسٹم متعارف کروانے پر اکتفا نہ کرے، بلکہ دیہی علاقوں میں نیٹ ورک کی خرابی، بائیو میٹرک کے مسائل اور جعل سازوں کے خلاف ایک مؤثر ہیلپ لائن اور شکایت کے فوری تدارک کا نظام بھی قائم رکھے۔ حکومت کو چاہیے کہ کسی بھی ایجنٹ یا ریٹیلر کی جانب سے غیر قانونی کٹوتی ثابت ہونے پر فوری سخت قانونی کارروائی اور لائسنس کی منسوخی کو یقینی بنائے تاکہ ملک کی مستحق خواتین کو ان کا پورا اور شرعی حق مل سکے۔

کیا آپ اس آرٹیکل کے کسی مخصوص پہلو جیسے کہ 8171 الرٹس کی تفصیلات، پورٹل رجسٹریشن یا علاقائی اثرات پر مزید تفصیلی جائزہ چاہتے ہیں؟

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔