اہم نکات (خلاصہ) بڑی کارروائی: خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے غازی بازار ہری پور میں عوامی شکایت پر کامیاب چھاپہ مار کر 150 کلو گرام مضر صحت ملاوٹ شدہ گڑ ضبط کر لیا۔ قانونی و مالیاتی ایکشن: ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے ذمہ دار تاجر پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ دیگر دکانداروں کو حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر حتمی نوٹسز جاری کیے گئے۔ موقع پر ای لائسنسنگ: قانونی تقاضوں کو آسان بنانے کے لیے زائد المیعاد لائسنس کے حامل کاروباروں کو موقع پر ہی ای لائسنسنگ سسٹم کے ذریعے نئے لائسنس جاری کیے گئے۔ عوامی صحت کا تحفظ: حکام کے مطابق اس کریک ڈاؤن کا بنیادی مقصد خطے میں معیاری اور کیمیکل سے پاک غذائی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ہری پور (خاص رپورٹ) عوام کو معیاری، شفا بخش اور ملاوٹ سے پاک خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے سلسلے میں خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے ہزارہ ڈویژن کے ضلع ہری پور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف ایک اور بڑی اور کامیاب کارروائی کی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی خصوصی ہدایت پر اور ڈپٹی ڈائریکٹر ہزارہ کی براہِ راست سربراہی میں ہری پور کی فوڈ سیفٹی ٹیم نے غازی بازار میں فوری ایکشن لیتے ہوئے بھاری مقدار میں ملاوٹ شدہ گڑ برآمد کر کے اسے موقع پر ہی تلف و ضبط کر لیا، جبکہ مرتکب عناصر پر بھاری مالیاتی جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ غازی بازار اور اس کے ملحقہ تجارتی علاقوں میں کی جانے والی اس اچانک کارروائی سے ملاوٹ کرنے والے دکانداروں اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت میں ملوث عناصر میں سراسیمگی پھیل گئی۔ ترجمان فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے مطابق یہ اقدام ایک شہری کی طرف سے موصول ہونے والی مستند شکایت کی روشنی میں اٹھایا گیا، جس پر فوری اور موثر ردِعمل دیتے ہوئے فوڈ سیفٹی انسپکٹرز نے چھاپہ مارا۔ کارروائی کی تفصیلات اور برآمد شدہ مواد فوڈ سیفٹی ٹیم نے غازی بازار میں گڑ کے مختلف ہول سیل اور ریٹیل مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا۔ لیبارٹری ٹیسٹنگ اور موقع پر موجود جدید کٹس کے ذریعے جب مشکوک گڑ کا معائنہ کیا گیا تو اس میں غیر قانونی کیمیکلز، ٹیکسٹائل ڈائی (کپڑوں کو رنگنے والے رنگ) اور غیر معیاری اجزاء کی آمیزش ثابت ہوئی۔ کارروائی کے اعداد و شمار اور اہم پہلو درج ذیل ہیں: ضبط شدہ گڑ: 150 کلو گرام انتہائی مضرِ صحت اور کیمیکل ملا گڑ موقع پر قبضہ میں لیا گیا۔ مالیاتی سزا: غذائی قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر متعلقہ تاجر پر موقع پر ہی بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔ نوٹسز کا اجراء: 10 سے زائد دیگر غذائی دکانوں اور فیکٹریوں کو صفائی کے ناقص انتظامات پر ہدایاتی نوٹسز جاری کیے گئے۔ شفافیت اور قانونی کارروائی: برآمد شدہ مضر صحت مواد کو تلف کرنے کے لیے باقاعدہ قانونی ضوابط اور طریقہ کار اپنایا گیا۔ ملاوٹ شدہ گڑ کے صحت پر مضر اثرات اور پس منظر خیبر پختونخوا اور بالخصوص ہزارہ ڈویژن میں گڑ کا استعمال روزمرہ کی زندگی میں بے حد عام ہے۔ اسے ایک روایتی اور صحت بخش مٹھاس سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، گزشتہ کچھ عرصے سے بعض منافع خور اور بے ضمیر عناصر زیادہ منافع کمانے اور گڑ کی رنگت کو گاہکوں کے لیے جاذبِ نظر بنانے کے لیے اس میں زہریلے کیمیکلز، جیسے کہ سوڈیم ہائیڈروسل فائٹ (کلاpoint) اور زہریلے صنعتی رنگوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق کیمیکل ملا گڑ انسانی صحت کے لیے شدید خطرہ ہے: معدے اور آنتوں کی بیماریاں: ناپائیدار کیمیکلز سے تیار کردہ گڑ معدے میں السر، تیزابیت اور آنتوں کی سوزش کا باعث بنتا ہے۔ گردوں اور جگر کو نقصان: کپڑوں کے رنگ اور کیمیکلز کا مسلسل استعمال جگر اور گردوں کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔ کینسر کے خطرات: صنعتی رنگوں میں شامل مادے انسان میں کینسر جیسے مہلک امراض کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہی خدشات کے پیشِ نظر فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے صوبہ بھر میں بالعموم اور ہری پور میں بالخصوص روایتی منڈیوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے تاکہ عوامی صحت کے ساتھ کھیلنے والے عناصر کا سدِ باب کیا جا سکے۔ ای لائسنسنگ کا اجراء اور کاروباری طبقے کی سہولت کاری اس تحرک کا ایک اور اہم اور مثبت پہلو یہ رہا کہ اتھارٹی نے محض سزاؤں اور جرمانوں پر اتفاء نہیں کیا بلکہ قانون پسند تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھی سہارا لیا۔ دورانِ معائنہ جن کاروباری مراکز کے فوڈ لائسنسز کی مدت ختم (Expire) ہو چکی تھی، انہیں ہراساں کرنے یا دکانیں سیل کرنے کے بجائے جدید ای لائسنسنگ (E-Licensing) نظام کے ذریعے موقع پر ہی نئے لائسنس جاری اور تجدید کیے گئے۔ فوڈ سیفٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کاروباری برادری کے لیے قانونی تقاضوں کی ادائیگی کو آسان بنانا ہے تاکہ وہ بغیر کسی خوف اور رکاوٹ کے اپنے کاروبار کو غذائی تحفظ کے عالمی و قومی معیار کے مطابق ڈھال سکیں۔ فوڈ سیفٹی حکام اور انتظامیہ کا موقف ڈپٹی ڈائریکٹر ہزارہ نے اس آپریشن کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو پاک، صاف اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حلال فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر منڈیوں، بازاروں اور پروسیسنگ یونٹس کا دورہ کر رہی ہیں۔ “عوامی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جو تاجر یا فیکٹری مالکان انسانی زندگیوں سے کھیل کر چند روپوں کے منافع کی خاطر ملاوٹ کا سہارا لیں گے، ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ جرمانے، سامان کی ضبطی اور دکانوں کی سیلنگ جیسے اقدامات بلا تفریق جاری رہیں گے۔” — ڈپٹی ڈائریکٹر، فوڈ سیفٹی اتھارٹی ہزارہ حکام نے تاجر برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خود اپنے سامان کے معیار کی جانچ کریں اور صرف تصدیق شدہ سپلائرز سے ہی اشیائے خورونوش خریدیں۔ عوامی ردِعمل اور مستقبل کے خدشات کا حل ہری پور اور غازی کے مقامی شہریوں، سماجی تنظیموں اور صارفین نے فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی اس بر وقت اور موثر کارروائی کا شاندار الفاظ میں خیرمقدم کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ غازی اور ہری پور کی منڈیوں میں ملاوٹ شدہ اشیاء کی روک تھام کے لیے ایسے اچانک چھاپے نہایت ضروری ہیں۔ مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ: یہ کارروائیاں صرف غازی بازار تک محدود نہ رہیں بلکہ دور دراز کے دیہی علاقوں اور مضافاتی منڈیوں تک بھی پھیلائی جائیں۔ دودھ، دہی، مرچ، مصالحہ جات اور کوکنگ آئل کی فروخت پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔ عوام میں ملاوٹ شدہ اشیاء کی پہچان کے لیے آگاہی مہمات چلاتے ہوئے شہریوں کو شکایت درج کروانے کی ترغیب دی جائے۔ نتیجہ (Editorial Conclusion) غذائی تحفظ صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ براہِ راست انسانی زندگیوں اور آنے والی نسلوں کی صحت سے جڑا ایک سنگین ترین موضوع ہے۔ ہری پور میں فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا 150 کلو گرام ملاوٹ شدہ گڑ ضبط کرنا اور موقع پر ہی ای لائسنسنگ کے ذریعے تاجروں کی سہولت کاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ نفاذِ قانون اور اصلاحات دونوں محاذوں پر متحرک ہے۔ اگر اسی تسلسل اور بلا تفریق جذبے سے ملاوٹ مافیا کے خلاف اقدامات جاری رہے تو نہ صرف ہری پور بلکہ پورے خیبر پختونخوا کو ملاوٹ کے ناسور سے پاک کر کے ایک محفوظ اور صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ Post navigation ملتان میں 15 سالہ معصوم بچے کا دردناک حادثہ: وزیراعلیٰ پنجاب کا سخت اقدام، غفلت کے مرتکب یتیم خانے کی رجسٹریشن درخواست مسترد جامشورو: بھابھی اور چار سالہ بچی کے اغوا و فروخت کا سنگین الزام، متاثرہ خاندان کی سندھ پریس کلب میں داد رسی کی اپیل