Preloader
World Bank Report on poverty

اہم نکات:

  • بھارت کی کامیابی: سال 2011 سے 2023 کے دوران بھارت میں انتہائی غربت کی شرح 27 فیصد سے گھٹ کر محض 2.6 فیصد رہ گئی۔
  • پاکستان کا بحران: پاکستان میں 2018 کے بعد سے غربت میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار ہے، جہاں شدید غربت 23 فیصد کی تشویشناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔
  • بنیادی عوامل: بھارت میں جامع معاشی اصلاحات، جدید نظام، اور مسلسل شرحِ نمو جبکہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، مہنگائی اور قدرتی آفات غربت کی بنیادی وجوہات ہیں۔
  • علاقائی اثرات: جنوبی ایشیا میں معاشی عدم توازن بڑھ رہا ہے، جس کے باعث معاشی پائیداری اور سماجی تحفظ کے اقدامات پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

جنوبی ایشیا کا معاشی منظر نامہ اور عالمی بینک کے انکشافات

عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ نے جنوبی ایشیا کی دو بڑی معیشتوں—پاکستان اور بھارت—کے اقتصادی حالات کا ایک تقابلی اور چونکا دینے والا منظر نامہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاں ایک طرف بھارت نے گزشتہ ایک دہائی میں اپنی حکمتِ عملی اور مسلسل معاشی پیشرفت کے باعث کروڑوں انسانوں کو خطِ غربت سے باہر نکالا ہے، وہی دوسری طرف پاکستان میں سیاسی ناہمواری اور اقتصادی چیلنجوں کے باعث غریب طبقے کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ رپورٹ دونوں ممالک میں پالیسی سازی، حکومتی اصلاحات، اور بین الاقوامی شراکت داری کے نتائج کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ عالمی ادارے کی طرف سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار نہ صرف موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ آنے والے دنوں میں خطے کے سماجی و معاشی استحکام پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بھارت میں انتہائی غربت میں تاریخی کمی: ایک معاشی معجزہ؟

عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2011 سے 2023 کے درمیانی عرصے میں بھارت نے معاشی میدان میں معرکہ آرائی کی ہے۔ اس عرصے کے دوران بھارت میں شدید غربت کی شرح 27 فیصد سے گر کر محض 2.6 فیصد پر آ گئی ہے۔

اس ڈرامائی اور غیر معمولی کمی کی پسِ پردہ چند بنیادی اور کلیدی وجوہات درج ذیل ہیں:

  • جدید بنیادوں پر مالی شمولیت: کروڑوں شہریوں کو براہ راست بینکنگ کے نظام سے جوڑا گیا، جس سے حکومتی امداد اور مراعات بلا واسطہ مستحقین تک پہنچیں۔
  • بنیادی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری: سڑکوں، توانائی، پانی، اور مواصلات کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے۔
  • صنعتی و تکنیکی پیشرفت: اندرونی پیداوار کو فروغ دیا گیا اور عالمی سرمایہ کاروں کو ملک میں کارخانے لگانے کی ترغیب دی گئی۔
  • غذائی اور سماجی تحفظ کے پروگرام: دیہی علاقوں میں غریب خاندانوں کے لیے کم از کم روزگار اور انتہائی سستے اناج کی فراہمی کے جامع اور شفاف منصوبے عمل میں لائے گئے۔

ان تمام اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف دیہی اور شہری علاقوں میں معاشی تفاوت کم ہوا، بلکہ ملک کی عمومی خریدارانہ صلاحیت میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

پاکستان میں 2018 کے بعد سے غربت میں مسلسل اضافہ

اس کے برعکس، پاکستان میں سال 2018 کے بعد سے معاشی حالات مسلسل گراوٹ کا شکار رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں انتہائی غربت کی شرح 23 فیصد کی خطرناک حد کو چھو رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک کی ایک بڑی آبادی بنیادی انسانی ضروریات جیسے کہ خوراک، صاف پانی، علاج اور تعلیم سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان میں اس منفی رجحان اور بڑھتی ہوئی غربت کی اہم وجوہات کچھ اس طرح ہیں:

  • سیاسی اور پالیسی کا عدم استحکام: مسلسل بدلتی ہوئی حکومتوں اور پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان نے غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید ٹھیکرا پہنچایا۔
  • بڑھتی ہوئی افراطِ زر اور مہنگائی: روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔
  • قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیاں: سال 2022 کے تباہ کن سیلاب نے زراعت، مال مویشی اور دیہی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے کروڑوں افراد راتوں رات خطِ غربت سے نیچے چلے گئے۔
  • توانائی کے بحران اور صنعتی سست روی: بجلی و گیس کی بلند قیمتوں کے باعث کثیر تعداد میں کارخانے بند یا محدود ہوئے، جس سے بے روزگاری کے تناسب میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار کا ایک نظر میں تقابلی جائزہ

دونوں ممالک کی معاشی سمت اور صورتحال کو سمجھنے کے لیے عالمی بینک کی رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کا موازنہ درج ذیل نکات میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:

  • بھارت میں غریب طبقے کی شرح (2011): 27 فیصد
  • بھارت میں غریب طبقے کی شرح (2023): 2.6 فیصد (تقریباً 24.4 فیصد کی تاریخی کمی)
  • پاکستان میں موجودہ شدید غربت کی شرح: 23 فیصد (2018 کے بعد سے مسلسل معاشی انحطاط کا نتیجہ)
  • بنیادی فرق: بھارت میں سالانہ معاشی نمو اور مضبوط اصلاحات، جبکہ پاکستان میں معاشی سست روی اور قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ۔

مستقبل کے اثرات اور درپیش چیلنجز

عالمی بینک کی یہ رپورٹ دونوں ممالک کی آئندہ سمت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ بھارت کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج اس معاشی پیشرفت کو برقرار رکھنا اور بچے ہوئے 2.6 فیصد طبقے کو بھی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگا۔ علاوہ ازیں، بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ معیاری تعلیم اور روزگار کی فراہمی کو متوازن رکھنا ہوگا۔

دوسری جانب، پاکستان کے لیے یہ اعداد و شمار ایک خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اگر فوری طور پر سنجیدہ اور پائیدار معاشی اقدامات نہ کیے گئے تو سماجی بے چینی، جرائم کی شرح میں اضافہ، اور معاشی عدم مساوات مزید سنگین روپ دھار سکتی ہے۔

سفارشات اور حل کا راستہ

معاشی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کا متفقہ طور پر ماننا ہے کہ پاکستان کو اس دلدل سے نکلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل اقدامات کرنا ہوں گے:

  1. پالیسیوں کا تسلسل: معاشی پالیسیوں کو سیاسی کشمکش سے بالاتر کر کے طویل المدتی منصوبے تشکیل دیے جائیں۔
  2. سماجی تحفظ کے فنڈز کی شفافیت: غریب ترین طبقے تک امداد کی شفاف اور بلا تاخیر رسائی ممکن بنائی جائے۔
  3. زراعت اور مقامی صنعت کی سرپرستی: زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے اور مقامی پیداوار کو بڑھا کر درآمدات پر انحصار کم کیا جائے۔
  4. سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول: سرمایہ کاروں کو آسانیاں فراہم کی جائیں تاکہ نئے کارخانے کھلیں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

جنوبی ایشیا کی معاشی توازن کو بحال کرنے اور عوام کو غربت کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے ٹھوس، شفاف اور بلا تفریق اصلاحات ہی واحد راستہ ہیں۔