خبر کے اہم نکات عظمتِ شہداء کانفرنس: کوئٹہ روڈ مقتلِ شہداء پر مجلس وحدت مسلمین اور وارثانِ شہداء کمیٹی کے زیرِ اہتمام 11ویں برسی کے موقع پر پروقار کانفرنس کا انعقاد۔ مرکزی قیادت اور مہمانان: ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی، معروف سیاسی رہنما میر رافع حسین خان جکھرانی، علامہ سائیں بخش مناظری اور دیگر جید علماء کرام و رہنماؤں کی شرکت۔ قومی یکجہتی کا مطالبہ: دہشت گردی، انتہاپسندی اور تکفیری سوچ کو ملک و قوم کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی اور قانون کی بالادستی کا مطالبہ۔ شمعیں روشن اور خراجِ عقیدت: مقتلِ شہداء پر شمعیں روشن کی گئیں اور شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین سے یکجہتی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شہدائے کربلا کی پیروی، حق اور استقامت کا عظیم نشان جیکب آباد (خاص رپورٹ: اے جی بلوچ) سانحہ شبِ عاشور جیکب آباد کے شہداء کی گیارہویں برسی کے موقع پر کوئٹہ روڈ، مقتلِ شہداء پر ایک عظیم الشان اور پروقار “عظمتِ شہداء کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس وحدت مسلمین سندھ اور وارثانِ شہداء کمیٹی کے مشترکہ اہتمام سے منعقدہ اس تقریب میں علماء کرام، مشائخ، سیاسی و سماجی رہنماؤں، تاجر برادری اور مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کی، جبکہ تقریب کے مہمانِ خصوصی نامور سیاسی و سماجی رہنما میر رافع حسین خان جکھرانی تھے۔ وادیِ مہران کے معروف خطیب علامہ سائیں بخش مناظری نے کانفرنس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے فلسفۂ شہادت اور استقامت پر مفصل روشنی ڈالی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد بارگاہِ رسالت اور شہدائے کربلا و شہدائے وطن کی یاد میں منقبت و خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ پورا ماحول “لبیک یا حسین” اور شہداء کی عظمت کے نعروں سے گونج اٹھا۔ سانحہ شبِ عاشور کا تاریخی پس منظر اور ان مٹ زخم جیکب آباد کا سانحہ شبِ عاشور قومی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک اور سیاہ باب ہے۔ گیارہ برس قبل عاشورہ کی شب جب عزادارانِ حسینؑ پرامن طریقے سے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق یادِ امام مظلوم منا رہے تھے، تو دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے معصوم شہریوں، بچوں اور نوجوانوں کو خون میں نہلا دیا۔ اس المناک واقعے نے نہ صرف جیکب آباد بلکہ پورے ملک کو سوگوار کر دیا تھا۔ اگرچہ اس خوفناک واقعے کو ۱۱ سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، لیکن شہداء کے لواحقین اور اہلِ علاقہ کے دلوں میں اس کا درد آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا پہلے دن تھا۔ اس سانحے نے جہاں ایک طرف غم کی لہر دوڑائی، وہیں دوسری طرف عوام کے اندر باطل قوتوں کے سامنے نہ جھکنے کا بے مثال حوصلہ اور عزم بھی پیدا کیا۔ ہر سال برسی کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ حق اور سچ کے لیے دی جانے والی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا: علامہ مقصود علی ڈومکی کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے شہدائے سانحہ شبِ عاشور کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کا خون قوم کی امانت ہے اور یہ کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ شہداء کی یاد منانا دراصل ان کے متعین کردہ مشن، نظریے اور مظلوموں کے دفاع کے عزم کی تجدید کا نام ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: “دہشت گردی، انتہاپسندی اور تکفیری نظریات نے ہمارے ملک کے امن، قومی یکجہتی، معاشی استحکام اور شہریوں کے تحفظ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ریاست کی بنیادی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کی جان و مال، مذہبی آزادی اور عبادات گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ کالعدم دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کی شر انگیز سرگرمیوں کو روکنا اور انہیں قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔” علامہ مقصود علی ڈومکی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام مسالک کے جید علماء کو متحد ہو کر تکفیری سوچ کے خلاف علمی اور عملی سطح پر جدوجہد کرنا ہو گی۔ شہداء نے حسینیت کی راہ میں اپنے لہو کا نذرانہ دیا: میر رافع حسین جکھرانی تقریب کے مہمانِ خصوصی میر رافع حسین خان جکھرانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہدائے جیکب آباد نے سید الشهداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے افکار پر عمل کرتے ہوئے اپنے پاکیزہ لہو کا نذرانہ پیش کیا۔ وہ تمام مظلوموں کے ہیرو ہیں اور ہم ان کی عظیم قربانیوں کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جابر و ظالم قوتیں بم دھماکوں اور قتل و غارت گری کے ذریعے عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔ جیکب آباد کے غیور عوام نے ہمیشہ صبر، برادشت اور وحدت کا مظاہرہ کرکے دشمن کی شاطرانہ چالوں کو ناکام بنایا ہے۔ مظلوموں کی حمایت اور اتحادِ بین المسلمین کا عزم عظمتِ شہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر جید علمائے کرام اور رہنماؤں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا: علامہ سہیل اکبر شیرازی (صوبائی صدر ایم ڈبلیو ایم بلوچستان): انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کے مشن کو ہر قیمت پر زندہ رکھا جائے گا اور دنیا بھر کے مظلومین کی آواز بلند کرنے کا سلسلہ بلا خوف و خطر جاری رہے گا۔ علامہ سید ظفر عباس شمسی (صوبائی صدر عزاداری ونگ): انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن، انصاف، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ شہداء کے خاندانوں سے کامل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ان کی قربانیوں کو قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب قرار دیا۔ علامہ سید اختر حسین نقوی، علامہ اویس علی نجفی اور علامہ سیف علی ڈومکی: مقررین نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب یا مسلک نہیں ہوتا۔ دشمن ہمیں فرقیوارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتا ہے، لیکن علماء اور بیدار عوام اپنے اتحاد سے ان سازشوں کو ناکام بناتے رہیں گے۔ سیاسی، سماجی اور تجارتی رہنماؤں کی بھرپور شرکت کانفرنس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شہداء کی قربانیاں تمام طبقہ ہائے فکر کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات: میر احمد علی خان بروہی (صدر، چیمبر آف کامرس ضلع جیکب آباد) ایڈووکیٹ عبدالحئی سومرو (چیئرمین، مہران سوشل فورم) اصغر علی سیٹھار (صدر، ایم ڈبلیو ایم ضلع شکارپور) گلشیر علی سیٹھار (صدر، انجمن اکبریہ چک) سید عبدالقادر شاہ (صوبائی جنرل سیکریٹری، ایم ڈبلیو ایم بلوچستان) نذیر حسین جعفری (صدر، ایم ڈبلیو ایم ضلع جیکب آباد) سید بہار شاہ (ضلعی صدر، ایم ڈبلیو ایم نصیر آباد) میر گل حسن ٹالانی، میر علی بخش میرالی، اور منصب علی خان ڈومکی (ممتاز سماجی رہنما) تجارتی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جیکب آباد کے تاجر اور شہری شہداء کے خاندانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔ مقتلِ شہداء پر شمعیں روشن اور اختتامی دعا کانفرنس کے اختتام پر ایک انتہائی رقت آمیز منظر دیکھنے میں آیا۔ میر رافع حسین خان جکھرانی، علامہ مقصود علی ڈومکی، جید علماء کرام اور شہداء کے ورثاء نے مشترکہ طور پر کوئٹہ روڈ پر واقع “مقتلِ شہداء” کا دورہ کیا، جہاں ۱۱ برس قبل یہ خونی سانحہ پیش آیا تھا۔ تمام رہنماؤں اور شرکاء نے مقتلِ شہداء پر شمعیں روشن کیں، پھول نچھاور کیے اور شہداء کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کے اہل خانہ کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کے حق و استقامت کے پیغام کو معاشرے کے ہر فرد تک پہنچایا جائے گا۔ برسی کی یہ باوقار تقریب شہدائے اسلام کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل، ملکی سلامتی و استحکام، اتحادِ بین المسلمین اور ملکِ پاکستان سے ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مکمل خاتمے کی رقت انگیز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ Post navigation گلیات میں سفید پوشی کا دلکش منظر: برف باری کا آغاز، ایبٹ آباد پولیس سیاحوں کی حفاظت اور مدد کے لیے متحرک سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے راولپنڈی میں واقع ابائی گھر میں بڑی چوری، پولیس کی تحقیقات جاری