Preloader
Kidnapping and human trafficking allegations

اہم نکات (خلاصہ)

  • سنگین الزامات: ثمینہ بروہی نامی خاتون نے پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بھابھی صنم اور چار سالہ بھتیجی نجمہ کو ورغلا کر لے جایا گیا اور بعد ازاں میہڑ میں فروخت کر دیا گیا۔
  • پولیس کی عدم توجہی: متاثرہ خاتون کے مطابق میہڑ تھانے کے بار بار چکر لگانے کے باوجود پولیس کی جانب سے کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی مدد فراہم کی گئی۔
  • رابطہ اور تشدد کا دعویٰ: ایک سال قبل گمشدہ خاتون نے فون پر رابطہ کر کے اپنے اوپر ہونے والے تشدد اور تکلیف دہ حالات سے آگاہ کیا تھا۔
  • اعلیٰ حکام سے مطالبہ: متاثرہ خاندان نے اعلیٰ پولیس حکام اور مربوط اداروں سے ملزمان کی گرفتاری اور مغویوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

واقعے کی تفصیلی رپورٹ اور پریس کانفرنس کے احوال

جامشورو (خاص رپورٹ – محمد نصیر ساگر): سندھ کے شہر جامشورو میں ایک انتہائی تشویشناک اور روح فرسا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون نے اپنی بھابھی اور چار سالہ معصوم بھتیجی کو اغوا کے بعد مبینہ طور پر فروخت کیے جانے کا سنسنی خیز الزام عائد کیا ہے۔

سندھ پریس کلب جامشورو (ایٹ کوٹری) میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دادو کی رہائشی تاہم حال مقیم کراچی، ثمینہ بروہی نے اپنے خاندان پر گزرنے والے دکھ اور آلام کی داستان بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل نواز بروہی، اس کی اہلیہ زاہدہ بروہی اور ایک دیگر خاتون فریدہ چانڈیو نے ان کی بھابھی صنم (زوجہ سعید بروہی) اور چار سالہ کمسن بیٹی نجمہ کو بہلا پھسلا کر اور ورغلا کر اپنے ساتھ میہڑ لے گئے۔

ثمینہ بروہی نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ بعد میں سامنے آنے والی معلومات سے معلوم ہوا کہ ملزمان نے ان کی بھابھی کو مالی فائدے اور پیسوں کے عوض فروخت کر دیا ہے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد سے ان کا پورا خاندان شدید ذہنی کرب اور پریشانی میں مبتلا ہے۔

خاندان کا پس منظر اور رابطے کی تفصیلات

پریس کانفرنس کے دوران ثمینہ بروہی نے واقعے کی مزید پس پردہ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان بنیادی طور پر کراچی کے علاقے ایوب گوٹھ میں رہائش پذیر ہے۔ ان کا بھائی یعنی صنم کا شوہر کسی مقدمے کی پاداش میں جیل میں قید ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نامزد ملزم نواز بروہی اور اس کے ساتھیوں نے بے بس خاتون اور اس کی معصوم بچی کو اپنا نشانہ بنایا۔

متاثرہ خاتون نے مزید بتایا کہ تقریباً ایک برس قبل ان کی بھابھی نے انتہائی خفیہ انداز میں ان سے فون پر رابطہ کیا تھا۔ اس کال کے دوران صنم نے روتے ہوئے اپنے حالات زار بیان کیے اور بتایا کہ اسے شدید جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ انتہائی تکلیف دہ اور غیر انسانی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس فون کال کے بعد سے ان کا اپنی بھابھی سے دوبارہ کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے ان کی زندگی کے حوالے سے شدید خدشات جنم لے رہے ہیں۔

پولیس کا رویہ اور قانونی چارہ جوئی کی ناکام کوششیں

متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ثمینہ بروہی نے پولیس کی جانب سے برتی جانے والی مبینہ لاپرواہی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی بھابھی اور معصوم بھتیجی کا سراغ لگانے اور ان کی قانون کے مطابق بازیابی کے لیے متعدد بار میہڑ تھانے گئیں، لیکن مقامی پولیس حکام نے ان کے درد کو سمجھنے اور کارروائی کرنے کے بجائے روایتی ٹال مٹول سے کام لیا۔ پولیس کی اس عدم توجہی کے باعث نہ صرف ملزمان کے حوصلے بلند ہوئے بلکہ ایک سال گزرنے کے باوجود معصوم بچی اور عورت کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

انسانوں کی غیر قانونی خرید و فروخت اور معاشرتی خطرات

یہ واقعہ کوئی منفرد یا تنہا واقعہ نہیں ہے، بلکہ سندھ کے بعض دیہی اور نچلے طبقات میں خواتین اور بچوں کی تسکر اور غیر قانونی فروخت ایک بھیانک سماجی ناسور بن کر ابھر رہی ہے۔ غربت، جہالت، قانون کی ضعیف عملداری اور متاثرہ خاندانوں کی بے بسی کا فائدہ اٹھا کر جرائم پیشہ عناصر ایسے واقعات کو انجام دیتے ہیں۔

خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات پر فوری قابو نہ پایا گیا تو معاشرے میں قانون کی حاکمیت ختم ہو جائے گی۔

حادثے یا جرم کا پہلوبنیادی وجہدرپیش چیلنج
خواتین کی بیع و شراءغربت اور بے سہارا ہوناتھانہ سطح پر بروقت رپورٹ درج نہ ہونا
معصوم بچوں کا اغواخاندانی سرپرست کی عدم موجودگیملزمان کی بااثر افراد سے پشت پناہی
قانونی امداد کا نہ ملنامتاثرین کی عدم آگاہیکارروائی میں غیر ضروری تاخیر

اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ

پریس کانفرنس کے اختتام پر ثمینہ بروہی نے حکومتِ سندھ، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی جامشورو و دادو سے پرزور اپیل کی کہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔

ان کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں:

  • نامزد ملزمان کی گرفتاری: نواز بروہی، زاہدہ بروہی اور فریدہ چانڈیو کو بلا تاخیر گرفتار کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جائے۔
  • مغویوں کی بازیابی: صنم اور اس کی چار سالہ بیٹی نجمہ کو فوری طور پر بازیاب کرا کر محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔
  • شفاف تحقیقات: واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک غیر جانبدار ٹیم تشکیل دی جائے جو پولیس کی سستی کا بھی جائزہ لے۔
  • تحفظ کی فراہمی: متاثرہ خاندان کو ملزمان کی جانب سے ملنے والی ممکنہ دھمکیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

ایڈیٹوریل نوٹ (صحافتی نقطہ نظر)

صحافتی اخلاقیات اور معروضی اندازِ تحریر کو برقرار رکھتے ہوئے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مذکورہ تمام الزامات، واقعات اور دعوے سندھ پریس کلب جامشورو میں پریس کانفرنس کرنے والی خاتون ثمینہ بروہی کے بیان پر مبنی ہیں۔ خبر میں نامزد کیے گئے افراد یا مقامی پولیس کا موقف فی الحال سامنے نہیں آسکا ہے۔ کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام فریقین کے موقف اور پولیس کی باضابطہ تحقیقاتی رپورٹ کا ہونا قانونی اور اخلاقی طور پر لازمی ہے۔