Preloader
Understanding with federation is key for success

اہم نکات (خلاصہ)

  • گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوابی میں پنج پیر اجتماع کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کے مکمل تعاون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
  • انہوں نے صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام فریقین اور اداروں کے مشترکہ تعاون اور یکجہتی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
  • گورنر نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف یکساں اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور قانون کی پاسداری کا آغاز وہ سب سے پہلے اپنی ذات سے کریں گے۔
  • انہوں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ آزادانہ صحافت اور مثبت تنقید کو اداروں کی بہتری کے لیے نفع بخش قرار دیا۔

صوابی: صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کے ساتھ خوشگوار و ہم آہنگ تعلقات کا فروغ اور باہمی تعاون خیبرپختونخوا کی پائیدار ترقی اور مسائیل کے حل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ضلع صوابی میں پنج پیر کے سالانہ مذہبی اجتماع میں شرکت کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی امور، سلامتی کی صورتحال، قانون کی حکمرانی اور بنیادی عوامی شعبوں میں اصلاحات کے حوالے سے اہم پالیسی مواقف پر روشنی ڈالی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے زور دے کر کہا کہ صوبے کو اس وقت متعدد معاشی، انتظامی اور امن و امان کے چیلنجز کا سامنا ہے جن پر قابو پانا مرکزی حکومت کے ساتھ مضبوط اور تعمیمی تعلقات کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے لیے یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ اب وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی کا فضا قائم ہو رہی ہے، جس کے مثبت اثرات جلد عوام کے سامنے آئیں گے۔

وفاق اور صوبوں کے مابین باہمی تعلقات کی اہمیت

گورنر فیصل کریم کنڈی نے گفتگو کے دوران اس بات پر خصوصی زور دیا کہ خیبرپختونخوا کی جغرافیائی اور معاشی صورتحال ایسی ہے کہ یہ وفاق کے تعاون کے بغیر تنہا پیش رفت نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور بین الصوبائی سطح پر دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو استوار کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

ان کے مطابق، مرکز اور صوبوں کے مابین ٹکراؤ یا دوری کی پالیسی سے ہمیشہ عام عوام کو نقصان پہنچتا ہے اور ترقیاتی منصوبے التوا کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب دونوں اعلیٰ انتظامی سطحیں ایک نقطے پر متفق ہوتی ہیں تو نہ صرف مالی وسائل کی بروقت فراہمی ممکن ہوتی ہے بلکہ پالیسی سازی میں بھی حائل تمام انتظامی رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں۔

امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی

سکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور خطے کو درپیش امن و امان کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے گورنر نے تمام متعلقہ فریقین کو ذمے داری کا احساس دلایا۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ کا عرصہ کسی بھی انتظامیہ یا نظام کے لیے حکمت عملی ترتیب دینے اور نتائج فراہم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

دہشت گردی کے ناسور پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے درج ذیل اہم نکات پیش کیے:

  • مشترکہ جدوجہد: دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف کسی ایک ادارے یا فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم اور تمام سیاسی و انتظامی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
  • یکجہتی اور ہم آہنگی: صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، سکیورٹی فورسز اور عوام کے درمیان اٹوٹ اعتماد کا ہونا لازمی ہے۔
  • مستقبل کا لائحہ عمل: امن و امان کی بحالی کے بغیر نہ تو غیر ملکی سرمائے کی آمد ممکن ہے اور نہ ہی تجارتی و معاشی سرگرمیاں بحال ہو سکتی ہیں۔

قانون کی حکمرانی اور تجاوزات کے خلاف یکساں کارروائی

انتظامی امور اور شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور کسی کے ساتھ بھی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔ شہروں اور دیہات میں سرکاری زمینوں پر غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کے حوالے سے انہوں نے سخت مؤقف اپنایا۔

انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز، شفاف اور آئین و قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے تاریخی جملہ ادا کیا کہ “قانون کا اطلاق اور پاسداری کا آغاز میں سب سے پہلے خود اپنی ذات اور اپنے ادارے سے کروں گا”۔ ان کے اس بیان کو عوامی و سیاسی حلقوں میں قانون کی بالادستی کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

بنیادی شعبوں میں انقلابی اصلاحات: تعلیم اور صحت

عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں انسانی وسائیل کی ترقی پر خاص توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت ایسے دو بنیادیں ہیں جن پر کسی بھی معاشرے کی ترقی کا انحصار ہوتا ہے، اور ان دونوں شعبوں میں روایتی طریقوں سے ہٹ کر انقلابی اقدامات اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

  • تعلیمی نظام میں اصلاحات: صوبے کے بچوں اور نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق معیاری تعلیم اور فنکارانہ مہارتیں فراہم کرنا ہوں گی تاکہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
  • صحت کی سہولیات کا فروغ: دور دراز اور دیہی علاقوں میں بنیادی اور ثانوی علاج معالجے کے مراکز کو فعال بنانا اور تمام طبقات تک ارزاں طبی سہولیات کی رسائی کو یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے۔

صحافت کی آزادی اور مثبت تنقید کا خیرمقدم

میڈیا کے کردار کو جمہوریت اور بہتر اندازِ حکمرانی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صحافتی برادری کو اداروں کی کارکردگی پر تنقید کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ تنقید اصلاح کی نیت سے ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مثبت اور تعمیری تنقید سے سرکاری اداروں کو اپنی خامیاں دور کرنے اور اپنی کارکردگی کو مزید نکھارنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت اور انتظامیہ صحافیوں کی آزادی کا احترام کرتی ہے اور ان کی تجاویز و نشاندہی کو سنجیدگی سے لیتی رہے گی۔

واقعے کا پس منظر اور موجودہ سیاسی صورتحال

گورنر فیصل کریم کنڈی کا صوابی کا یہ دورہ اور پنج پیر کے معروف مذہبی اجتماع میں ان کی شرکت سیاسی اور سماجی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ صوابی صوبہ خیبرپختونخوا کا ایک اہم سیاسی و معاشی ضلع ہے، جہاں پر مذہبی اور سیاسی اجتماعات میں عوام کا بڑا جم غفیر جمع ہوتا ہے۔

حال ہی میں خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی اور انتظامی تناؤ کے بعد گورنر کا یہ بیان کہ “وفاق اور صوبہ ایک پیج پر آ رہے ہیں” ایک بڑا سیاسی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ صوبے میں انتظامی معطلی اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے پردے کے پیچھے اعلیٰ سطح پر رابطے کامیاب ہو رہے ہیں۔

جائزہ اور آئندہ کے اثرات

گورنر کے اس تفصیلی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی قیادت آنے والے دنوں میں ٹکراؤ کی پالیسی چھوڑ کر افہام و تفہیم اور عملی شراکت داری کی راہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات سے خیبرپختونخوا کو درج ذیل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں:

  1. مالیاتی نفاذ اور فنڈز کی منتقلی: قومی مالیاتی ایوارڈ اور صوبائی حصے کی مد میں التوا کا شکار رقم کی بروقت ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔
  2. سکیورٹی کی بہتری: وفاقی اداروں کی مدد سے صوبے کی سرحدوں اور اندرونی علاقوں میں امن و امان کی فضا کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔
  3. عوامی خوشحالی: تعلیمی اور طبی منصوبوں کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگراموں سے اضافی فنڈز کا حصول ممکن ہو گا۔

نتیجہ

صوابی میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا میڈیا سے خطاب صوبے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ایک واضح اور پرامید پیغام رکھتا ہے۔ انہوں نے وفاق کے ساتھ اشتراکِ عمل، دہشت گردی کے خلاف اتحاد، بلاامتیاز قانون کی حکمرانی اور شعبہ صحت و تعلیم میں اصلاحات کا جو خاکہ پیش کیا ہے، اگر اس پر روح کے مطابق عمل درآمد کیا گیا تو یہ صوبہ خیبرپختونخوا کو درپیش دیرینہ معاشی و سکیورٹی بحرانوں سے نکالنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔