Preloader
Young son died of a journalist

اہم نکات (خلاصہ)

  • ملک کے معروف و سینئر صحافی سردار عزیز الرحمن کے جوان سال بیٹے اچانک وفات پا گئے، جس کے باعث صحافتی و سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
  • جوان سال بیٹے کی ناگہانی موت کے بعد والد اور اہل خانہ شدید غم نڈھال ہیں، جبکہ مرحوم کی نمازِ جنازہ میں صحافیوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
  • صحافتی تنظیموں، تعزیتی ایوانوں اور برجستہ شخصیات نے سردار عزیز الرحمن اور ان کے خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
  • ماہرینِ نفسیات اور معززینِ شہر کے مطابق جوان اولاد کا مفارقت کا صدمہ انسان کے لیے سخت ترین آزمائش ہے جس پر صبر اور اجتماعی ہمدردی ہی واحد سہارا بنتی ہے۔

اسلام آباد / راولپنڈی: پاکستان کے صحافتی افق پر طویل عرصے سے نمایاں خدمات سر انجام دینے والے معزز و سینئر صحافی سردار عزیز الرحمن پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ان کے جوان سال بیٹے کی اچانک اور ناگہانی وفات نے نہ صرف ان کے گھرانے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ پورے صحافتی قبیلے اور واقف کاروں میں رنج و الم کی فضا پیدا کر دی ہے۔

کسی بھی باپ کے لیے اپنی زندگی میں اپنے جوان بیٹے کا جنازہ اٹھانا کائنات کا سب سے بھاری اور دردناک ترین لمحہ ہوتا ہے۔ اس ناگہانی حادثے کی خبر جیسے ہی عام ہوئی، ذرائع ابلاغ، صحافتی تنظیموں اور تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں نے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

حادثے کی تفصیلات اور جنازے کا منظر

ابتدائی اطلاعات کے مطابق سینئر صحافی سردار عزیز الرحمن کے فرزند اچانک طبیعت بگڑنے يا ناگہانی سبب کی وجہ سے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ بیٹے کی ناگہانی رحلت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے صحافتی برادری، سیاسی و سماجی رہنما، اور رشتہ دار ان کی رہائش گاہ پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔

نمازِ جنازہ کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ ایک بوڑھا اور باوقار صحافی والد، جس نے اپنی پوری زندگی معاشرے کی آواز بننے اور دوسروں کے دکھ سکھ قلمبند کرنے میں گزاری، آج اپنے ہی جوان بیٹے کی میت کے سامنے صدمے سے نڈھال دکھائی دیا۔ جنازے میں شریک تمام افراد کی آنکھیں اشکبار تھیں اور ہر شخص اس صبر آزما گھڑی میں متاثرہ والد کی ہمت اور حوصلے کے لیے دعا گو نظر آیا۔

صحافتی برادری اور ممتاز شخصیات کا اظہارِ تعزیت

سردار عزیز الرحمن کی صحافت کے میدان میں طویل خدمات اور ان کے دوستانہ اخلاق کے باعث ملک بھر کی صحافتی تنظیموں اور اہم شخصیات نے اس سانحے پر اپنے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔

تعزیتی بیانات اور پیغامات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • صحافتی تنظیموں کا تعزیتی اجلاس: مختلف پریس کلبوں اور صحافی یونینز نے ہنگامی تعزیتی اجلاس منعقد کیے جن میں مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور سردار عزیز الرحمن سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔
  • سیاسی و سماجی شخصیات کی آمد: مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے جنازے اور تعزیتی مجلس میں شرکت کی اور سردار عزیز الرحمن سے ملاقات کر کے ان کا غم بانٹا۔
  • آن لائن اور عوامی تعزیت: پیام رسانی کی سائٹس اور ابلاغی ذرائع پر ہزاروں افراد نے تعزیتی پیغامات جاری کیے، جن میں مرحوم کے لیے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔

جوان اولاد کا صدمہ: نفسیاتی اور سماجی پس منظر

اخلاقی و انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے تو جوان بیٹے یا بیٹی کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا انسان کے اعصاب اور دل کے لیے سب سے بڑا امتحان شمار ہوتا ہے۔ والدین اپنی تمام تر امیدیں، محنت اور مستقبل کے خواب اپنی اولاد سے وابستہ کرتے ہیں، اور جب وہ خواب اچانک بکھر جاتے ہیں تو اس سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہو سکتا۔

علمِ نفسیات اور معاشرتی ماہرین اس نوعیت کے صدمات پر درج ذیل پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں:

  1. عظیم ترین نفسیاتی دباؤ: جوان اولاد کا نقصان کسی بھی انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، جس کے لیے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کی مسلسل جذباتی حمایت انتہائی ضروری ہوتی ہے۔
  2. اجتماعی ہمدردی کا کردار: جب کوئی خاندان اتنے بڑے حادثے سے گزرتا ہے تو برادری، رشتہ داروں اور ساتھیوں کا ساتھ اور تسلی ان کے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
  3. صبر اور مذہبی سہارا: ایسے سخت اور روح فرسا مواقع پر مذہبی عقائد اور اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہنا ہی انسان کو ہمت اور استقامت فراہم کرتا ہے۔

سردار عزیز الرحمن کی صحافتی خدمات اور تعلقات

سردار عزیز الرحمن کا شمار ملک کے ان سنجیدہ اور باوقار صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ سچائی، معروضیت اور صحافتی اخلاقیات کے پاسداری کی۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کے دوران عوام کے حقوق کی ترجمانی کی، درپیش مسائل کو اجاگر کیا اور نوزائیدہ صحافیوں کی رہنمائی کی۔

ان کی اس طویل اور بے لوث صحافتی جدوجہد کے باعث ہی آج پوری صحافتی برادری ان کے اس ذاتی اور عظیم صدمے کو اپنا صدمہ قرار دے رہی ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ سردار صاحب نے ہمیشہ دوسروں کے غم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اور آج جب ان پر یہ امتحان آیا ہے تو پورا صحافتی قبیلہ ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

لواحقین کے لیے دعائیہ کلمات اور ایڈیٹوریل نوٹ

اس انتہائی غمگین اور دردناک موقع پر صحافتی برادری اور تمام طبقہ ہائے فکر کی جانب سے یہ دعا کی جا رہی ہے کہ اللہ رب العزت مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی خطاؤں کو معاف فرما کر انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام بخشے۔

ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہیں کہ وہ محترم صحافی سردار عزیز الرحمن، ان کی اہلیہ اور تمام پس ماندگان کو اس ناقابلِ تلافی اور صبر آزما صدمے کو برداشت کرنے کے لیے ہمت، جرات اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

نتیجہ

زندگی اور موت کا نظام مکمل طور پر خالقِ حقیقی کے ہاتھ میں ہے، اور ہر انسان کو ایک مقررہ وقت پر اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ تاہم، کچھ جودائی اور مفارقتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے زخم وقت کے ساتھ بھی نہیں بھرتے۔ سینئر صحافی سردار عزیز الرحمن کے جوان سال بیٹے کی ناگہانی وفات ایک ایسا ہی غم ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ اس مشکل گھڑی میں پوری قوم اور بالخصوص صحافتی برادری اپنے محترم ساتھی کے ساتھ برابر کے غم میں شریک ہے اور ان کے لیے ہمت و استقامت کی خواہا ہے۔