Preloader
Ex army chief Waheed Kakar died

خلاصہ (اہم نکات)

  • افسوسناک خبر: پاکستان کے سابق سپہ سالار جنرل (رٹائرڈ) عبدالحق وحید کاکڑ داغِ مفارقت دے گئے، ملک بھر کی سیاسی و عسکری قیادت کا گہرے دکھ کا اظہار۔
  • نمازِ جنازہ اور تدفین: مرحوم کی نمازِ جنازہ راولپنڈی کے ریس کورس آرمی قبرستان میں ادا کی گئی جس میں اعلیٰ عسکری و شہری حکام کی شرکت۔
  • تاریخی کردار: جنرل وحید کاکڑ ننوے کی دہائی کے مشہور “کاکڑ فارمولا” اور سیاسی بحران کے تصفیے کے لیے اپنی غیر جانبدارانہ اور اصولی حکمتِ عملی کی وجہ سے معروف تھے۔
  • شاندار عسکری خدمات: پاک فوج کے لیے ان کی دہائیوں پر محیط خدمات، پیشہ ورانہ مہارت اور ملک کے دفاع کے لیے دیے گئے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

خبر کا پس منظر: جنرل (رٹائرڈ) وحید کاکڑ کا دورِ حیات اور عسکری سفر

پاکستان کی عسکری تاریخ میں جنرل عبدالحق وحید کاکڑ کا شمار ان چند انتہائی باوقار، پیشہ ور اور زیرک سپہ سالاروں میں ہوتا ہے جن انہوں نے اپنے دور میں نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کا حق ادا کیا بلکہ ملک کو آئینی و سیاسی بحرانوں سے نکالنے میں بھی کلیدی اور غیر جانبدارانہ کردار ادا کیا۔

جنرل وحید کاکڑ پٹھانوں کے کاکڑ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی پیدائش کوئٹہ کے ایک معروف خاندانی پس منظر میں ہوئی تھی۔ انہوں نے پاک فوج میں اپنی خدمات کا آغاز پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد 59th بلوچ رجمنٹ میں شمولیت کے ذریعے کیا۔ اپنے شاندار عسکری کیریئر کے دوران انہوں نے مختلف اہم کمانڈز، اسٹاف اور انسٹرکٹر کے عہدوں پر خدمات انجام دیں۔

ان کی بہترین انتظامی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ نظم و ضبط اور عسکری بصیرت کی بنا پر جنوری 1993ء میں سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی مفاجاتی وفات کے بعد انہیں پاکستان کا بارہواں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا گیا۔

رحلت اور نمازِ جنازہ کی تفصیلات

سابق آرمی چیف جنرل (رٹائرڈ) وحید کاکڑ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف طبی عوارض کی وجہ سے زیرِ علاج تھے اور بالآخر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات کی خبر کے ساتھ ہی ملک بھر میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی اور دفاعی و سیاسی حلقوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں واقع آرمی قبرستان ریس کورس میں ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں پاک فوج کے اعلیٰ حکام، سابق و موجودہ عسکری قیادت، اعلیٰ سول حکام اور مرحوک کے لواحقین و عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کی فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین عمل میں لائی گئی، جب کہ پاک فوج کی ایک چاق و چوبند ٹکڑی نے مرحوم کو سلامی پیش کی۔

سیاسی تاریخ میں “کاکڑ فارمولا” کا اہم کردار

پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ کا جب بھی مطالعہ کیا جاتا ہے، تو جولائی 1993ء کا وہ موڑ نمایاں طور پر سامنے آتا ہے جہاں ملک سخت ترین سیاسی تعطل اور بحران کا شکار ہو چکا تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدرِ مملکت غلام اسحاق خان کے درمیان شدید ترین اختلافات کے باعث حکومت اور مملکت کے اہم ادارے مفلوج ہو کر رہ گئے تھے۔

ایسے نازک ترین لمحے میں بطور آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اور مارشل لا لگائے بغیر دونوں شخصیات کو اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے پر آمادہ کیا۔ اس غیر جانبدارانہ سمجھوتے کو تاریخ میں “کاکڑ فارمولا” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

کاکڑ فارمولا کے بنیادی اثرات اور خصوصیات:

  1. مارشل لا کا گریز: آئین کو متزلزل کیے بغیر یا ملک پر راست عسکری حکومت قائم کیے بغیر بحران کا پرامن حل نکالا گیا۔
  2. برابری کی بنیاد پر استعفے: صدر اور وزیراعظم دونوں کے بیک وقت مستعفی ہونے سے ملک میں سیاسی طاقت کا توازن قائم ہوا۔
  3. شفاف انتخابات کی راہ ہموار: نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے ملک میں نئے اور شفاف عام انتخابات منعقد کرائے۔
  4. جمہوریت کا تسلسل: اس اقدام سے جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے اترنے سے بچ گئی اور اقتدار کی منتقلی پرامن طریقے سے ہوئی۔

پیشہ ورانہ اصول اور ادارے کی غیر جانبداری

جنرل وحید کاکڑ کی شخصیت کا سب سے بڑا پہلو ان کی کمگوئی، خود نمائی سے گریز اور ادارے کی پیشہ ورانہ غیر جانبداری تھی۔ اپنے تین سالہ دورِ نظامت (1993ء تا 1996ء) کے دوران انہوں نے آرمی کو سیاسی جوڑ توڑ سے دور رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔

انہوں نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں، جدید جنگی حکمت عملی اور جوانوں کی بہبود پر خصوصی توجہ دی۔ ان کے دور میں پاک فوج نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں بھی دنیا بھر میں نمایاں خدمات انجام دیں جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عسکری صلاحیت کا لوہا مانا گیا۔ 1996ء میں اپنی مدتِ ملازمت مکمل ہونے پر انہوں نے بغیر کسی توسیع کی درخواست کیے باوقار طریقے سے عہدہ اگلے چیف جنرل جہانگیر کرامت کے حوالے کر دیا اور مکمل طور پر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔

ملکی قیادت اور دفاعی حلقوں کی تعزیت

جنرل وحید کاکڑ کے انتقال پر ملک کی تمام اہم شخصیات نے اپنے تعزیتی پیغامات میں ان کی خدمات کو سراہا اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

  • صدر و وزیراعظم کے پیغامات: اعلیٰ حکومتی شخصیات نے اپنے پیغامات میں کہا کہ جنرل وحید کاکڑ نے نازک موقع پر ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں ایک سچے حب الوطن کا کردار ادا کیا۔
  • عسکری قیادت کا خراجِ تحسین: پاک فوج کے سپہ سالار اور دیگر اعلٰی افسران نے مرحوم کو ایک بہترین سالار، زیرک کمانڈر اور پیشہ ورانہ اصولوں پر کاربند رہنما کے طور پر یاد کیا۔

مستقبل پر اثرات اور تاریخ میں مقام

جنرل وحید کاکڑ کا انتقال پاکستان کے عسکری اور قومی تاریخ کے ایک اہم باب کا اختتام ہے۔ انہوں نے تاریخ کو یہ سبق دیا کہ بحرانی صورتحال میں بھی ذاتی مفادات یا اقتدار کی خواہش کے بجائے قومی مفاد اور آئینی پاسداری کو مقدم رکھنا ہی اصل قیادت کی پہچان ہوتی ہے۔

ان کا چھوڑا ہوا ورثہ، بالخصوص سیاسی عدم مداخلت اور درپیش چیلنجز کے دوران غیر جانبدارانہ کردار، آنے والے ادوار میں بھی پالیسی سازوں اور عسکری قیادت کے لیے ایک مشعلِ راہ رہے گا۔