Preloader
LAAM Fashion Week 2026 ends

اہم نکات

  • ثقافتی مرکز لاہور میں چار روز تک جاری رہنے والا ‘لام فیشن ویک 2026’ کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
  • اس چار روزہ نمائش میں ملک بھر کے 41 نامور ملبوسات سازوں اور فیشن برانڈز نے اپنے دلکش نمونے پیش کیے۔
  • اختتامی روز علی ذیشان، ارم خان، محترم اور ایچ ایس وائی جیسے نامور طراحوں (ڈیزائنرز) کے شاہکار ملبوسات کی نمائش کی گئی۔
  • فیشن ویک کی آخری نمائش میں معروف ترین ماڈل مهرین سید نے ایچ ایس وائی کے ‘وینس’ مجموعے کی مرکزی نمائش کنندہ (شو سٹاپر) کے طور پر جلوہ گر ہو کر تقریب کو چار چاند لگا دیے۔

تعارف

پاکستان کے ثقافتی اور فیشن کے دل، لاہور میں چار روز تک جاری رہنے والا فیشن کا سب سے بڑا میلہ ‘لام فیشن ویک 2026’ اپنے تمام تر رنگوں، جدت اور گلیمر کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ چار دنوں پر محیط اس پروقار اور شاندار تقریب نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی کپڑے کی صنعت سے وابستہ افراد کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروائی۔ اس نمائش میں روایتی نفاست، جدید طرزِ زندگی اور کپڑوں کی تیاری کے تخلیقی فن کا ایک انوکھا امتزاج دیکھنے کو ملا، جس نے پاکستان کی فیشن صنعت میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔

چار روزہ نمائش کا احوال اور ملبوسات سازوں کی شرکت

لام فیشن ویک 2026 کا بنیادی مقصد ملکی سطح پر ملبوسات کی صنعت کو فروغ دینا اور درپیش فیشن کے نئے رجحانات کو اجاگر کرنا تھا۔ اس چار روزہ میلے کے دوران روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر مبنی ریمپ شو منعقد کیے گئے جہاں جدت، روایت اور تخلیق کا دلفریب منظر دیکھنے کو ملا۔

اس فیشن ویک کی وسعت اور اہمیت کا اندازہ ذیل کے اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے:

  • مجموعی سیشنز اور ایام: چار دنوں تک جاری رہنے والے اس فیشن میلے میں روزانہ متعدد سیشنز منعقد کیے گئے۔
  • شامل برانڈز اور ڈیزائنرز: ملک بھر کے 41 معروف ملبوسات سازوں (ڈیزائنرز) اور برانڈز نے اپنے نایاب مجموعے پیش کیے۔
  • موضوعات کا تنوع: نمائش میں شادی بیاہ کے روایتی لباس، مغربی انداز، سادہ روزمرہ کے ملبوسات اور مردانہ کپڑوں کی شاندار قسمیں شامل کی گئی تھیں۔
  • پیش کاروں اور ماڈلز کی تعداد: سو سے زائد معروف ماڈلز نے ریمپ پر ان تیار کردہ ملبوسات کی نمائش کی اور شائقین سے داد حاصل کی۔

اختتامی روز کی پرشکوہ محفل اور نمایاں فنکار

فیشن ویک کا چوتھا اور آخری روز واقعی ایک یادگار شام ثابت ہوا۔ اس اخری دن ملک کے ان نامور اداروں اور طراحوں کے ملبوسات پیش کیے گئے جن کا شمار پاکستان کی فیشن صنعت کے بانیوں اور صفِ اول کے فنکاروں میں ہوتا ہے۔

آخری دن جن نمایاں ملبوسات سازوں نے اپنے شاہکار ریمپ کی زینت بنائے، ان کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے:

  1. علی ذیشان: اپنے منفرد، روایتی اور بولڈ طرز کے لیے پہچانے جانے والے علی ذیشان نے اپنے مجموعے میں پاکستان کے قدیم ثقافتی رنگوں اور کڑھائی کے روایتی انداز کو جدید تراش خراش کے ساتھ پیش کیا۔
  2. ارم خان: ارم خان کے تیار کردہ ملبوسات میں خواتین کی نفاست، ملائم رنگوں کے استعمال اور نازک کام کی جھلک نمایاں تھی، جسے حاضری کی جانب سے بے حد سراہا گیا۔
  3. محترم: مردانہ ملبوسات کے معروف برانڈ ‘محترم’ نے مردوں کی فیشن کی دنیا میں نئی جدت متعارف کروائی، جس میں شاندار شیروانیاں، سوٹ اور روایتی ویسٹ کوٹ شامل تھے۔
  4. ایچ ایس وائی (حسن شہریار یاسین): تقریب کے آخری حصے میں ایچ ایس وائی کے پرشکوہ مجموعے نے تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

‘وینس’ مجموعہ اور مهرین سید کی مرکزی جلوہ گری

اختیتامی روز کی سب سے بڑی کشش ایچ ایس وائی کا نیا پیش کردہ ملبوساتی مجموعہ تھا جس کا نام ‘وینس’ رکھا گیا تھا۔ اس مجموعے میں کلاسیکی حسن، رومانی رنگوں اور شاہانہ کڑھائی کا ایسا بساط بچھایا گیا تھا جس نے ہال میں موجود ہر شخص کو سحر انگیز کر دیا۔

اس آخری شو کا سب سے خاص اور یادگار لمحہ وہ تھا جب ملک کی نامور اور تجربہ کار ماڈل مهرین سید نے ایچ ایس وائی کے ‘وینس’ مجموعے کی مرکزی نمائندہ اور شو سٹاپر کے طور پر ریمپ پر قدم رکھا۔ ان کی پروقار چال، دلکش انداز اور شاہانہ لباس نے اس چار روزہ میلے کو ایک انتہائی شاندار اور تاریخی اختتام فراہم کیا۔ ان کے ریمپ پر آتے ہی ہال تالیوں کی گونج سے گونج اٹھا۔

فیشن صنعت کا پس منظر اور معاشی اثرات

پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان کی فیشن اور کپڑے کی صنعت نے تکنیکی اور تجارتی لحاظ سے بے پناہ ترقی کی ہے۔ لاہور، جو ہمیشہ سے آرٹ اور کپڑوں کی صنعت کا مرکز رہا ہے، ایسے بڑے فیشن ویک کی میزبانی کر کے بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا رہا ہے۔

‘لام’ جیسے بڑے ڈیجیٹل اور تجارتی پلیٹ فارم کا یہ اقدام پاکستان کی مقامی صنعت کے لیے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر انتہائی اہم اثرات کا حامل ہے:

  • مقامی صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی: چھوٹے اور نئے ابھرتے ہوئے ملبوسات سازوں کو ملک کے بڑے ناموں کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنے کام کی نمائش کا موقع ملتا ہے۔
  • ڈیجیٹل تجارت کو فروغ: فیشن ویک کے ذریعے دکھائے جانے والے ملبوسات اب فوری طور پر انٹرنیٹ پر خریداری کے لیے دستیاب ہوتے ہیں، جس سے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانیوں کے لیے خرید و فروخت آسان ہو جاتی ہے۔
  • صنعت کاروں اور کاریگروں کے روزگار میں اضافہ: اس طرح کی نمائشوں سے کپڑے کی بٹی، کڑھائی کرنے والے دستکاروں، درزیوں اور ماڈلنگ سے وابستہ افراد کو روزگار کے وسیع مواقع میسر آتے ہیں۔
  • بین الاقوامی سطح پر مثبت امیج: پاکستان کی فیشن صنعت کے یہ عالمی معیار کے شو ملک کے نرم اور مثبت پہلو کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایڈیٹوریل نوٹس اور حتمی جائزہ

ایک صحافتی تجزیے کے مطابق ‘لام فیشن ویک 2026’ محض ایک گلیمر شو یا تفریحی تقریب نہیں تھی، بلکہ یہ پاکستان کی ملبوسات کی صنعت کی مضبوطی اور اس کے تابناک مستقبل کا واضح ثبوت ہے۔ 41 برانڈز کا ایک ساتھ ایک ہی چھت تلے جمع ہونا اور اتنی بڑی سطح پر کامیابی سے تقریب کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانی فیشن کی دنیا میں پیشہ ورانہ مہارت اب عالمی معیار کے برابر پہنچ چکی ہے۔

لاہور کے اس چار روزہ میلے نے فیشن کے شائقین کو آنے والے موسم کے لیے نئے رجحانات اور انداز فراہم کر دیے ہیں۔ آخری شام میں ستاروں کی جھلملاہٹ اور فنکاروں کی یکجہتی نے یہ ثابت کر دیا کہ آسٹریلیا سے لے کر ایشیا تک، فیشن کی دنیا میں پاکستان کا نام اور معیار مسلسل بلندیوں کی جانب گامزن ہے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔