اہم نکات (خلاصہ) عدالتی فیصلہ: پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے ذیلی تنظیم انصاف لیبر وِنگ ہری پور کے ضلعی صدر عبدالوہاب سمیت 11 سے زائد کارکنان کی ضمانتیں منظور کر کے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔ قانونی پیش رفت: انصاف لائرز فورم کی فری لیگل ایڈ کمیٹی نے عدالت عالیہ میں کل 13 مختلف مقدمات میں قیدی کارکنان کی وکالت کی اور مؤثر قانونی دلائل پیش کیے اور ریلیف حاصل کیا۔ حکام کو نوٹس: دو سیاسی کارکنان کے حبسِ بے جا اور ڈیٹینشن آرڈرز کی کاپی عدم فراہم کرنے پر عدالت نے ڈپٹی کمشنر ہری پور کو کمنٹس جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ سیاسی و قانونی پس منظر: خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیاسی رہنماؤں، کارکنان پر قائم مقدمات اور امن و امان کے نام پر نافذ کی جانے والی نظر بندیوں کے خلاف عدالتی ریلیف کو کارکنان کے اہل خانہ کے لیے بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایبٹ آباد: عدالت عالیہ کا اہم فیصلہ اور کارکنان کی رہائی پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے ہری پور اور اس کے گرد و نواح سے گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے انصاف لیبر وِنگ کے ضلعی صدر عبدالوہاب سمیت متعدد کارکنان کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے بعد طویل عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے سیاسی کارکنان اور ان کے خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران انصاف لائرز فورم کی جانب سے قائم کردہ فری لیگل ایڈ کمیٹی نے قیدیوں کی قانونی نمائندگی کی، جس کی قیادت انصاف لائرز فورم کے ضلعی صدر مظہر فاروق کر رہے تھے۔ عدالت عالیہ میں دائر کردہ درخواستوں پر تفصیلی سماعت ہوئی جہاں وکلاء صفائی کے دلائل سنتے ہوئے فاضل عدالت نے گرفتار شدگان کو فی کس ضمانت نامے جمع کرانے کی شرط پر رہائی دینے کا حکم سنایا۔ قانونی معرکہ اور عدالتی دلائل کی تفاصیل گزشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران انصاف لائرز فورم کے تحت کل 13 مقدمات عدالت عالیہ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر تھے۔ ان مقدمات میں گرفتار کارکنان پر مختلف نوعیت کے الزام عائد کیے گئے تھے اور ان کی انتظامی و پولیس تحویل کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت کے روبرو پاکستان تحریک انصاف اور ملزمان کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ایڈووکیٹ شعیب علی، ایڈووکیٹ مظہر فاروق اور ان کی سرپرستی میں کام کرنے والی پینل کی قانونی ٹیم نے مؤثر دلائل پیش کیے۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے افراد پر قائم کیے گئے مقدمات سیاسی انتقام پر مبنی ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل میں قانونی سقم موجود ہے۔ وکلاء صفائی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ آئینِ پاکستان کے تحت ہر شہری کو پُرامن سیاسی سرگرمی کا بنیادی حق حاصل ہے اور بلاوجہ کی گرفتاری آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فاضل عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وکلاء کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے ملزمان کی ضمانتیں منظور کرنے کا حکم دیا اور متعلقہ جیل حکام کو ہدایت کی کہ اگر یہ افراد کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر آزاد کر دیا جائے۔ ضمانت پر رہائی پانے والے افراد کی فہرست عدالتی حکم کے مطابق جن سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کی ضمانت منظور کی گئی ہے ان میں اہم عہدے دار اور سرگرم کارکنان شامل ہیں: عبدالوہاب (ضلعی صدر، انصاف لیبر وِنگ ہری پور) زبیر مسلم دین آصف حسین شاہ عباس خان محمد صدیق محمد ساجد فضل مالک نزاکت محمد اکرم اظہر جمیل ان تمام افراد کے وکلاء نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے موکلین عدالتی کارروائی میں مکمل تعاون کریں گے اور آئندہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ڈپٹی کمشنر ہری پور کو نوٹس اور آئندہ سماعت کی تاریخ جہاں ایک طرف 11 کارکنان کی ضمانتیں منظور کر لی گئیں، وہی دوسری جانب دو کارکنان یعنی محمد مشتاق اور اکبر علی کے مقدمات میں ایک اہم قانونی رکاوٹ سامنے آئی۔ وکلاء صفائی نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ انتظامیہ کی جانب سے ان دونوں کارکنان کے ڈیٹینشن آرڈرز (نظر بندی کے احکامات) کی کاپی تاحال فراہم نہیں کی گئی۔ اس پر عدالت عالیہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہری پور کو تحریری جواب اور کمنٹس جمع کرانے کا نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے انتظامیہ سے جواب طلب کرتے ہوئے اس معاملے کی مزید سماعت کے لیے 3 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ قانون کے ماہرین کا ماننا ہے کہ حبسِ بے جا اور ڈیٹینشن آرڈرز کے سلسلے میں عدالتی سختی سے انتظامیہ پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ تمام کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہ کر سرانجام دے۔ انصاف لائرز فورم کی مفت قانونی معاونت کا کردار ہری پور اور ہزارہ ڈویژن میں پاکستان تحریک انصاف کے قید کارکنان کی رہائی کے لیے انصاف لائرز فورم کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ فری لیگل ایڈ کمیٹی کے تحت مظہر فاروق ایڈووکیٹ اور شعیب علی ایڈووکیٹ نے مسلسل عدالتوں سے رجوع کر کے غریب اور عام کارکنان کو مفت قانونی امداد فراہم کی ہے۔ مقامی سطح پر اس اقدام کو بے حد سراہا جا رہا ہے، کیونکہ کئی ایسے کارکنان موجود تھے جو بھاری عدالتی اور قانونی اخراجات برداشت کرنے سے قاصر تھے۔ لیگل ایڈ کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ تب تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک ہر بے گناہ اور سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیے گئے کارکن کو قانونی ریلیف نہیں مل جاتا۔ سیاسی اور علاقائی اثرات کا جائزہ خیبر پختونخوا اور بالخصوص ہزارہ ریجن میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے مختلف وقتوں میں سیاسی کارکنوں کے خلاف 3 ایم پی او (تھری ایم پی او) اور دیگر قوانین کے تحت اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم پشاور ہائی کورٹ کے اس حالیہ فیصلے سے چند اہم سیاسی اور انتظامی نتائج مرتب ہونے کا امکان ہے: انتظامی اختیارات کا عدالتی جائزہ: پشاور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ نظر بندی اور گرفتاری کے احکامات آئینی جانچ پڑتال کے تابع ہیں، اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے شہریوں کو قید میں رکھنا ممکن نہیں۔ کارکنان کے حوصلوں میں اضافہ: ضلعی صدر عبدالوہاب سمیت دیگر سرکردہ رہنماؤں کی رہائی سے انصاف لیبر ونگ اور تحریک انصاف کے مقامی کارکنان کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ انتظامیہ کے لیے تنبیہ: 3 نومبر کو ڈپٹی کمشنر ہری پور سے مانگی گئی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ عدلیہ کا مقصد انتظامیہ کی جواب دہی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری کی جا سکے۔ نتیجہ اور اگلا لائحہ عمل پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ کے فیصلے نے قانون کی بالادستی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو ایک بار پھر نصرت فراہم کی ہے۔ ملزمان کی ضمانتیں منظور ہونا انصاف لائرز فورم کی کاوشوں کا مظہر ہے۔ اب تمام نظریں 3 نومبر کو ہونے والی آئندہ سماعت پر ٹکی ہیں جہاں ڈپٹی کمشنر ہری پور کا جمع کردہ جواب باقی دو کارکنان، محمد مشتاق اور اکبر علی، کی آزادی اور ان کے قانونی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ مقامی سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے قانونی راستے سے حاصل ہونے والا یہ ریلیف علاقے میں سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور قانونی عمل پر عوام کا اعتماد قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ Post navigation ہری پور سنٹرل جیل میں پاسنگ آؤٹ پریڈ: 155 نئے وارڈرز عملی میدان میں داخل، آئی جی جیل خانہ جات کا نظام کی بہتری پر زور ہری پور: پنیاں کے قریب مسافر گاڑیوں میں خوفناک تصادم، خواتین اور جوانوں سمیت 8 افراد شدید زخمی