اہم نکات (خلاصہ) ملک کے بیشتر حصوں میں شدید سردی کی آمد سے قبل ہی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے نرخوں میں بے تحاشا اور من مانا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے اکتوبر کے لیے گیس کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کی گئی ہے، لیکن بازار میں یہ 450 سے 750 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ سرکاری اور منافع خور عناصر کی جانب سے گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کے باعث عام صارفین بالخصوص غریب اور درمیانے طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ متعلقہ انتظامی اداروں اور ریگولیٹری حکام کی عدم توجہی کے باعث مختلف اضلاع میں گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی فرق پایا جاتا ہے جس پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد / کراچی / لاہور: ملک بھر میں سردیوں کا موسم شروع ہونے سے پہلے ہی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے صارفین کو قیمتوں میں ہوش ربا اضافے اور نایابی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مختلف شہروں میں گیس فروخت کرنے والے تاجروں نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ سرکاری قیمتوں کو مکمل طور پر ہوا میں اڑا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی جیبوں پر اضافی اور غیر معمولی بوجھ آن پڑا ہے۔ حکومتی احکامات اور سرکاری نرخ نامے کے برعکس گیس کھلے عام مقررہ رقم سے دو سے تین گنا زائد نرخوں پر فروخت کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ چھوٹے کاروباری اور دیہی علاقوں کے مکین شدید پریشانی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ سرکاری نرخ اور مارکیٹ کے حقیقی اعداد و شمار موجودہ صورتحال میں سرکاری قیمتوں اور کھلی مارکیٹ میں فروخت ہونے والی گیس کے نرخوں کے درمیان ایک بڑا اور واضح فرق نظر آ رہا ہے۔ اوگرا نے اکتوبر کے مہینے کے لیے جو نرخ نامہ جاری کیا تھا، اس کے برعکس عام بازاروں میں من مانی قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔ ذیل میں اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں اور مختلف شہروں کی حقیقی صورتحال کے بنیادی اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں: اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری قیمت: 279 روپے 34 پیسے فی کلو سرکاری طور پر گھریلو سلنڈر (11.8 کلوگرام) کی قیمت: تقریباً 3,296 روپے مارکیٹ میں گیس کی حقیقی فروخت: 450 روپے سے لے کر 750 روپے فی کلوگرام بازار میں گھریلو سلنڈر کی موجودہ قیمت: 5,300 روپے سے لے کر 8,850 روپے تک قیمتوں میں اوسطاً اضافہ: سرکاری نرخوں کے مقابلے میں 60 فیصد سے 160 فیصد تک زیادہ ان اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف شہروں اور قصبوں میں کسی قسم کا کوئی مؤثر نظامِ کنٹرول موجود نہیں ہے اور فروخت کنندگان اپنی مرضی کے مطابق قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ گراں فروشی اور بلیک مارکیٹنگ کا پس منظر پاکستان میں ہر سال سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی پائپ لائن کے ذریعے فراہمی کی جانے والی قدرتی گیس کے دباؤ میں شدید کمی آ جاتی ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں کے ملحقہ علاقوں، شمالی جات، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں قدرتی گیس کی عدم دستیابی کے باعث لوگ مائع پیٹرولیم گیس کے استعمال پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند غیر قانونی اور منافع خور عناصر مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں۔ اس سال سردی کی باقاعدہ شروعات سے پہلے ہی رسد اور طلب میں پیدا ہونے والے اس مصنوعی خلا کا فائدہ اٹھا کر گیس کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی گئی ہے۔ اس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں: قدرتی گیس کی قلت کا پیشگی خوف: شہریوں کی جانب سے قبل از وقت سلنڈر بھروانے کا رجحان بڑھ گیا ہے جس کا تاجر ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی عدم توجہی: ضلعی سطح پر بازاروں کی نگرانی اور سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد کروانے کا مؤثر طریقہ کار نافذ نہیں ہو سکا۔ درآمدی گیس کے مطالبات: نجی تاجروں اور کمپنیوں کا مؤقف ہوتا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات مقامی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ مختلف شہروں میں صورتحال کا جائزہ ملک کے صنعتی اور تجارتی مرکز کراچی سے لے کر خیبر پختونخوا کے دور افتادہ علاقوں تک، ہر جگہ گیس کے نرخ مختلف اور ہوش ربا ہیں۔ پنجاب کے بڑے شہر (لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد): ان شہروں کے گنجان آباد علاقوں میں گیس 450 سے 550 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بیشتر دکانداروں نے سرکاری ریٹ لسٹ آویزاں ہی نہیں کی ہوئی اور اعتراض کرنے پر گیس دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ شمالی علاقہ جات اور کے پی کے: سوات، دیر، گلگت بلتستان اور پشاور کے اطراف میں جہاں ٹھنڈ کی شدت جلدی بڑھ جاتی ہے، گیس کی قیمتیں 650 سے 750 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کے دور دراز اضلاع: بلوچستان کے دیہی اضلاع اور اندرونِ سندھ میں جہاں قدرتی گیس کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے، وہاں عام شہریوں کے پاس کھانا پکانے اور گرمائش کے لیے یہی واحد ذریعہ ہے، جہاں ان سے اضافی کرایوں کا بہانہ بنا کر شدید گراں فروشی کی جا رہی ہے۔ عام عوام اور چھوٹے تاجروں پر اثرات گیس کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دہاڑی دار مزدوروں، کم آمدنی والے خاندانوں اور درمیانے طبقے کے لیے باورچی خانے کے اخراجات کو سنبھالنا اب ایک کارِ دشوار بن چکا ہے۔ گھریلو بجٹ پر اثر: ایک عام پانچ سے چھ افراد کے کنبے کو مہینے میں کم از کم ایک یا دو سلنڈر درکار ہوتے ہیں۔ 700 روپے فی کلو کے حساب سے ایک سلنڈر پر 8 ہزار روپے سے زیادہ کا خرچ آتا ہے، جو کہ ایک غریب مزدور کی ماہانہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ نگل جاتا ہے۔ کوئلہ اور لکڑی کے استعمال میں اضافہ: گیس کی پہنچ سے دور ہونے کے باعث دیہی علاقوں میں لوگ ایک بار پھر لکڑیاں اور کوئلہ جلانے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے بلکہ صحت کے شدید مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ چھوٹے ہوٹل اور تندور: چھوٹے ڈھابوں، چائے کے ہوٹلوں اور تندور مالکان نے بھی گیس مہنگی ہونے کا بہانہ بنا کر روٹی اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کا بوجھ بھی بالآخر عام صارف پر ہی پڑتا ہے۔ ریگولیٹری ادارے اور انتظامیہ کا موقف اوگرا کے ذرائع کے مطابق ادارہ ہر ماہ عالمی منڈی کی قیمتوں اور مقامی پیداوار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایل پی جی کی شفاف قیمت کا تعین کرتا ہے اور اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ ادارے کی ذمہ داری قیمت طے کرنا ہے، جبکہ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ (پرائس کنٹرول مجسٹریٹس) کی یہ قانونی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بازاروں میں ان قیمتوں کا اجرا یقینی بنائیں۔ دوسری جانب گیس ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اوگرا کی قیمتیں حقیقت سے دور ہوتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مقامی پیداوار ملک کی کل ضرورت کا صرف ایک حصہ پوری کرتی ہے، جبکہ باقی گیس باہر سے منگوائی جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹ، لیوی اور دیگر اخراجات شامل کرنے کے بعد 279 روپے فی کلو پر گیس فروخت کرنا ان کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ تاجروں کی اس دلیل کے باوجود 450 سے 750 روپے کا ریٹ وصول کرنا کھلم کھلا منافع خوری اور استحصال ہے۔ آئندہ کے ممکنہ اثرات اور تجاویز اگر گیس کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور سخت انتظامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو جیسے جیسے شدید سردی کا آغاز ہوگا، یہ بحران ایک شدید انسانی اور معاشی روپ دھار سکتا ہے۔ ماہرین نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے درج ذیل اقدامات کی نشاندہی کی ہے: پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا متحرک ہونا: تمام اضلاع کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ گیس فروخت کرنے والی تمام دکانوں پر اوگرا کے نرخ نامے آویزاں کروائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے اور گرفتاریوں جیسے سخت اقدامات کریں۔ غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ: انٹیلی جنس اور مقامی پولیس کے ذریعے ان گوداموں اور پلانٹس پر چھاپے مارے جائیں جہاں گیس کو روک کر مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے۔ رسد میں اضافہ: حکومت کو چاہیے کہ وہ سردیوں سے قبل ہی گیس کی مناسب مقدار میں فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ بازار میں طلب اور رسد کا توازن قائم رہے اور من مانے نرخوں کو روکا جا سکے۔ نتیجہ ملک میں اکتوبر کے مہینے ہی سے ایل پی جی کی قیمتوں میں 750 روپے فی کلو تک کا بے تحاشا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ پر انتظامی کنٹرول انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔ ایک طرف جہاں اوگرا کی 279 روپے کی سرکاری قیمت صرف کاغذات تک محدود نظر آتی ہے، وہیں دوسری طرف عوام بے یار و مددگار منافع خوروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اگر حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے مل کر اس مسئلے کا فوری اور پائیدار حل نہ نکالا تو آنے والی شدید سردیوں میں غریب اور درمیانے طبقے کے لیے اپنے چولہے جلائے رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ Post navigation وفاق کے ساتھ ہم آہنگی اور باہمی تعاون خیبرپختونخوا کی ترقی کا واحد راستہ ہے: گورنر فیصل کریم کنڈی کا صوابی میں میڈیا سے خطاب سینئر صحافی سردار عزیز الرحمن کے جوان سال بیٹے کی ناگہانی وفات: صحافتی برادری اور عوامی حلقوں کا گہرے غم و غصے اور تعزیت کا اظہار